Aaj News

پیر, مئ 27, 2024  
18 Dhul-Qadah 1445  

چوہدری پرویز الہٰی عدالت سے رہا ہوتے ہی دوسرے مقدمے میں گرفتار

اینٹی کرپشن کورٹ نے پرویز الہٰی کو گجرات کرپشن کیس سے بری کیا
فوٹو۔۔۔۔۔ اسکرین گریب
فوٹو۔۔۔۔۔ اسکرین گریب

پاکستان تحریک انصاف کے صدر اور سابق وزيراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالہٰی کو عدالت سے رہا ہوتے ہی دوسرے مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا۔ پرویز الہٰی اینٹی کرپشن گوجرانولہ کو ایک مقدمے میں مطلوب تھے۔

چوہدری پرویز الہٰی کو عدالت سے بری ہوتے ہی اینٹی کرپشن نے ایک اور کرپشن کے مقدمے میں گرفتار کر لیا ہے۔

ترجمان اینٹی کرپشن کے مطابق چوہدری پرویز الہٰی کے خلاف اینٹی کرپشن گوجرانولہ میں مقدمہ درج ہے تاہم سابق وزیراعلیٰ پنجاب کو گوجرانوالہ میں درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ترجمان اینٹی کرپشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ آج کے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل بھی دائر کی جائے گی، ٹھوس شواہد کی بنیاد پر چوہدری پرویزالہٰی کے خلاف گجرات میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، ان کے مقدمے میں بہت سے اہم نکات کو نظر انداز کیا گیا ہے،ان کے خلاف کرپشن کے مختلف الزامات میں انکوائریاں جاری ہیں۔

چوہدری پرویزالہٰی کے وکیل عاصم چیمہ نے کہا کہ پرویز الہی کی 7/23 مقدمہ میں ضمانت ہوئی تھی جبکہ اینٹی کرپشن نے 6/23 گوجرانوالہ مقدمہ میں گرفتار کیا ہے، ان کے پاس پرویزالہی کے خلاف کک بیکس کا کوئی ثبوت موجود نہیں، لاہور کی طرح گوجرانوالہ میں بھی پرویزالہٰی سرخرو ہوں گے۔

اینٹی کرپشن ٹیم نے پرویز الہٰی کو لاہور سے گوجرانوالہ منتقل کردیا

ادھر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے سابق وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کو لاہور ہیڈکوارٹر سے گوجرانوالہ منتقل کردیا، جہاں انہیں کل ریمانڈ کے لیے عدالت پیش کیا جائے گا۔

اینٹی کرپشن کے مطابق پرویزالہٰی گوجرانولہ میں درج کرپشن کے مقدمہ میں مطلوب تھے۔

اینٹی کرپشن کورٹ نے پرویز الٰہی کو گجرات کرپشن کیس سے بری کردیا

اس سے قبل اینٹی کرپشن کورٹ نے چوہدری پرویز الہٰی کو گجرات کرپشن کیس سے بری کیا کردیا۔

ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز سے متعلق کرپشن کیس میں پرویزالہیٰ کو جوڈیشل مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ ورک کے روبرو پیش کیا گیا، انہیں بکتربند گاڑی میں عدالت لایا گیا۔

اینٹی کرپشن حکام نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی۔

اینٹی کرپشن کی جانب سے کہا گیا کہ گجرات میں سڑک کی تعمیر کی 20 ستمبر 2022 کو منظوری دی گئی، 3 دسمبر 2022 کو 15 کروڑ 22 لاکھ کی ادائیگی کی گئی، 25 کروڑ 5 لاکھ 88 ہزار کی ادائیگیاں بھی کی گئیں۔ مجموعی طور پر 268 ملین روپے کا قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔

وکیل نے کہا کہ 35 ملین روپے کی بوگس ادائیگیاں بھی کی گئیں، 40 ملین روپے کی بوگس ادائیگی ریت مٹی کے کھاتے میں کی گئی۔

سرکاری وکیل غلام صلاح الدین نے اپنے دلائل میں کہا کہ دستاویزات ریکور کرنی ہیں اوردیگرشریک ملزمان کی گرفتاری کرنی ہے۔ اس کیس میں جو ادائیگیاں ہوئی وہ ریکورکرنی ہیں اور جو جو کمیشن لیا تھا وہ بھی وصول کرنا ہے۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ جعلی کمپنیوں کو غیر قانونی طور پرادائیگیاں کرتے ہوئے پراجیکٹ کو منظوری سے پہلے جاری کر دیا گیا۔ بولیاں بھی منظوری سے پہلے مانگی گئیں۔

اینٹی کرپشن کے وکیل نے کہا کہ 17، 22 اور57 کلومیٹر کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت میں بوگس ادائیگیاں کی گئیں، لالہٰ موسیٰ، سمیت دیگر علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر مرمت کے غیر قانونی ٹھیکے دیے گئے۔

فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ مقدمہ میں سرکاری ملازمین کی ملی بھگت کا ذکر ہے، کس کس سرکاری ملازم کو شامل تفتیش کیا گیا؟۔

عدالت نے چودھری پرویز الٰہی کو روسٹرم پر طلب کرلیا جن کا کہنا تھا کہ میں تو کہہ رہا ہوں کہیں تو حمزہ یا شہباز کو پکڑ لیں۔ میرا اس کیس میں کوئی کردار نہیں، بالکل بے گناہ ہوں۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں تمام پراسیس مکمل کریں۔

پرویزالہیٰ کے وکیل رانا انتظار کے دلائل کے بعد عدالت نے اینٹی کریشن حکام کی جانب سے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا ۔

بعد ازاں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے چوہدری پرویز الہٰی کو مقدمے سے بری کردیا۔

پرویزالٰہی کی گرفتاری

اینٹی کرپشن پنجاب نے پاکستان تحریک انصاف کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کوگزشتہ روز لاہورمیں ان کی رہائشگاہ سے گرفتارکیا تھا۔

اینٹی کرپشن عدالت نے کرپشن کیس میں ضمانت منسوخ ہونے پر گرفتاری کے آڈرز جاری کر رکھے تھے، پرویز الہی اینٹی کرپشن کے مقدمات اور 9 مئی کے واقعات میں درج مقدمات میں بھی مطلوب تھے۔**

اینٹی کرپشن پولیس 7 روز بعد چوہدری پرویز الہٰی کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئی، سابق وزیراعلیٰ پنجاب کو لاہور میں واقع ان کی رہائش گاہ ظہور پیلس سے گرفتار کیا گیا۔

مزید پڑھیں: پنجاب پولیس پرویز الٰہی کو گرفتار کیے بغیر ان کی رہائشگاہ سے روانہ

چوہدری پرویز الہٰی کی 26 مئی کو مقدمہ نمبر 7/23 میں ضمانت منسوخ ہوئی تھی، 27 مئی کو اینٹی کرپشن کی عدالت نے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے، جس پر اینٹی کرپشن اور پولیس حکام 7 روز سے ظہور الہٰی روڈ پر ناکہ لگا کر تاک میں رہے۔

چوہدری پرویزالہٰی اپنی گاڑی میں گلبرگ کی طرف جارہے تھے کہ اینٹی کرپشن پولیس نے انہیں گرفتار کرلیا اور انہیں دوسری گاڑی میں بٹھا کر اپنے ساتھ لے گئی۔

ذرائع کے مطابق چوہدری پرویزالہٰی فیملی کے ہمراہ گلگت بلتستان فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے۔

سابق وزیراعلیٰ پنجاب پر الزام ہے کہ انہوں نے گجرات میں متعدد تعمیراتی منصوبوں اور ٹھیکوں میں ایک ارب 22 کروڑ اور 93 لاکھ کا نقصان پہنچایا۔

چوہدری پرویز الہٰی کے خلاف 9 مئی کے واقعات پر تھانہ غالب مارکیٹ میں دہشت گردی کی دفعہ کا مقدمہ بھی درج ہے۔

پولیس نے صدر پی ٹی آئی پرویز الہٰی کو اینٹی کرپشن لاہور ریجن منتقل کردیا ہے جہاں ان سے تفتیش کی جاری ہے۔

اینٹی کرپشن نے ہیڈ کوارٹر آفس کی سیکیورٹی بڑھا دی، اینٹی کرپشن ہیڈکواٹر آفس میں اضافی پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی۔

اینٹی کرپشن ذرائع کے چوہدری پرویزالہٰی کو کل اینٹی کرپشن عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اینٹی کرپشن چوہدری کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرے گا۔

پرویز الہٰی کیخلاف دہشتگردی سمیت 13 دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے، پولیس

پولیس کا کہنا ہے کہ چوہدری پرویز الہٰی کے خلاف دہشت گردی سمیت 13 دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے، انہوں نے اینٹی کرپشن کے چھاپے کے دوران مزاحمت کی۔

پولیس کے مطابق مقدمے میں ضمانت منسوخ ہونے پر پرویزالہٰی کی گرفتاری مطلوب تھی، سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف ترجیحی کارروائی اینٹی کرپشن کررہی ہے، اینٹی کرپشن کے بعد پولیس کی مدعیت میں درج مقدمے پر کارروائی کی جائے گی، غالب مارکیٹ تھانہ میں سابق وزیراعلیٰ کے خلاف 29 اپریل کو مقدمہ درج ہوا۔

پرویز الہٰی کی گرفتاری مقدمہ نمبر 7/23 کے تحت عمل میں لائی گئی

سابق وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہٰی پر اینٹی کرپشن میں درج مقدمے کی کاپی آج نیوز کو موصول ہوگئی۔

مزید پڑھیں: پرویز الٰہی کا میڈیکل سرٹیفکیٹ جعلی نکلا، تحقیقات شروع

پولیس کے مطابق چوہدری پرویز الہٰی کی گرفتاری مقدمہ نمبر 7/23 کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔

مقدمے میں تعمیرات پر کرپشن کا الزام لگایا گیا ہے، جس کے مطابق چوہدری پرویز الہی نے ایک ارب 22 کروڑ کا نقصان پہنچایا ہے۔

ترجمان پرویز الہٰی کی گرفتاری کی تصدیق

چوہدری پرویز الہٰی کے ترجمان نے بھی سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی گرفتاری کے موقع پر ان کے بیٹے راسخ الٰہی بھی موجود تھے، چوہدری شجاعت کی بہن سمیرا بی بی بھی پرویز الہٰی کے ساتھ تھیں۔

نگراں وزیراطلاعات پنجاب کی چوہدری پرویز الہٰی کی گرفتاری کی تصدیق

نگراں وزیراطلاعات پنجاب عامر میر نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چوہدری پرویزالہٰی کو اینٹی کرپشن حکام نے گرفتار کیا ہے، وہ اینٹی کرپشن پنجاب کو مطلوب تھے، انہیں فرار ہونے کی کوشش میں گھر کے باہر سے گرفتار کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: پولیس کا پرویز الہٰی کی رہائش گاہ پر پھر چھاپہ، گھریلو ملازمین سے پوچھ گچھ

عامر میر نے کہا کہ چوہدری پرویز الٰہی چھپنے کی کوشش میں ماہر ہیں لیکن چونکہ کچھ روز سے علاقے کا محاصرہ کر رکھا تھا اور اگر وہ آج بھی نہ نکلتے تو شاید گرفتار نہ ہوتے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ چوہدری پرویز الہٰی کی گرفتاری کے دوران مزاحمت بھی کی گئی، ظہور الہیٰ پیلس سے 2 گاڑیاں باہر نکلیں، ایک گاڑی میں پرویز الہیٰ موجود تھے اور جس گاڑی میں وہ موجود تھے وہ بلٹ پروف تھی، دروازہ کھولنے کی کوشش کی گئی تو دروازہ نہ کھولا گیا جس کے بعد گاڑی کے شیشے توڑنے کی کوشش کی گئی اور پھر جب گاڑی کا دروازہ کھلا تو اندر سے چوہدری پرویز الٰہی برآمد ہوئے۔

مزید پڑھیں: پرویز الہٰی کیخلاف 2 ارب کی رشوت کے الزام میں ایک اور مقدمہ درج

نگراں وزیراطلاعات پنجاب نے مزید کہا ک چوہدری پرویزالہٰی اینٹی کرپشن کی تحویل میں جائیں گے، ان کی اینٹی کرپشن کیس میں ضمانت منسوخ ہوئی تھی۔

مونس الہٰی کا پرویز الہٰی کی گرفتاری پر ردعمل

تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الہٰی کے بیٹے مونس الہٰی نے اپنے والد کی گرفتاری پر ردعمل دیتے ہوئے کہ پولیس نے میرے والد کو جھوٹے مقدموں میں گرفتار کیا ہے، ہم انشاء اللہ پی ٹی آئی میں ہیں اور رہیں گے۔

مونس الہیٰ نے اپنے ٹویٹ میں مزید کہا کہ جب جنوری میں پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع ہوا، تب میرے والد نے مجھے یہ کہا تھا کہ چاہے مجھے بھی گرفتار کرلیں ہم نے عمران خان کا ساتھ دینا ہے، 3 دن پہلے میرے والد اور والدہ نے یہی چیز دہرائی۔

سروسز اسپتال کی میڈیکل ٹیم نے پرویز الہٰی کو فٹ قرار دے دیا

اینٹی کرپشن کی جانب سے چوہدری پرویز الہٰی کی گرفتاری کے معاملے پر سروسز اسپتال کی میڈیکل ٹیم نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب کو فٹ قرار دے دیا۔

سروسز اسپتال کے ڈاکٹرز کی ٹیم اینٹی کرپشن ہیڈ آفس پہنچی اور چوہدری پرویز الٰہی کا چیک اپ کیا، جس کے بعد ٹیم واپس چلی گئی۔

چوہدری پرویزالہٰی کے زیر استعمال سامان اور ادویات اینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر پہنچا دی گئیں۔

ذرائع اینٹی کرپشن کے مطابق میڈیکل ٹیم نے پرویزالہٰی کو میڈیکل فٹ قرار دیا۔

پرویز الہی آج رات اینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر میں گزاریں گے، ان کے آرام کے لیے میٹرس اور تکیہ پہنچا دیا گیا۔

پرویز الہٰی کی دیگر استعمال کی چیزین بھی اینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر پہنچا دی گئیں۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی پر منڈی بہاؤالدین اور گوجرانوالہ میں اینٹی کرپشن کے متعدد مقدمات درج ہیں، ان مقدمات میں پرویز الٰہی کے خلاف ترقیاتی اسکیموں میں کِک بیکس لینے کے الزامات ہیں۔

پرویز الہٰی کے خلاف لاہور کے تھانے میں کار سرکار میں مداخلت اور پولیس پر تشدد کا مقدمہ بھی درج ہے۔

چوہدری پرویز الٰہی نے کرپشن کے مقدمے میں عدالت میں عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی تاہم گوجرانوالہ کی اینٹی کرپشن عدالت نے چوہدری پرویز الٰہی کی درخواست مسترد ک دی تھی کیونکہ ضمانت کے لیے ملزم کا عدالت میں پیش ہونا ضروری ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کے صدر چوہدری پرویز الہٰی کی عبوری ضمانت خارج

پولیس کی جانب سے اس سے قبل بھی چوہدری پرویز الٰہی کی گرفتاری کے لیے کئی بار چھاپے مارے تھے تاہم ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی تھی۔

pti

arrest

lahore

Chaudhry Pervaiz Elahi

zahoor palace

Politics June 1 2023

Politics June 2 2023