Aaj TV News

BR100 4,597 Increased By ▲ 11 (0.24%)
BR30 17,781 Increased By ▲ 212 (1.21%)
KSE100 45,018 Increased By ▲ 192 (0.43%)
KSE30 17,748 Increased By ▲ 82 (0.46%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,360,019 6,540
DEATHS 29,077 12
Sindh 520,415 Cases
Punjab 460,335 Cases
Balochistan 33,855 Cases
Islamabad 115,939 Cases
KP 183,865 Cases

اسلام آباد:وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امن کیلئے پاکستان کی کوششیں دنیا جانتی ہے، جب خطے میں امن ہو گا تو ہماری مضبوط علاقائی روابط کی سوچ آگے بڑھ پائے گی، جامع مذاکرات کے علاوہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی مستقل حل نہیں ہے۔

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس تاجکستان کے شہر دوشنبے میں شروع ہوگئی، کانفرنس میں افغانستان و تاجکستان کے صدورسمیت علاقائی ممالک کے وزرا ءشریک ہیں۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی پاکستان کی نمائندگی کررہے ہیں، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود بھی کانفرنس میں موجود ہیں۔

شاہ محمود قریشی کانفرنس میں افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کی کوششوں اور کردار کو اجاگر کریں گے اور علاقائی فریم ورک کے اندر، افغانستان کی ترقی اور روابط کیلئے حمایت پرزور دیں گے۔

بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر بھی کانفرنس میں شریک ہیں تاہم ابھی تک پاک بھارت وزرائے خارجہ کی سائیڈلائن پر ملاقات طے نہیں پاسکی ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کانفرنس کے حوالے سے کہنا تھا کہ امن کیلئے پاکستان کی کوششیں دنیا جانتی ہے، جب خطے میں امن ہو گا تو ہماری مضبوط علاقائی روابط کی سوچ آگے بڑھ پائے گی، جامع مذاکرات کے علاوہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی مستقل حل نہیں ہے، ایسا کرنا آسان ہو گا یقیناً مشکلات ہیں لیکن ہمیں آگے بڑھنا ہوگا۔

شاہ محمود قریشی کی دوشنبے میں آج افغان صدر و وزیرخارجہ سے ملاقات ہے جبکہ ان کی ترکی اور تاجکستان کے وزراخارجہ سے سائیڈلائن پر ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات

دوشنبے:وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی ،جس میں دوطرفہ امور اور افغان امن عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی افغان صدر اشرف غنی سے دوشنبے میں منعقدہ "ہارٹ آف ایشیا” کانفرنس کے موقع پر ہوئی۔

ملاقات میں پاک، افغان دو طرفہ تعلقات، افغان امن عمل سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

افغان صدر اشرف غنی نے وزیراعظم عمران خان کی جلد صحتیابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ پرامن اور مستحکم افغانستان، پاکستان کے مفاد میں ہے، پاکستان افغانستان میں قیام امن کو ناگزیر سمجھتا ہے، افغانستان میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش ہے، پاکستان جامع مذاکرات کے ذریعے افغان مسئلے کے سیاسی حل کا حامی ہے اور سمجھتا ہے کہ بین الافغان مذاکرات کے نتیجے میں مثبت پیشرفت افغان امن عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔