Aaj News

وہ ایک دن

رعنا اُٹھ جاﺅ۔ دیر ہوگئی۔ ماں کی آواز پر رعنا نے کروٹ بدل کر دیکھا۔ اور پھر آنکھیں موند لیں۔ کیا ہوا بچے۔۔۔۔۔۔ کورٹ...
شائع 08 اگست 2022 03:39pm
<p>فوٹو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فائل</p>

فوٹو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فائل

رعنا اُٹھ جاﺅ۔ دیر ہوگئی۔ ماں کی آواز پر رعنا نے کروٹ بدل کر دیکھا۔ اور پھر آنکھیں موند لیں۔

کیا ہوا بچے۔۔۔۔۔۔ کورٹ نہیں جان کیا۔ ماں نے اس کے بالوں میں پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔

نہیں۔ رعنا نے مختصر جواب کے بعد پھر آنکھیں موند لیں۔

کیوں ؟ آج تو تمہارا کیس تھا نا۔ ماں کی آنکھوں میں سوال نے رعنا کو تھوڑی دیر کے لیے پریشان کر دیا کیونکہ جو جواب اس کے پاس تھا اُسے معلوم تھا کہ وہ ماں کے لیے کسی صورت قابل قبول نہ ہو گا۔ اس لئے وہ خاموشی سے آنکھیں موندے پڑی رہی۔

رعنا تم ٹھیک تو ہونا۔ اس کی خاموشی ماں کے لیے جان لیوا تھی۔

رعنا نے آنکھیں کھولیں اور اُٹھ کر بیٹھ گئی۔ ماں کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اس نے آہستہ آہستہ بولنا شروع کیا۔

میں ان بچوں کو انصاف دلانے میں ناکام ہوگئی ہوں اس لیے ان کا سامنا کرنا مشکل ہے۔

تو تم بھاگ رہی ہو۔ ماں کی نظروں میں سوال نے رعنا کو پریشان کر دیا۔

نہیں بھاگ نہیں رہی بس ذرا وقت دے رہی ہوں تاکہ زیادہ بہتر طریقے سے سامنے آﺅں۔ اس نے ماں کو تسلی دینے کی کوشش کی لیکن وہ جانتی تھی کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے۔ سچ کو ثابت کرنا اُتنا ہی مشکل تھا جتنا اس مٹی پر امن کا قیام ۔

ٹھیک ہے اُٹھ تو جاﺅ نا۔ میں ناشتہ بناتی ہوں تم منہ ہاتھ دھو لو۔ ماں پیار سے اس کے چہرے پر بوسہ دیتے ہوئے باورچی خانے کی طرف چل پڑی۔

رعنا بڑی بے دلی سے بستر سے اُٹھ کر تھکے قدموں سے واش روم کی طرف چل دی لیکن نا جانے کیوں اس کا دل ایک عجیب سے طریقے سے ہول رہا تھا۔

رعنا کافی دیر آئینے کے سامنے کھڑی بظاہر اپنے چہرے کو دیکھتی رہی لیکن اس کا ذہن کہیں اور بھٹک رہا تھا۔

بابا اور ان کی باتیں،اُن کے خواب اور ارد گرد پھیلی حقیقتیں۔ انہی الجھنوں میں اُلجھے اُلجھے دُور کہیں اسے اپنے موبائل کی گھنٹی سنائی دی۔ وہ غیر ارادی طور پر دوڑ کر اپنے فون کی طرف گئی اور جلد سے ہیلو کیا۔

دوسری طرف متوقع طور پر وہی آواز سنائی دی جو ہمیشہ اندھیرے میں ایک روشنی ثابت ہوتی تھی۔۔

کہاں ہو رعنا۔۔۔۔ بے چینی پوچھنے والے کی آواز سے چھلک رہی تھی۔ گھر پر ۔۔۔ اس نے ہولے سے جواب دیا۔

بلال کاسی کو گولی مار دی گئی ہے۔۔۔

کیا۔۔۔ کب ۔۔۔

ابھی کچھ دیر پہلے ہم سب اسپتال جا رہے ہیں۔ ساتھی بہت جلدی میں تھا۔

اچھا میں آرہی ہوں۔۔۔۔رعنا نے بھی اسی جلدی سے جواب دیا لیکن دوسری طرف کی بے چینی سے چیختی ہوئی آواز نے فون بند کرنے کی اس کی کوشش ناکام بنا دی۔

نہیں ہر گز نہیں۔۔۔ تم گھر سے مت نکلو۔۔۔

لیکن۔۔۔

کچھ لیکن ویکن نہیں ۔۔۔خطرہ ہے ۔۔۔۔ سنا تم نے گھر سے باہر مت نکلنا اور فون بند ہوگیا۔

رعنا کی ماں اس کی تیز آوز سن کر جلدی سے اس کے کمرے کی طرف دوڑی ۔

کیا ہوا رعنا۔۔ ۔۔ماں کی آواز میں پریشانی واضح تھی۔۔

کاسی صاحب کو کسی نے مار دی۔۔۔۔ رعنا کو اپنی ہی آوز کہیں دور سے آتی سنائی دی۔

کیا کہہ رہی ہو۔۔۔

ہاں ماں۔۔۔ یہ سچ ہے

اچھا تم بیٹھوں۔۔۔۔ میں ٹی وی لگاتی ہوں۔۔۔

رعنا کی ماں نے جلدی سے ٹی وی لگایا تو سرخ ہوتی اسکرین نے اس کے پاﺅں کے نیچے سے زمین نکال دی ۔۔۔۔

اسپتال میں دھماکا اور ہلاکتوں کے بارے میں بتاتی اینکر کی آواز نے رعنا اور اس کی ماں کو اپنی اپنی جگہ پر سن کر دیا۔

چند لمحوں کے بعد رعنا یک دم فون کی طرف بھاگی۔ سب سے پہلے وہی نمبر ڈائیل کیا جس سے کچھ دیر پہلے فون آیا تھی لیکن دوسر طرف مسلسل گھنٹی بجنے کے باوجود کوئی رسپانس نہ تھا۔

کانپتے ہاتھوں سے اس نے دوسرا۔ تیسرا اور پھر نہ جانے کتنے نمبر ملا لیے لیکن سب نو رسپانس۔

رعنا وہ دیکھو۔۔۔۔ ماں کی چیخ نے اسے ٹی وی کی اسکرین کی طرف متوجہ کیا اور جیسے اس کی سانس تھم سی گئی وہ جہاں کھڑی تھی وہیں بیٹھتی چلی گئی۔

ٹی وی کی اسکرین پر اسپتال کا منظر اور وکلاء کی بکھری ہوئی لاشیں۔۔۔۔۔۔ ہر طرف خون ہی خون۔۔۔۔لاشیں ہی لاشیں۔۔۔۔

جو پہلی بات اس کے منہ سے نکلی وہ تھی۔۔۔۔۔سب کو مار دیا۔۔۔

رعنا کی ماں جلدی سے اس کی طرف دوڑ کر آئی۔ خود کو سنبھالو رعنا۔۔۔۔۔

بیٹی کو سنبھالتی ماں خود زارو قطار رو رہی تھی۔۔۔۔ رعنا کا اسپاٹ چہرہ جیسے بلکل سفید ہوتا جارہا تھا۔۔۔

ماں۔۔ رحمان۔۔۔۔ اُس نے چیخ کر کہا اور اپنا پرس اور موبائیل لے کر دروازے کی طرف دوڑی۔۔۔

بیٹا رک جاﺅ۔۔۔ حالات ٹھیک نہیں۔۔۔۔ ماں نے رعنا کو روکنے کی کوشش کی۔

نہیں ماں مجھے جانا ہے۔ انہیں میری ضرورت ہے۔۔۔۔۔ تم فکر مت کرو میں رابطے میں رہوں گی۔

رعنا تیزی سے گھر سے نکلی اور گلی سے گزرتے رکشے کو ہاتھ دے کر روک لیا۔

جلدی سے اسپتال چلو۔۔۔ رکشے والے کو چیخ کر کہا۔

رکشے والے نے بیک مر مر مجھ پر نظر ڈالی اور بولا۔۔۔ بڑا زور دار دھماکا ہوا ہے وہاں۔۔۔ کیا آپ کا کوئی تھا وہاں پر۔۔۔

سب اپنے ہی تھے۔۔۔۔ اس نے بے خیالی میں دل کا حال ایک انجان کو کہہ دیا۔

اللہ خیر کرے گا بی بی پریشان نہ ہوں۔۔۔۔ تیزی سے رکشہ چلاتے شخص کی تسلی پر وہ صرف خالی خالی نظروں سے سامنے رکشے کی اسکرین پر دیکھتی رہی۔

راستے میں سیکیورٹی کی جگہ جگہ بنی رکاوٹوں پر جہاں بھی اسے روکا جاتا وہ خالی نظروں سے سیکیورٹی والے کو دیکھتی اپنی پہچان کرواتی اور رکشہ پھر دوڑنا شروع کر دیتا۔

اب کیا فائدہ۔۔۔ اس چیکنگ کا۔۔ جس نے جو کرنا تھا کرگیا۔۔۔ یہ اپنا زور ہم پر نکالتے ہیں۔

رکشے والے کی آوز نے جیسے اس کے زخموں پر نمک چھڑک دیا۔

اور بس نہیں چلا تو چیخ پر بولی۔۔۔۔۔ جلدی چلاﺅ تقریر مت کرو۔

رکشے والے نے اس کی ذہنی حالت سمجھتے ہوئے۔ اپنی پوری توجہ اسپیڈ اور سڑک پر مرکوز کردی۔۔

اسپتال سے کچھ دُور پہلے ہی اُنہیں رکنے کا کہا گیا۔ رعنا نے رکشے والے کو جلدی سے ادائیگی کی اور اسپتال کی طرف دوڑ لگادی۔۔۔۔

ایمرجنسی میں ہر طرف پھیلی لاشیں۔۔۔۔ زخمی اور وہاں موجود لوگوں کی آہ بکا۔۔۔۔ رعنا سب سے پہلے زخمیوں کی طرف دوڑی۔۔۔ سب اپنے ہی تھے لیکن جو سب سے زیادہ اپنا تھا وہ کہیں نہ تھا۔۔۔۔

سارے زخمیوں سے ملنے کے بعد اس کے قدم لاشوں کی طرف بڑھنے لگے لیکن ہر قدم بھاری سے بھاری تر ہوتا جارہا تھا۔۔۔ایک ایک لاش کے منہ سے کپڑا ہٹا کر اس نے سب کو دیکھ لیا۔۔۔ جلی ہوئی لاشوں کے بیچ لیکن وہ نہ ملا جس کی اُسے تلاش تھی۔

اس نے ایک بار پھر سب کو غور سے دیکھا۔۔۔ایک لاش کے پاس اس کے قدم رُک سے گئے۔اسٹیچر سے نیچے لٹکتا ہاتھ اور وہ گھڑی۔۔۔ڈھونڈنے کو کچھ نہیں رہ گیا تھا۔۔۔کتنی ہی دیر وہ وہیں ساکت کھڑی رہی۔۔۔۔

بی بی راستہ دو۔۔۔۔۔اسپتال کے اردلی کی آواز پر اس نے اردلی کو دیکھا اور آہستہ سے راستہ چھوڑ دیا۔۔۔۔

چاروں طرف مرنے والوں کے اپنوں کی آہوبکا اور شور شرابا لیکن اس کی نگاہیں صرف اس گھڑی پر تھیں جسے بارود کے دھماکے نے کالا ضرور کیا تھا لیکن وہ دھماکا اس جذبے کی چمک کم نہ کر سکا جس کے تحت وہ گھڑی اس کلائی پر باندھی گئی۔۔۔

رعنا نے بہت دھیمے سے اپنی محبت کی کلائی کو چھوا۔۔ اسے محسوس کیا ۔۔۔ چند لمحے ۔۔۔ اور پھر انتہائی آہستگی سے اُسے سفید چارد کے اندر رکھ دیا۔۔۔۔

رعنا کے قدم آہستہ آہستہ بیرونی دروازے کی طرف بڑھ رہے تھے ۔۔۔ سامنے کا منظر جیسے دھندلا سا گیا اور رعنا کے سامنے ابا کے لائبریری کی سرخ جلد والی وہ کتاب تھی جس کے ٹائیٹل پر “طور خم کے اُس پار” لکھا تھا۔

اس کتاب کے پیچھے والی جلد پر لکھا شعر۔۔۔ جس کی گونج بابا کی آوز میں چار سُو بکھر رہی تھی۔۔

اے صبح میرے دیس میں تو آکے رہے گی روکیں گے تجھے شب کے طلب گار کہاں تک۔۔۔

رعنا کیسے رکشے میں بیٹھی کیسے گھر پہنچی اسے پتہ بھی نہ چلا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی وہ سیدھی بابا کے کمرے کی طرف گئی۔

سرخ جلد والی کتاب کو ہاتھوں میں لیا اور بابا کی تحریر پر ہولے ہولے ہاتھ پھیرتے ہوئے خود کلامی کے انداز میں بولی۔

بابا۔۔۔

پچیس سال گزر گئے آپ کی اس بات کو۔۔۔ وہ صبح جس کا آپ کو انتظار تھا وہ نہیں آئی بلکہ شب کے طلب گاروں کے آگے اُمید کی شمیعیں جلانے والے ایک ایک کرکے راکھ ہوتے جا رہے ہیں۔

بابا آپ کو پتہ ہے آج کیا ہوا۔۔۔بابا وہ آوازیں جو میرے دیس میں انصاف کا اُجالا پھیلانے کے لیے اُٹھتی تھیں آج ان آوازوں کا گلہ کھونٹ دیا گیا۔

بابا اس اُجالے کے طلب گاروں کو کس طرح راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا۔۔ ۔یہ میں دیکھ کر آرہی ہوں۔

بابا آپ کی بیٹی اس خواب کے ساتھ تنہا رہ گئی۔

بابا آپ بھی مایوس ہوگئے تھے نا۔ اس لئے چلے گئے۔ بابا آپ نے یہ خواب میری آنکھوں میں کیوں سجایا جس کی تعبیر ممکن ہی نہ تھی۔

بابا وہ صبح کبھی نہیں آئے گی۔۔۔۔ کھبی نہیں آئے گی۔۔۔ کبھی نہیں آئے گی۔۔ ہولے ہولے بولتی رعنا ایک دم چیخ پڑی۔۔۔

رعنا کی ماں نے بیٹی کی چیخوں کی آواز سنی تو دورڑتی ہوئی اس کے پاس آئی لیکن تب تک رعنا سرخ کتاب کو سینے سے لگائے زمین پر گر چکی تھی۔

Comments are closed on this story.