سینیٹ: منی بل 2021 پیش،اپوزیشن کا احتجاج
سینیٹ میں منی بل 2021 ایوان میں پیش کردیا گیا۔اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے اپنی نشستوں پرکھڑے ہوکرشدید احتجاج اور نعرے بازی کی۔ جبکہ ریکوڈک کے معاملے پر حکومت کی طرف سے بریفنگ نہ دینے پر اپوزیشن نے دو بار ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا۔
سینیٹ میں تین بار کورم کی نشاندہی کی گئی۔ جس کے بعد کورم کی کمی کے باعث اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔
سینیٹ اجلاس کی صدارت چئیرمین صادق سنجرانی نے کی۔وزیر خزانہ شوکت ترین نے منی بل 2021 ایوان کیا توچئیرمین نے بل کی کاپی متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دی اور اراکین سے تین دن میں راۓ طلب کر لی۔
سینٹر رضا ربانی،شیری رحمان اور دیگر نے اجلاس میں کہا کہ آئی ایم ایف کی ایما پر منی بل ایوان میں پیش کیا گیا، آئی ایم ایف کی ایما پر ہی اب بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اورامریکی ایما اور آئی ایم ایف پر کونسے فیصلے ہو رہے ہیں۔مذکورہ بل آئی ایم ایف کے کہنے پر پیش ہوا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے اسٹیٹ بینک کو گروی رکھا جارہا ہے۔اس ایوان اور قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی میڈیا کنٹرول کرنے سے متعلق مبینہ آڈیو لیک کامعاملہ ایوان بالاء پہنچااورقائدایوان سینیٹ ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ صبح سے ایک آدیو میڈیا میں چل رہی ہے۔
ن لیگ کے عرفان صدیقی نے کہا کہ جن لوگوں نے یہ ویڈیو آپ کو فراہم کی آپ کی ویڈیوز بھی موجود ہیں یہ معاملات صرف نظر کر لیا کریں۔خواتین کو کام کی جگہ ہراسگی خلاف تحفظ ترمیمی بل 2021ء ایوان بالاء میں متفقہ طور پر منظور کیا گیا ۔یہ بل وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شریں مزاری نے بل ایوان میں پیش کیا۔قومی کمیشن برائے حقوق طفل ترمیمی بل بھی ایوان سے متفقہ طور پر منظور کیا۔
اجلاس میں ریکوڈک کے معاملے پر بریفنگ نہ دینے پراپوزیشن نے واک آؤٹ کیا جس کے ساتھ ہی ایوان میں کورم کم ہوا۔
بعدازاں ڈپٹی چئیرمین نے گھنٹیاں بجانے کی ہدایت کی۔اورریکوڈک معاملے پر بریفنگ کی یقین دہانی پر اپوزیشن دوبارہ ایوان میں آگئی۔ تاہم کورم نامکمل ہونے پر جمعہ تک صبح ساڑھے دس بجے تک اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔