سپریم کورٹ کا گلشن اقبال میں ریلوے اراضی سے فوری قبضہ ختم کرانے کا حکم

اپ ڈیٹ 21 فروری 2020 10:14am
فائل فوٹو

کراچی :سپریم کورٹ نے سیکریٹری ریلوے کو گلشن اقبال میں ریلوے اراضی سے فوری قبضہ ختم کرانے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزر احمد کی سربراہی میں بینچ نے سرکلر ریلوے کی بحالی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ یہ سب آپ کا کیا دھرا ہے  ، گرین لائن کی وجہ سی بھی اذیت دے رہے ہیں، ٹریفک کے مسائل شہر میں کس نے پیدا کئے؟ ۔

وفاقی اور صوبائی حکومت  کی طرف سے واضح جواب نہ ملنے پر عدالت نے برہمی کا  اظہار کرتے ہوئے کہا منصوبہ کا مکمل انحصار چین پر کیا جارہا  ہے، تاخیر کی وجہ سے شہر میں تجاوزات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ،تجاوزات کے خاتمے میں بھی رکاوٹیں بڑھ رہی ہیں ۔

 سیکریٹری ریلوے نے تسلیم کیا کہ کے سی آر کی زمین پر گلش  اقبال میں قبضہ ہے،جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ گلشن اقبال میں ریلوے  ملازمین کی سوسائٹی بن چکی ہے۔

 عدالت نے سیکریٹری ریلوے  کو فوری قبضہ ختم کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا قابضین کو ایک ہفتےمیں نوٹس جاری کیے جائیں ، متاثرین کو متبادل جگہ پر منتقل  کیا جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ متاثرین کو مناسب انداز میں  بسایا جائے بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

ایڈووکیٹ  جنرل نے کہا کہ ریلوے اراضی پر سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کررکھا ہے ،جس پر  عدالت نے کہا بادی النظر میں یہ لیز دھوکا دہی سے حاصل کی گئی ہے۔

عدالت نے ریلوے اراضی سے متعلق  سندھ ہائی کورٹ کا حکم امتناع ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کے سی آر بحالی کے لیے تجاوزات کا مکمل خاتمہ کرنے کی ہدایت کی، اس کے لیے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مدد لی جائے۔

 عدالت نے سیکریٹری ریلوے ، سیکریٹری پلاننگ اور اٹارنی جنرل  کو پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 6 مارچ تک سماعت ملتوی کردی۔