Aaj TV News

BR100 4,557 Decreased By ▼ -13 (-0.29%)
BR30 17,312 Decreased By ▼ -385 (-2.17%)
KSE100 44,651 Decreased By ▼ -183 (-0.41%)
KSE30 17,570 Decreased By ▼ -82 (-0.47%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,345,801 6,808
DEATHS 29,042 5
Sindh 513,046 Cases
Punjab 456,992 Cases
Balochistan 33,780 Cases
Islamabad 113,688 Cases
KP 182,950 Cases

پینٹاگون میں امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مارک میلی اور روسی ہم منصب ویلری گیراسیموف کے درمیان ملاقات ہوئی، ملاقات میں روسی صدر کی اس پیش کش کا جائزہ لیا گیا جس میں ولادیمیر پوتن نے واضح طور پر کہا کہ افغانستان میں جنم لینے والے دہشت گردی کے کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے وسطی ایشیا میں روسی فوجی اڈے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق گذشتہ بدھ کے روز روسی جوائنٹ چیف آف اسٹاف نے امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کی تھی۔

امریکی ذمے داران کا کہنا ہے کہ جنرل گیراسیموف نے ابھی تک ہیلسنکی اجلاس میں کیے گئے وعدوں کو بھی پورا نہیں کیا۔ کریملن ہاؤس نے اس حوالے سے تبصرے سے انکار کر دیا۔

یہ خفیہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب بائیڈن انتظامیہ افغانستان میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کی نگرانی اور ان کا جواب دینے کی صلاحیت بڑھانے کے طریقوں پر غور کر رہی ہے۔

دہشت گردی کے خطرے کے حوالے سے امریکا اور روس کے مشترکہ اندیشے ہیں۔ البتہ انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں روس کے ساتھ کام کرنا بالخصوص سیاسی پہلو سے، چیلنجوں سے بھرا ہوا ہے۔

روسی صدر کی جانب سے غیر متوقع طور پر یہ پیش کش کی گئی کہ امریکی فوجی یونٹس تاجکستان اور کرغستان میں روسی فوجی اڈوں کا استعمال کر سکتے ہیں۔ امریکی ذمے داران کا کہنا ہے کہ اگرچہ پوتن نے یہ بیان دیا تو ہے تاہم یہ نہیں معلوم کہ وہ کس حد تک سنجیدہ ہیں۔

امریکی کانگریس کے بعض ارکان اب بھی ماسکو کی نیت کے حوالے سے شکوک رکھتے ہیں۔