Aaj.tv Logo

امریکی کانگریس کے ری پبلکن رکن جم بینکس نے کہا ہےکہ بائیڈن انتظامیہ کی غفلت اور لا پرواہی کی وجہ سے افغانستان میں 85 ارب ڈالرز سےزیادہ مالیت کا فوجی سازوسامان، جنگی آلات، ہلکے اور بھاری ہتھیارطالبان کے ہاتھ لگ گئے ہیں۔

گزشتہ دوعشروں کے دوران میں امریکا نےافغان مسلح افواج کو بھاری مقدار میں اسلحہ اورسازوسامان مہیا کیا تھا۔اس کے علاوہ امریکی فوج کا بہت سا فوجی سازوسامان اور ناکارہ طیارے، ٹینک اور ہموی گاڑیاں طالبان نے اپنے قبضے میں لے لی ہیں۔طالبان نے مئی میں غیرملکی افواج کے انخلاء کے آغاز پر ملک پر کنٹرول کےلئے کارروائی شروع کی تھی اور انہوں نے 15 اگست کو ملک کے بیشتر علاقوں پرقبضہ کرلیا تھا۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی حکام کا کہنا تھا کہ افغان مسلح افواج کے یونٹوں نے طالبان کی کوئی زیادہ مزاحمت نہیں کی اور کوئی بڑی لڑائی نہیں لڑی۔افغان سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے اپنی چوکیاں چھوڑدی تھیں یا سرے سے ہتھیارہی ڈال دیے تھے۔

جِم بینکس خود افغانستان میں20سالہ جنگ کے دوران خدمات انجام دے چکے ہیں۔

ان کاکہناتھا طالبان افغانستان میں امریکا کےچھوڑے ہوئےکثیر فوجی ساز و سامان پرقبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ان میں75ہزارگاڑیاں،200 طیارےاورہیلی کاپٹر اور 6 لاکھ چھوٹے اور ہلکے ہتھیار شامل ہیں۔اس کے علاوہ اس وقت افغان جنگجو گروپ کے پاس دنیا کے 85 فیصد ممالک کے مقابلے میں زیادہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹرموجود ہیں۔

ان کے بہ قول سب سے چونکا دینے والی بات تو یہ ہے کہ طالبان کے پاس بائیومیٹرک ڈیوائسز بھی موجود ہیں جن پر فنگر پرنٹس، آنکھوں کے اسکین اوراس انتہاءپسند گروہ کے خلاف جنگ میں امریکا کے ساتھ تعاون کرنے والے افغان شہریوں کی تمام شخصی معلومات موجود ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا ہے کہ چھوڑے گئے فوجی سازوسامان کو امریکیوں پرحملوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا اگر ان ہتھیاروں یا فوجی سازوسامان میں سے کسی بھی ہتھیارکو اب یا مستقبل میں کسی بھی وقت کسی امریکی کو نقصان پہنچانے، زخمی کرنے یا ہلاک کرنے کےلئےاستعمال کیا جاتا ہے تواس کاخون جو بائیڈن کے ہاتھ پر ہوگا۔

بعض امریکی حکام نے یہ بھی خبردارکیا ہے کہ افغانستان میں رہ جانے والے ہتھیارداعش جیسے دیگرانتہاءپسند گروپوں کے ہاتھ بھی لگ سکتے ہیں یا ممکنہ طور پر چین اور روس جیسے امریکی حریفوں کے حوالے کیے جا سکتے ہیں۔

بینکس کے مطابق اس خطرے کے باوجود بائیڈن انتظامیہ نے اس بات کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے کہ آیا وہ طالبان کے لیے مالِ غنیمت کے طورپرچھوڑے گئے فوجی ساز و سامان کو واپس لینے کی کوشش کرے گی یا نہیں۔

امریکی صدرجوبائیڈن کوافغانستان سے اپنی فوج اور شہریوں کے افراتفری کے عالم میں انخلاء پرکڑی تنقید کا سامنا ہے۔امریکی فوجیوں،ان کے اتحادی یا شریک کار افغان شہریوں اور غیرملکیوں کے افغانستان کے انخلاء کے دوران میں پورے ماہ اگست میں کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پرافراتفری کے مناظردیکھنے میں آئے ہیں۔اس کو تاریخ کا سب سے بڑاغیرجنگی فوجی انخلاء قراردیا گیا ہے۔

امریکا نے پیر کو یہ اعلان کیا تھا کہ اس کا افغانستان سےانخلاء مکمل ہوچکاہے اوراس کے تمام فوجی جنگ زدہ ملک سے واپس چلے گئے ہیں۔