چھ ماہ میں سرکلر ریلوے پر کام ختم نہ کیا تووزیراعظم اور وزیراعلیٰ بلائیں گے،چیف جسٹس
فائل فوٹوالی سے متعلق کیس میں چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ 6ماہ میں سرکلر ریلوے پر کام ختم نہ کیا تووزیراعظم اور وزیراعلیٰ بلائیں گے،وزیراعلیٰ سندھ کو توہین عدالت کا نوٹس دیں گے۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے سرکلر ریلوے کی بحالی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
ریلوےاراضی کیس میں وفاقی اورصوبائی حکومت کی جانب سے واضح جواب نہ ملنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔
چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیئے کہ 6ماہ میں کراچی سرکلر ریلوے پر کام مکمل کرلیں،6ماہ میں کام ختم نہ کیا تووزیراعظم اور وزیراعلیٰ بلائیں گے،وزیراعلیٰ سندھ کو توہین عدالت کا نوٹس دیں گے۔
کیس کی سماعت کے دوران سیکریٹری ریلوے نے اراضی پر قبضے کو تسلیم کیا۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے سیکریٹری ریلوے کی سخت سرزنش کی اور ریمارکس دیے کہ گلشن اقبال میں ریلوےملازمین کی سوسائٹی بن چکی ہے،قابضین کو ایک ہفتے میں نوٹس جاری کیے جائیں ،متاثرین کو متبادل جگہ پر منتقل کیا جائے۔
جسٹس گلزار احمد نے ایڈووکیٹ جنرل کو کہا کہ یہ سب آپ کا کیا دھراہے،عوام کو گرین لائن کی وجہ سے بھی اذیت دے رہے ہیں،تجاوزات کے خاتمے میں بھی رکاوٹیں بڑھ رہی ہیں۔
سپریم کورٹ نے ریلوے اراضی سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کا حکم امتناع ختم کرتے ہوئے گلشن اقبال میں فوری قبضہ ختم کرانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس گلزار احمد نے سیکریٹری ریلوے کو کالاپل سے تجاوزات ختم کرانے کی بھی ہدایت دے دی۔
سپریم کورٹ نے سیکریٹری ریلوے،سیکریٹری پلاننگ اور اٹارنی جنرل کو پیش ہونے کا حکم دیتےہوئے سماعت 6مارچ تک ملتوی کردی۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔