Aaj TV News

BR100 4,936 Decreased By ▼ -23 (-0.46%)
BR30 25,403 Decreased By ▼ -331 (-1.28%)
KSE100 45,865 Decreased By ▼ -101 (-0.22%)
KSE30 19,173 Decreased By ▼ -26 (-0.14%)

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہبازکی درخواست ضمانت واپس لینے پرخارج کردی ۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے مسلم لیگ ن کےرہنماءحمزہ شہبازکی درخوست ضمانت پرسماعت کی۔

جسٹس سردارطارق مسعود نے وکیل امجد پرویزسے استفسارکیا کہ آپ مقدمہ میرٹ پریا ہارڈشپ کی بنیاد پرچلانا چاہتے ہیں ،جس پر حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ ہم ہارڈشپ پرضمانت مانگ رہے ہیں۔

جسٹس سردارطارق مسعود نے کہاکہ ہائیکورٹ میں ہارڈشپ کا ذکرنہیں کیا گیا توسپریم کورٹ کیسے ہارڈ شپ کا معاملہ دیکھ سکتی ہے ۔

وکیل حمزہ شہباز نے ہارڈ شپ پر ضمانت کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ میں درخواست کے وقت گرفتاری کوایک سال سے کم عرصہ ہوا تھا جس کے باعث ہارڈشپ کا گراؤنڈ نہیں بنتا تھا ،اس وقت مؤکل ایک سال 7 ماہ سے جیل میں ہے ۔

جسٹس سردارطارق مسعود نے ریمارکس دیئے کہ جونقطہ ہائیکورٹ میں نہیں اٹھایا گیا وہ یہ عدالت کیسے سنیں ۔

حمزہ شہبازکے وکیل امجد پرویز کی جانب سے درخوست ضمانت واپس لینے پرعدالت عظمیٰ نے معاملہ نمٹا دیا۔

مسلم لیگ ن کے رہنماء عطا تاڑرنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز19 ماہ سے قید ہیں ،نیب رپورٹ میں مزید10سے 12ماہ لگنے کا کہا گیا ہے ۔

براڈ شیٹ تحقیقاتی کمیٹی پربات کرتے ہوئے عطا تاڑر نے کہا کہ براڈ شیٹ معاہدہ کے وقت جسٹس ریٹائرڈ شیخ عظمت نیب پراسیکیوٹرتھے جن کا تحقیقات کرنے کا حق نہیں بنتا ۔

ن لیگی رہنماء عطا تاڑر نے مزید کہاکہ ہائیکورٹ سے حمزہ شہبازکو ضمانت مل جائے گی۔