نواز الدین صدیقی کے ویڈیو پیغام نے لوگوں کی آنکھیں کھول دیں
نوازالدین صدیقیبھارت میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور بعض سخت گیر ہندو تنظیموں کی جارحانہ مہم کے دوران بالی وڈ کے معروف اداکار نوازالدین صدیقی نے سوشل میڈیا پر ایک ٹوئٹر کے ذریعے مذہبی ہم آہنگی کا ایک پیغام دیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ وہ صرف اور صرف ایک فنکار ہیں۔
نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق ایک ویڈیو پیغام میں نوازالدین یکے بعد دیگرے کئی پلے کارڈز لیے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جس میں سے ایک میں لکھا ہوا ہے: 'ہائے میں نوازالدین صدیقی ہوں۔' پھر دوسرے میں لکھا ہے 'جب میں نے اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا تو میں نے پایا۔'
٭ شیو سینا کا اعتراض، نوازالدین کو اداکاری سے روک دیا گيا
اور پھر وہ ایک ہندو کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں اور ان کے ہاتھ میں جو پلے کارڈ ہے اس پر لکھا ہے 'میں 16.66 فیصد ہندو ہوں۔'
اسی طرح ایک دوسری تصویر میں وہ مسلم کے طورپر سامنے آتے ہیں اور اس پر لکھا ہے کہ 'میں 16.66 فیصد مسلم ہوں۔'
اسی طرح نوازالدین سکھ، عیسائی اور بودھ مذہب کے بھیس میں 16.66 فیصد کا پلے کارڈ لیے نظر آتے ہیں۔
اس کے ساتھ ایک پلے کارڈ میں لکھا ہے کہ دنیا کے بچے ہوئے تمام مذاہب کا ان میں 16.66 فی صد حصہ ہے۔
انھوں نے ہر مذہب کا ڈی این اے 66۔16 فی صد دیا ہے/ ٹوئٹرآخر میں پلے کارڈ پر لکھا ہو ہے: 'میں نے جب اپنی روح سے سوال کیا تو مجھے پتہ چلا کہ ۔۔۔ میں صد فی صد صرف فنکار ہوں۔'
یہ پیغام انھوں نے ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تعلقات تلخ ہو رہے ہیں اور ہندو گئو رکشک ملک میں جگہ جگہ مویشیوں کے مسلم تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور مویشی مالکوں پر حملے کر رہے ہیں۔
کجھ عرصے پہلے نواز ہندوؤں کے ایک تہوار کے دوران روایتی رام لیلا میں سٹیج پر رامائن کے ایک کرار کو ادا کرنے والے تھے لیکن انھیں بعض ہندو تنظیموں نے یہ کردار ادا کرنے سے یہ کہہ کر روک دیا تھا کہ یہ کردار مسلمان نہیں ادا کر سکتے۔
انھوں نے اپنے پیغام میں خود کی صد فی صد آرٹسٹ قرار دیا ہے/ ٹوئٹربشکریہ: بی بی سی اردو
ہندوستان ٹائمز
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔