Aaj TV News

BR100 4,668 Increased By ▲ 50 (1.09%)
BR30 20,892 Increased By ▲ 107 (0.52%)
KSE100 44,822 Increased By ▲ 488 (1.1%)
KSE30 17,521 Increased By ▲ 178 (1.03%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,263,664 893
DEATHS 28,252 24
Sindh 465,175 Cases
Punjab 437,572 Cases
Balochistan 33,114 Cases
Islamabad 106,402 Cases
KP 176,650 Cases

فیس بک نے معروف آئی وئیر برانڈ "رے بین" کے اشتراک سے اسمارٹ ڈیجیٹل عینک متعارف کرادی ہیں۔ اس میں نصب دو کیمروں کی بدولت اب صارفین تھری ڈی تصاویر اور ویڈیو تیار بھی کرسکتے ہیں۔

کمپنی کے مطابق عینک کی دونوں جانب 5 میگا پکسل کے کیمرے نصب ہیں جنہیں ایک ساتھ استعمال کرتے ہوئے تصاویر اور ویڈیوز بنائی جاسکتی ہیں۔

اسمارٹ گلاسز سے موسیقی سنی جاسکتی جبکہ فون کالز کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ 50 گرام وزنی عینک کو خالص چمڑے کے تیار کردہ کیس سے چارج کیا جاسکتا ہے۔

فیشل ریکگنیشن سے لیس اسمارٹ گلاسز ڈیٹا بیس میں موجود معلومات کی بنیاد پر آپ سامنے والے شخص کو پہچان سکیں گے اور اس کی دیگر معلومات تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔ گلاسز میں بِلٹ ان کیمرہ بھی ہو سکتا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے لوگوں کو اختیار مل جائے گا کہ وہ دوسروں کی ذاتی معلومات حاصل کر کے انہیں تنگ کرسکیں تاہم کمپنی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ سیکیورٹی ایشو سے متعلق قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔

واضح رہے کہ فیس بک 2017 سے رے بین کے ساتھ اس پروجیکٹ پر کام کر رہا تھا، عینک کی قیمت پچاس ہزار پاکستانی روپے سے زائد رکھی گئی ہے۔

خیال رہے کہ گوگل نے بھی اپنے اسمارٹ گلاسز کے لیے اسی کمپنی سے اشتراک کیا تھا تاکہ فیشن کے لحاظ سے اچھے فریم تیار ہوسکیں گے مگر اسے ناکامی کا سامنا ہوا۔

اپریل 2017 میں فیس بک کی کمپنی اوکیولس ریسرچ کے چیف سائنس دان مائیکل ابریش نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ 5 سال کے اندر اے آر ٹیکنالوجی پر مبنی گلاسز اسمارٹ فون کی جگہ لے لیں گے اور روزمرہ کی کمپیوٹنگ ڈیوائس بن جائیں گے۔