Aaj TV News

BR100 4,663 Decreased By ▼ -5 (-0.1%)
BR30 20,689 Decreased By ▼ -203 (-0.97%)
KSE100 44,848 Increased By ▲ 27 (0.06%)
KSE30 17,549 Increased By ▲ 28 (0.16%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,265,047 663
DEATHS 28,280 11
Sindh 465,819 Cases
Punjab 437,974 Cases
Balochistan 33,128 Cases
Islamabad 106,469 Cases
KP 176,886 Cases

چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے نے اپنی ساکھ اور کاروباری زندگی کو جدت دینے کے لیے نیا موبائل آپریٹنگ سسٹم "ہارمنی" جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔

ہواوے کے نئے آپریٹنگ سسٹم کو "ہارمنی او ایس" کا نام دیا گیا ہے۔ ایک آن لائن تقریب میں اس آپریٹنگ سسٹم سے لیس موبائل فونز کو نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔

امریکہ میں جاسوسی کے الزامات کے باعث اینڈرائیڈ موبائل آپریٹنگ سسٹم کے استعمال پر پابندی کے بعد سے ٹیکنالوجی کی دنیا کی ہواوے کے نئے آپریٹنگ سسٹم پر نظریں مرکوز تھیں۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ’چین ہواوے کو جاسوسی کے لیے استعمال کر رہا تھا اور واشنگٹن نے اسے سائبر خطرہ قرار دیا تھا۔‘

ہواوے نے موبائل فون کی دنیا میں 2003 میں قدم رکھا تھا اور سمارٹ فونز میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کا انتخاب کیا تھا۔ سام سنگ اور ایپل کے بعد ہواوے موبائل بنانے والی دنیا کی تیسری بڑی کمپنی ہے۔

امریکی پابندیوں کے بعد ہواوے کے موبائل کاروبار کے مستقبل پر سوالیہ نشان اٹھنے لگے تھے۔ اینڈرائیڈ سسٹم کا حصہ نہ ہونے کے بعد ہواوے کے صارفین کو گوگل کی سروسز استعمال کرنے میں دشواری پیش آئے گی اور اس کے لیے انہیں متبادل ایپلی کیشنز بنانا پڑیں گی۔

مگر چین کی مارکیٹ میں ایپلی کیشنز بنانے والے ڈیویلپرز کی کمی نہیں اور چین میں پہلے سے ہی گوگل کے مقابلے میں ایپلی کیشنز موجود ہیں۔

ہواوے کا چین کی مقامی مارکیٹ میں اہم مقام ہے اور چینی صارفین کے لیے ان کے پاس ایپلی کیشنز پہلے سے ہی مارکیٹ میں موجود ہیں۔