Aaj TV News

BR100 4,744 Increased By ▲ 67 (1.43%)
BR30 22,971 Increased By ▲ 921 (4.18%)
KSE100 45,275 Increased By ▲ 457 (1.02%)
KSE30 17,837 Increased By ▲ 195 (1.11%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,241,825 1,400
DEATHS 27,638 41
Sindh 456,343 Cases
Punjab 429,655 Cases
Balochistan 32,875 Cases
Islamabad 105,217 Cases
KP 173,353 Cases

گلی ڈنڈااٹھا کرگرمیوں کی تپتی دوپہر میں گھر سے نکلنا اور کمال یہ کہ والدین کو کانوں کان خبر نہ ہو۔گڈیاں لوٹنا، لَٹو گھمانا وقت گزارنے کا بہترین ذریعہ ہوتے تھے۔ وقت کچھ اس تیزی سے تبدیل ہوا ہے کہ 80 کی دہائی میں پیدا ہونے والے تو تقریبا 'پرانے زمانے' والے ہوچکے ہیں۔

الفاظ اور فقروں کی تکرار سےمقصدِتحریرفوت نہ ہو سو مدعے پرآتے ہیں۔اب ہرنوجوان کے ہاتھ میں کم ازکم ایک اور کچھ کے ہاتھوں میں دو، دو دمکتی اسکرینیں ہیں۔ یہ موبائل فون ہے۔ تاروں کے گچھے کے جنجھٹ کےبغیر کسی بھی جگہ ایک دوسرے سےرابطے کےلئےموثر سمجھے جانے والے اس 'گیڈجیٹ' نےہماری دنیا ہی تبدیل کردی ہے۔ یہی آج کے نوجوان کی کتاب ہے اور یہی لائبریری ہے۔ یہی محلے کے دوسری جانب بہتی نہر بھی ہے اور آج کے کرکٹ گراونڈ بھی۔ نوجوان دنیا و مافیھا سے بےخبر اسی میں گم ہیں۔آج کا نوجوان سڑک کنارے محبوبہ کی ایک جھلک دیکھنے کےلئے گھنٹوں خوار نہیں ہوتا۔ محبوب کی جھلک، اداوں سمیت ایک ویڈیو کال کی دوری پر ہے۔

بات مگر صرف نوجوانوں تک ہی محدود نہیں ہے، حیرت تو تب ہوتی ہے جب ڈائپر پہنتے بچے سمارٹ فونز اور ٹیبلٹس پر انگلیاں چلاتے نظر آتے ہیں۔ عالم تو یہ ہےکہ آج کے پڑھے لکھے اور 'سمجھدار' والدین کو کوئی فرق بھی نہیں پڑتا۔ گیڈجٹس کے نقصانات سےواقف ماں باپ جب انہیں بچوں کی پہنچ سےدور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو بچہ رونے لگتا ہے، بلیک میلنگ کے اس تاریخی ہتھیار کے سامنے سخت سے سخت ماں کا دل بھی پسیج جاتا ہے۔ نتیجتاً بچے کا مشن کامیاب ہوتا ہے اور ماں بھی شکر کا کلمہ پڑھتے ہوئے گھر کے کاموں میں مشغول ہو جاتی ہے۔ اس ماں کو کون سمجھائے کہ رونے دھونے سے یہ وقتی فرار دراصل بچے کی زہنی اور جسمانی نشوونما پر کس قدر اثر انداز ہوتا ہے۔

موبائل فون سے نکلتی شعاؤں سے آنکھیں تو متاثر ہوتی ہی ہیں، بچوں کے ذہن بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔اپنے ارد گرد نظر اٹھا کر دیکھیں تو معلوم پڑتا ہے لاشعوری طور پر سہی مگر والدین خود اپنے بچوں کی تباہی کا سامان کرتے نظر آتے ہیں۔

کم بخت ہیں یہ سمارٹ فونز اور ٹیبلٹس، فاصلے ختم کرنے کی بجائے سب کو دور کر چھوڑا ہے۔ لوگ ایک ساتھ ہو کر بھی اپنی ہی دنیا میں مگن ہیں۔ بات کرنے کو کچھ ہےنہیں البتہ جذبات کااظہاراب باتوں کی جگہ اترنگی قسم کی اموجیز سے ہوتا ہے۔ جی ہاں ! دکھی ہونے کی اموجیز، خوشی کی اموجیز، حتی کہ جو جذبات ابھی پنپنے کی سطح پر بھی نہیں پہنچے ہوتے ان کےلئے بھی آپشنز دستیاب ہیں۔

حال ہی میں اپنے ساتھ پیش آنے والا ایک واقعہ بھی سماعت فرما لیں!

گھر پر مہمانوں کا رش تھا، والدہ کہنے لگیں بھانجے کو اپنے کمرے میں سلا دو، رات بارہ بجے کے قریب سونے کی تیاری کر رہا تھا تو کیا دیکھتا ہوں بھانجا موصوف موبائل فون پر انہماک کیساتھ کچھ دیکھ کر قہقہے لگا رہے ہیں۔خیر جلدی سونے کا کہہ کر خود خواب خرگوش کے مزے لینے لگا۔ صبح آٹھ بجے موبائل فون پر الارم کی آواز سے آنکھ کھلی تو کیا دیکھتا ہوں، جناب کمرے میں نہیں ہیں۔ حیرت بھی ہوئی کہ اتنی جلدی کیسے جاگ گیا ۔خیر نہا دھو کر کمرے سے باہر نکلا تو کانوں سے آواز ٹکرائی "گڈ مارننگ ماموں" ٹی وی لاونج میں صوفے پر موصوف بیٹھے حسبِ عادت موبائل فون پر شاید ویڈیو گیم کھیل رہے تھے۔ میں نے پوچھا طحہ اتنی جلدی کیسے اٹھ گئے؟ اس سے پہلے کہ جواب آتا، کچن میں کھڑی بڑی بہن غصے سے بولی یہ صاحب رات بھر سوئے ہی نہیں ۔ بہن کی بات سن کر تو جیسے میرے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ حیرت تو تب ہوئی جب بھانجے کو اس سب کے باوجود دنیا و مافیھا سے بے خبر موبائل فون میں گم پایا۔

پاکستان میں تو نہیں البتہ عالمی سطح پر اس موضوع پر متعدد اسڈیز کرائی جا چکی ہیں ۔ جن کےمطابق بچوں میں غصے کا عنصر ، آنکھیں خراب ہونا، مزاج میں چڑچڑاپن اورعدم توجہی کےبڑھتے رجحان کا موجب یہ برقی آلات ہی ہیں۔ ہمیں بچپن میں ٹی وی دیکھنے کےلئے صرف ایک گھنٹہ اجازت ملا کرتی تھی۔ اس ایک گھنٹے کے دوران بھی کم از کم تین بار کہا جاتا تھا پیچھے ہٹ کر بیٹھو ورنہ نظر کمزور ہو جائیگی۔ آج ایک محتاط اندازے کے مطابق بچے دن میں پانچ سے سات گھنٹے ان چمکتی دمکتی اسکرینوں کو ہاتھوں میں اٹھائے نجانے کیا کیا دیکھتے رہتے ہیں۔ مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ بچوں بالخصوص کم سن بچوں میں اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس کے بڑھتے رجحان کو کم کرنے کےلئے والدین کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

عالمی ادارہ صحت نےدو سال سے کم عمرکےبچوں میں موبائل اورٹیبلٹس کےبڑھتے استعمال کونقصان دہ قرار دیتے ہوئے انہیں بچوں کی پہنچ سے دور رکھنے کی ہدایت کی ہے۔والدین کو چاہیئے کہ دو سال سے زائد عمر کے بچوں کو اپنی نگرانی میں زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے تک گیڈجٹس استعمال کرنے دیں۔ برقی آلات کے اس جدید دور میں جنم لینے والے بچوں کےلئے گیڈجٹس کا استعمال ایک فطری عمل ہے۔ والدین پر منحصر ہے کہ وہ کیسے اپنے بچوں کو ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال سکھاتے ہیں۔ کیونکہ زرا سی غفلت ہوئی تو یاد رکھیں آج دنیا بھر کی معلومات ایک کلک کی دوری پر ہیں ۔ لہذا معصوم بچوں کو تعلیم کیساتھ ساتھ اچھی تربیت دینا بھی والدین کے فرائض میں شامل ہے۔

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے والدین اپنے بچوں سے دوستی کا تعلق استوار کریں اور انکو جسمانی کھیلوں کی جانب راغب کریں تاکہ انکی جسمانی اور زہنی نشونما ہو سکے۔

امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کے مطابق 12 سال سے زائد بچوں کو اسمارٹ فونز اور ٹیبلٹس کا مثبت اور محفوظ طریقہِ استعمال بتانا والدین کی ذمہ داری ہے۔ اچھے اور برے کی تمیز نا ہونے پر بچہ کوئی بھی راستہ چُن سکتا ہے۔ اب وقت آن پہنچا ہے کہ برقی آلات کے بے دریغ استعمال کو ناصرف کم کیا جائے بلکہ بچوں کو جدید ٹیکنالوجی کے مثبت اور منفی پہلووں سے بھی آگاہ رکھا جائے، ورنہ دیر ہو جائیگی۔

تحریر: احمد عدیل سرفراز