Aaj News

جمعرات, مئ 30, 2024  
22 Dhul-Qadah 1445  

بارکھان واقعہ: عبدالرحمان کھیتران کے گھر پر چھاپہ

مقتولہ کے بچے اب بھی والد کے گھر پر ہیں، عبد الرحمان کھیتران بیٹے کا دعویٰ
اپ ڈیٹ 22 فروری 2023 08:42am
فائل فوٹو
فائل فوٹو

بلوچستان پولیس نے کوئٹہ میں صوبائی وزیر مواصلات عبد الرحمان کھیتران کی رہائشگاہ پر چھاپہ مارا ہے۔

چھاپے سے متعلق عبد الرحمان کھیتران کے بیٹے انعام کھیتران نے آج نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے خانہ پُری کے لئے چھاپہ مارا ہے، عبدالرحمان کھیتران کے تین گھر ہیں، جہاں وہ رہتے ہیں وہاں چھاپہ نہیں مارا گیا۔

انعام کھیتران نے مطالبہ کیا کہ گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور ہارڈ ڈسک بر آمد کرکے ڈیٹا نکالا جائے، فوٹیج میں دیگر 5 افراد کی موجودگی کا ثبوت مل جائے گا۔

انعام کھیتران نے دعویٰ کیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی جائے جس میں یہ ثابت ہوجائے گا کہ مقتولہ کے بچے اب بھی عبدالرحمان کھیتران کے گھر پر ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر بارکھان واقعے پر جے آئی ٹی تشکیل

بارکھان واقعے کے خلاف کوئٹہ میں مظاہرین کا احتجاج رنگ لے اۤیا، وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

بارکھان میں خاتون اور دو بیٹوں کی کنویں سے لاش ملنے کے بعد بلوچستان کے عوام سراپا احتجاج بن گئے۔ واقعہ کے خلاف کوئٹہ کے ٹی این ٹی چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور مظاہرین نے ریڈ زون کے باہر دھرنا دے دیا۔

عبدالرحمان کھیتران کےخلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین نے کہا کہ صرف وزیراعظم شہباز شریف سے ہی مذاکرات ہوں گے۔ جب تک انصاف نہیں مل جاتا تدفین نہیں کی جائےگی۔

ریڈزون کے باہرمظاہرین کا دھرنا جاری ہے۔ ایس ایس پی آپریشنز، ایس ایس پی انوسٹیگیشن نے مظاہرین سے ملاقات کی ہے۔

جنرل سیکرٹری مری اتحاد جہانگیر مری نے اپنے مطالبات پیش کردیے۔

مطالبات میں کہا گیا کہ سردارعبدالرحمان کھیتران کو گرفتار کیا جائے، صوبائی وزیر کی نجی جیل کو مسمارکیاجائے، پانچ قیدی بچوں کو فوری رہا کرایا جائے، واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کی جائے اور عبدالرحمان کھیتران کی اسمبلی رکنیت ختم کی جائے۔

مظاہرین کےمطالبات کے بعد پولیس بھی حرکت میں اۤگئی، کوئٹہ میں پولیس نے وزیرمواصلات عبدالرحمان کھیتران کے گھر پر چھاپہ مارا ۔

ترجمان پولیس کےمطابق عبدالرحمان کھیتران کے گھر چھاپے کے دوران خواتین پولیس اہلکاربھی موجود تھیں۔ صوبائی وزیر کے مہمان خانے، رہائش گاہ اور دیگرحصے کی تلاشی لی گئی۔ پولیس کارروائی کےدوران پٹیل باغ میں عبدالرحمان کھیتران کی رہائش گاہ کو جانے والے راستے بھی سیل کیےگئے۔

پولیس ایکشن سے قبل وزیرداخلہ میرضیا لانگو کی زیر صدارت اجلاس میں بارکھان واقعہ کے بعد پیدا صورتحال کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں نصیب اللہ مری، ثنا بلوچ، زاہد سلیم اور کمشنر کوئٹہ نے شرکت کی۔

اجلاس میں متعلقہ حکام نے بارکھان واقعہ پربریفنگ دی اوراجلاس میں دھرنے کی شرکا کےمطالبات پرغورکیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر بارکھان واقعہ کی تحقیقات کےلئے جے آئی ٹی تشکیل دیدی گئی ہے، تحقیقاتی رپورٹ سے ذمہ داروں کا تعین ہوسکےگا۔

اس موقع پر بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیا لانگو کا کہنا تھا کہ بارکھان واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے، ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

balochistan assembly

Barkhan Murder