Aaj News

اسلامی نظریاتی کونسل نے ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 کو غیر شرعی قرار دے دیا

کمیٹی خواجہ سراؤں کے بارے میں موجودہ قانون کا تفصیلی جائزہ لے
اپ ڈیٹ 27 ستمبر 2022 08:19pm
<p>معاشرتی مسائل پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ فوٹو — فائل</p>

معاشرتی مسائل پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ فوٹو — فائل

اسلامی نظریاتی کونسل (سی آئی آئی) نے ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018ء کو غیر شرعی قرار دے دیا ہے۔

اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل کا اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں شرکاء نے ٹرانس جینڈرایکٹ 2018 کو غیرشرعی قرار دیتے ہوئے ٹرانس جینڈر افراد کے بارے میں موجودہ ایکٹ کا جائزہ لینےکے لئے کمیٹی تشکیل دینے کا مطالنہ کیا۔

سی آئی آئی نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ کمیٹی خواجہ سراؤں کے بارے میں موجودہ قانون کا تفصیلی جائزہ لے تاکہ اس مسئلے کے ہر پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے جامع قانون سازی کی جاسکے۔

کونسل کا کہنا ہے کہ ٹرانس جینڈر کے موجودہ ایکٹ میں متعدد دفعات شرعی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہیں، یہ نت نئے معاشرتی مسائل پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

دوسری جانب اسلامی نظریاتی کونسل نے اعلامیے میں مزید کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) ترمیمی قانون 2022 کو مستحسن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون سے متعلق کونسل کی دیگر سفارشات کو بھی شامل کیا جائے۔

اسلام آباد

Council of Islamic Ideology

Transgender Act

Transgender Persons (Protection of Rights) Act, 2018

Comments are closed on this story.

مقبول ترین