سینیٹ ، موٹروے زیادتی کیس، سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی بریفنگ

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں موٹر وے...
شائع 28 ستمبر 2020 09:09pm

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں موٹر وے زیادتی کیس پر سی سی پی او لاہورعمر شیخ نے بریفنگ دی۔

سینیٹ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ہوا ہے ،اجلاس میں سی سی پی اولاہورعمرشیخ کی موٹروے زیادتی کیس پر بریفنگ بھی دی ہے اجلاس میں انہوں نے آج بھی ایک نہیں دوبارہاتھ جوڑکرمعافی مانگی اور کہا کہ 56 سال عمر ہے، یاد داشت بھی اسی حساب سے ہے، مشترکہ اجلاس بلا لیں سب کے سامنے ہاتھ جوڑکرمعافی مانگ لیتا ہوں میں کچھ بولوں تودھماکا نہ ہوجائے چیف جسٹس کوبتا چکا ہوں ذمہ دارکون ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں موٹر وے زیادتی کیس پر سی سی پی او لاہورعمر شیخ نے بریفنگ دی اور بتایاکہ خاتون خاوند کی اجازت کے بغیرلاہورگئی، جس پرسینیٹرکیشوبائی نے پوچھا کہ کیا یہ خاتون نے بتایا؟

عمر شیخ نے کہا کہ نہیں یہ میرا اندازہ ہے، ون فائیو پر کال 2 بجکر47 منٹ پر ہوئی، اوراہلکار3 بج کر15منٹ پرپہنچے ،

سینیٹرعینی مری نے کہا سی سی پی او کومعلومات نہیں یا پھر غلط بیانی کررہے ہیں ، 2 بجکر 53 منٹ پرپہلا ڈولفن اہلکارپہنچ گیا تھا سی سی پی او لاہور بولے 100 فیصد سچ بول رہا ہوں، 6منٹ میں توامریکا کی پولیس بھی نہیں آتی، جس پرکمیٹی اراکین برہم ہوگئے جس پر سی سی پی او لاہور نے معافی مانگی اور کہا کہ میرا کام جرم روکنا اورمجرم پکڑنا ہے،

سینیٹرعثمان کاکڑ نے کہا کہ جوالفاظ سی سی پی اونے استعمال کیے اس پرسزا ملنی چاہیے تھی، بریفنگ کے دوران مرکزی ملزم عابد ملہی کے بجائے بابرملہی کہ گئے جس پرکمیٹی اراکین کے نے تصیحی کی تو عمر شیخ ایک بار پھر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ہاتھ جوڑتا ہوں، 56 سال عمر ہے یاداشت بھی اسی حساب سے ہے، پہلے بھی ایک کمیٹی میں ہاتھ جوڑکرمعافی مانگ چکا ہوں ایک ہی بارمشترکہ اجلاس کے سامنے کھڑا کردیں، سب کے سامنے ہاتھ جوڑکرمعافی مانگ لیتا ہوں۔

انہوں نے بتایاکہ موٹر وے زیادتی کیس میں جیوفنسنگ، ڈی این اے فائلنگ اور فنگر پرنٹس ٹیکنالوجی سمیت 5 ٹیکنالوجیز استعمال کی گئیں ، عمرشیخ نے کہا کہ میں کچھ بولوں تودھماکا نہ ہوجائے چیف جسٹس کوبتا چکا ہوں ذمہ دار کون ہے۔