شہباز شریف کی گرفتاری، اسٹاک مارکیٹ شدید مندی کا شکار

صدر ن لیگ کی گرفتاری کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی...
شائع 28 ستمبر 2020 03:41pm

صدر ن لیگ کی گرفتاری کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھی جارہی ہے۔ ہنڈریڈ انڈکس میں 900 پوائنٹس کی کمی ہوئی ہے۔جس کے بعد ہنڈریڈ اںڈیکس 40 ہزار 839 کی سطح پر آگیا ہے۔

واضح رہے کہ لاہورہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ (ن)کے صدر شہبازشریف کی عبوری ضمانت خارج کردی جس کے بعد نیب نے شہبازشریف کو گرفتار کرلیا گیا۔

لاہورہائیکورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے شہباز شریف کی منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔

شہبازشریف کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ 3مرتبہ شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب رہے،انہوں نے تنخواہ، ٹی اے ،ڈی اے یا دیگر مراعات وصول نہیں کیں ۔

مختلف منصوبوں میں ایک ہزار ارب روپے پاکستان کے بچائے،ایسا شخص کروڑوں روپے کی کرپشن کیوں کرے گا،پتہ نہیں یہ کیس کیوں بنایا گیا،اب تک جتنے شریک ملزمان کے بیانات ریکارڈ ہوئے اس میں ان کے مؤکل کا ملوث ہونا ثابت نہیں ہوسکا۔

کسی جائیداد کو نیب حکام نے وزٹ کرکے چیک نہیں کیا،ٹائی کوٹ پہن کر ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر غیر جانبدارانہ تحقیقات ممکن نہیں،عدالت اپنی تسلی کیلئے لوکل کمیشن مقرر کرکے جائیداد کا معائنہ کراسکتی ہے۔

عدالت سے اجازت لے کر شہبازشریف نے اپنے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بیوی کو کروڑوں روپے کی زرعی اراضی تحفہ میں دی۔بیوی نے 70 لاکھ کا تحفہ دیا ،جسے قانونی طریقہ سے حاصل کیا،پونے چھ ارب روپے ملک واپسی کے بعد فیکٹری بیچ کر ادا کئے ،حکومت بلدیاتی انتخابات کیلئے گرفتار کرکے زبان بندی کرنا چاہتی ہے۔

شہبازشریف کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد نیب پراسیکیوٹر فیصل رضا بخاری نے عدالت کو بتایا کہ تمام فیصلے جو پیش کئے گے وہ گرفتاری کے بعد کے ہیں،شہباز شریف کی حد تک تحقیقات مکمل نہیں ہوئیں،وجوہات بتاؤں گا کہ حراست کیوں چاہیئے۔

شہباز شریف 1990ء میں 2 اعشاریہ 212 ملین روپے کے مالک تھےلیکن 2018ء میں شہباز شریف کے اثاثے 7 اعشاریہ 32 بلین روپے تک پہنچ گئے، 4 بے نامی کمپنیاں شہباز شریف نے بنائیں،شہباز شریف کا کاروبار نہیں تھا تو اتنی رقم کہاں سے آئی،2004 کی تفصیل یہ بتا نہیں رہے پھر اچانک 2017 میں اکاؤنٹ میں اربوں روپے کہاں سے آگئے۔

جلاوطنی میں کس طرح جائیدادیں خریدی گئیں،بینک کسی سیکیورٹی کے بغیر قرض نہیں دیتا،شہباز شریف فیملی کو نوٹس بھجوائے مگر کوئی جواب نہیں دیا گیا،سی ایم ہاوس کے 2ملازمین کیخلاف عدالت نے کاروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد شہباز شریف کی عبوری ضمانت کی درخواست خارج کردی،جس کے بعد نیب نے شہبازشریف کو احاطہ عدالت سے فوری تحویل میں لے لیا۔

شہبازشریف کی گرفتاری کے موقع پر عدالت آئے لیگی کارکن شدید نعرے بازی کرتے رہے۔