ناظم جوکھیو قتل کیس، عبوری چالان منظور
مقامی عدالت نے ناظم جوکھیو قتل کیس میں عبوری چالان منظور کرلیا۔
عدالت نے پولیس کے عبوری چالان پر محفوظ فیصلہ سنا تے ہوئے پولیس چالان منظور کیا۔ عدالت کاکہناتھا کہ مدعی مقدمہ کے وکلا کا چالان پر اعتراضات کو حتمی چالان کے بعد دیکھا جائے گا۔
مدعی کے وکیل کاکہناتھا کہ چالان میں سقم ہے، تفتیشی افسر نے ملزمان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی، عبوری چالان میں ضمانت پر رہا، پانچ ملزمان کے نام کا اندراج نہیں کیا،ضمانت پر رہا ملزمان کو مکمل فائدہ پہنچانے کی کوشش ہے، ملزم زاہد کو بے گناہ قرار دینا تفتیشی افسر کے بدنیتی ظاہر کرتی ہے،تفتیشی افسر نے بےگناہ قرار ملزم کو گرفتار کیا نہ ہی تفتیش کی اور اس نے ملزم کو بےگناہ کیسے قرار دیا۔
مدعی وکیل کا سماعت میں کہنا تھا کہ ضمانت پر رہا ملزمان کو گواہوں کے بیانات کے مطابق انکا کردار ظاہر کیا جائے، تفتیشی افسر نے مفرور صورت شناس گارڈز اور غیر ملکی دو ملزمان کے نام کا اندراج نہیں کیا،پولیس نے غیر ملکی ملزمان کی گاڑی برآمد کی لیکن ملزمان کے نام خفیہ کیوں رکھے، ایف آئی اے سے غیر ملکی ملزمان کا ریکارڑ منگوایا جائے۔
مدعی وکیل نے مزید مطالبہ کیا کہ چالان میں قتل کی دھمکی، گالی گلوچ اور معلومات چھپانے کی دفعات کا اندراج کا حکم بھی دیا جائے۔
عدالت نے وکیل مدعی کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
واضح رہے کہ مقتول ناظم جوکھیو نے ملیر میمن گوٹھ میں غیر ملکیوں کو شکار سے روکنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اَپلوڈ کی تھی جس کے بعد ان کی تشدد زدہ لاش ملیر کے علاقے میمن گوٹھ سے ملی تھی۔
مقتول کے ورثا نے قتل کے مقدمے میں رکن صوبائی اسمبلی جام اویس گہرام کو نامزد کیا تھا۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔