'ماضی میں حکمرانوں کی ترجیح عوام نہیں ڈالرز تھے'
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی میں حکمرانوں کی ترجیح عوام نہیں ڈالرز تھے ۔ ملک کو کرنٹ اکاؤنٹ کا بحران درپیش ہے، جیسے ہی ترقی کرتے ہیں تو ڈالرز کی کمی ہوجاتی ہے جس سے روپے پر دباؤ پڑتا ہے ۔ ملک میں قانون اورمیرٹ لاناہےسب کچھ ٹھیک ہوجائےگا۔
وزیراعظم عمران خان نے دفترخارجہ کے دورہ کے موقع پروزارت خارجہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی کامیاب کانفرنس پر مبارکباد پیش کرتاہوں، مختصر وقت میں وزرائے خارجہ کواکٹھا کرنا بڑی بات ہے، ملک کاتشخص بہتربنانے کی کوشش کریں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اوآئی سی کانفرنس کرانے کا ہمارامقصدپوراہوا۔
عمران خان نے مزید کہا کہ ایک وقت تھا پاکستان کاوزیراعظم امریکہ جاتا تو امریکی صدر استقبال کرتا، ہم نے پاکستان کا بہترین تشخص دیکھا، انسانی زندگی میں اونچ نیچ آتی ہے، ماضی میں حکمرانوں کی ترجیح عوام نہیں ڈالرز تھے۔
وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ ہماری اپنی غلطیوں کی وجہ سے ملک نیچے جاتارہا، ہم نے خود کو استعمال ہونے دیا، امداد کےلیے ملکی ساکھ کو قربان کردیا، صرف پیسے کے لیے عوامی مفاد کے خلاف پالیسی بنائی، دوسرےملکوں کی ناراضی سے بچنےکیلئےہم اپنےلوگوں کوقربان کردیتےہیں۔
عمران خان نے مزید کہا کہ ملک میں ماضی میں غلط فیصلے کیے جس کانقصان ہوا، ہمیں کسی کوقصوروار ٹھہرانے کے بجائے درست فیصلے کرنے چاہئیں، ملک میں قانون اورمیرٹ لاناہےسب کچھ ٹھیک ہوجائےگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا افغانستان کے حوالے سے ہمارے موقف کی تائید کررہی ہے، افغانوں کی جلد ازجلد امداد کی جائے، اوآئی سی کانفرنس کامقصد دنیا کوبتاناتھا کہ ہم تنہا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملک کو کرنٹ اکاؤنٹ کا بحران درپیش ہے، جیسے ہی ترقی کرتے ہیں تو ڈالرز کی کمی ہوجاتی ہے جس سے روپے پر دباؤ پڑتا ہے، جیسے ہی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے بحران سے نکلیں گے، ملک تیزی سے ترقی کرے گا، ایک مرتبہ تو ہم اس بحران سے نکل گئے تھے، لیکن دنیا میں اجناس کی قیمتیں مہنگی ہونے سے دوبارہ مشکلات کا شکار ہوگئے۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔