Aaj TV News

BR100 4,112 Decreased By ▼ -52 (-1.26%)
BR30 20,622 Decreased By ▼ -321 (-1.53%)
KSE100 39,633 Decreased By ▼ -555 (-1.38%)
KSE30 16,693 Decreased By ▼ -210 (-1.24%)

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے 2013 سے 2019 تک کے فنڈز جاری کرنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم اور سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف ملازمین کی اپیلیں خارج کر دیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومتی پیسہ حکمرانوں کا ذاتی نہیں، حکمرانوں نے سرکاری پیسے کو ذاتی سمجھ کر بانٹا، یہ پیسے الیکشن اسٹنٹ کی غرض سے بانٹے گئے ہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے بے نظیر اسٹاک ایمپلائز سکیم کے تحت ملازمین کو شیئرز دینے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 2009 میں حکومت نے سرکاری کمپنیز کے 12 فیصد شیئرز ملازمین کو دینے کا فیصلہ کیا، 2013 میں حکومت بدلی تو منافع ادائیگی روک دی گئی، موجودہ حکومت نے اسکیم کو ختم کرنے کا حکم جاری کیا تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے 2013 سے 2019 تک کی ادائیگی کرنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے تو پوری اسکیم ہی خلاف قانون قرار دے دی تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کے مالی حالات اسی وجہ سے خراب ہیں، حکمرانوں نے سرکاری پیسے کو ذاتی سمجھ کر بانٹا، یہ پیسے الیکشن اسٹنٹ کی غرض سے بانٹے گئے ہیں، حکومتی پیسہ سارا سرکار کا ہوتا ہے حکمرانوں کا ذاتی نہیں، یہ بھی ہوا کہ 15 سال کی تنخواہیں اور مراعات بھی دی گئیں۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ٹرسٹ حکومت کے پیسے سے بنا ہے، صرف مخصوص اداروں کے ملازمین کو سہولت نہیں دی جا سکتی۔

عدالت نے ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف نجکاری کمیشن کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف ملازمین کی اپیلیں خارج کر دیں۔