Aaj.tv Logo

اسلام آباد:وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ افغانستان کو انسانی المیے سے بچانے کیلئے امت مسلمہ اپنا کردار ادا کرے، افغانستان کامعاشی بحران خطے کو بری طرح متاثر کرے گا۔

اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی)وزرائے خارجہ کا افغانستان کی صورتحال پر غیرمعمولی اجلاس اسلام آباد میں جاری ہے۔

او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا ،وزیراعظم عمران خان اوآئی سی اجلاس میں شریک ہیں ۔

اس کے علاوہ اوآئی سی رکن ممالک کے وزرائےخارجہ اورعالمی طاقتوں کےنمائندگان خصوصی برائے افغانستان بھی اجلاس میں شریک ہیں۔

او آئی سی اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتےہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ او آئی سی کے اجلاس میں شریک مہمانوں کوخوش آمدیدکہتاہوں،اجلاس افغانستان کے لوگوں کے مسائل سے متعلق ہے،افغان عوام کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے،افغانستان میں لاکھوں بچےغذائی قلت کاشکارہیں ،افغانستان کی نصف آبادی خوراک کی کمی کا شکار ہے اور ورلڈ فوڈ پروگرام بھی افغانستان میں غذائی قلت کی نشاندہی کرچکاہے۔

شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ سعودی قیادت کا وزرائےخارجہ اجلاس بلانا قابل تعریف ہے، سیکرٹری جنرل ابراہیم طحہ اور ان کی کاوشیں قابل تعریف ہیں،افغانستان میں پیداہوتےانسانی المیےکونظرانداز نہیں کیا جاسکتا،افغانستان کو انسانی المیے سے بچانے کیلئے امت مسلمہ اپنا کردار ادا کرے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کی صورتحال کی ذمہ داربہت سے چیزیں ہیں،افغان عوام کی فوری امداد کی ضرورت ہے،افغانستان میں معاشی بدحالی سےبچنےکیلئےنقدامدادضروری ہے،یہ اجلاس افغانستان کی بقاء کیلئےبہت اہم ہے،دنیاتمام چیزوں سے بالاترہوکر افغان مسئلے پر آگے بڑھے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے معاشی حالات دنیا کی توجہ کے طالب ہیں،افغانستان کامعاشی بحران خطے کو بری طرح متاثرکرےگا،افغان عوام کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہم متحد اور ان کے ساتھ ہیں، افغانستان کے حوالے سے ہماری آواز دنیا تک پہنچ گئی ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کوافغان صورتحال پرکرداراداکرناہوگا،افغانستان میں امن واستحکام عالمی امن کیلئےناگزیرہے،پاکستان نے1700میٹرک ٹن امدادی سامان افغانستان بھیجا،افغانستان بھیجی گئی امداد ناکافی ہے۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ اوآئی سی کوافغانستان کی امدادکیلئے6نکات پیش کرتاہوں،افغان عوام کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے،اقوام متحدہ افغانستان کےمنجمد اثاثہ کی بحالی پرزور دے۔

شاہ محمود قریشی نےمزید کہا کہ 40 سال قبل بھی پاکستان نے افغانستان کیلئے اسی طرز کا اجلاس بلایا تھا، پاکستان ایک بار پھرافغانستان میں انسانی بحران کے حل کیلئے کوشاں ہے۔