Aaj News

جمعہ, مارچ 01, 2024  
19 Shaban 1445  

فوجی عدالتوں کیخلاف درخواستوں کی سماعت حکم امتناع کے بغیر ملتوی

سپریم کورٹ نے آج ہونے والی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا
اپ ڈیٹ 27 جون 2023 10:07pm
فائل فوٹو
فائل فوٹو

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں شہریوں کے ٹرائل کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت حکم امتناع جاری کیے بغیر جولائی کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکم امتناع جاری نہیں کیا، امید ہے ملزمان کا فوری ٹرائل نہیں ہوگا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ ہمارے پاس دستیاب نہیں، ایکٹ کی عدم دستیابی کے باعث ہوا میں باتیں ہورہی ہیں۔ ادارے کا مورال متاثرہوا تو فائدہ دشمن کو ہوگا۔

فوجی عدالتوں کیخلاف درخواستیں: آج کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف دائر درخواستوں پر آج ہونے والی سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کردیا۔

سپریم کورٹ نے 27 جون کی سماعت کا حکمنامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل نے اگلی سماعت تک متعلقہ دستاویزات اورتحریری جواب جمع کرانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے فوج کی تحویل میں موجود 102 گرفتار افراد کی تفصیلات کو عدالت میں پیش کیا اور بتایا کہ زیر ہراست افراد کے خلاف تحقیقات ابتدائی مرحلے میں ہے تاہم کسی ملزم کو سزائے موت یا طویل مدتی سزا نہیں سنائی جائے گی۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ زیر حراست افراد کے خلاف ابتدائی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد شواہد کی کاپی فراہم کی جائے گی اورملزمان کو وقت دیا جائے گا کہ وہ شواہد کا جائزہ لے سکیں اور اپنا وکیل مقررکر سکیں۔

سپریم کورٹ کے حکم نامے میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی کسی زیرحراست ملزم کا ٹرائل شروع نہیں ہوا اگراس معاملے میں کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو چیف جسٹس کو فوری طور پر چیمبر میں آگاہ کریں گے۔

حکم نامے کے مطابق اٹارنی جنرل نے بتایا کہ فوج کی تحویل میں موجود ملزمان کی اپنے اہلخانہ سے آج ہی ٹیلیفون پررابطہ کرایا جائے گا جبکہ ہفتے میں ایک بار اہلخانہ سے ملاقات کا بندوبست کیا جائے گا، فوج کی تحویل میں کوئی وکیل یا صحافی نہیں ہیں۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی کہ وفاقی حکومت لاپتہ صحافی عمران ریاض خان کی بازیابی کے لیے تعاون کرے گی، اٹارنی جنرل فوج کے زیر حراست 102 افراد کی فہرست پبلک کرنے سے متعلق حکومت سے ہدایات کے کر آج ہی چیمبر میں آگاہ کریں گے۔

حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا کہ آئینی درخواستوں کی مزید سماعت عیدالاضحیٰ کی چھٹیوں کے بعد ہوگی۔

آج کی سماعت کا احوال

فوجی عدالتوں کیخلاف دائردرخواستوں کی سماعت چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ نے کی جبکہ دیگر ججز میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہیں۔

گزشتہ روز جسٹس منصورعلی شاہ نے وفاقی حکومت کے اعتراض کے بعد خود کو سات رکنی بینچ سے علیحدہ کرلیا تھا۔

نمبرلگے تب دیکھ لیں گے

سماعت کے آغاز پرصدرسپریم کورٹ بارعابد زبیری روسٹرم پر آئے اور کہا کہ ہم نے بھی اس کیس میں درخواست دائر کی تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خوشی ہے سپریم کورٹ بار بھی کیس میں فریق بن رہی ہے، اچھے دلائل کو ویلکم کریں گے۔ جب آپ کی درخواست کو نمبر لگے گا تب دیکھ لیں گے۔

فوجیوں کیخلاف ٹرائل سے میرا کوئی لینا دینا نہیں

اس کے بعد عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری نے دلائل کا آغازکرتے ہوئے کہا کہ
میرے دلائل صرف سویلین کے ملٹری ٹرائل کے خلاف ہوں گے، فوجیوں کیخلاف ٹرائل کے معاملے سے میرا کوئی لینا دینا نہیں، ڈی جی آئی ایس پی آرنے کل پریس کانفرنس میں کہا کہ ٹرائل جاری ہے،یہ پریس کانفرنس اٹارنی جنرل کے بیان سے متضاد ہے۔

جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں اپنے بیان پر قائم ہوں، ابھی تک کسی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع نہیں ہوا۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو کہا کہ ہمیں آپ کی بات پریقین ہے۔

عزیزبھنڈاری نے کہا کہ میرا موقف ہے سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹراٸل نہیں ہو سکتا، فوجیوں کے ٹراٸل اورعدالت کے اختیارات سے متعلق بات نہیں کروں گا۔پارلیمنٹ بھی آئینی ترمیم کے بغیرسویلین کےٹرائل کی اجازت نہیں دے سکتا، اکیسویں ترمیم میں یہ اصول طے کر لیا گیا ہے۔

جسٹس عائشہ ملک نے سوال کیا کہ اگر اندرونی تعلق کا پہلو ہو تو کیا تب بھی سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو سکتا؟

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اندرونی تعلق بارے جنگ کے خطرات دفاعِ پاکستان کو خطرہ جیسے اصول اکیسویں ترمیم کے فیصلے میں طے شدہ ہیں۔

آئی ایس پی آرکی پریس کانفرنس کے بعد صورتحال واضح ہے

اس موقع پرجسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ کہ آئی ایس پی آر کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس کے بعد صورتحال بالکل واضح ہے۔

انہوں نے پوچھا کہ کیا اندرونی تعلق جوڑا جا رہا ہے؟۔ مجس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ابھی جو کارروائی چل رہی ہے وہ فوج کے اندر سے معاونت کے الزام کی ہے۔

جسٹس یحیی آفریدی نے اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر بلاکر پوچھا کہ بتاٸیں ملزمان کے خلاف کون سا قانون استعمال کیا جارہا ہے؟

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 9 مٸی واقعات سے جڑے ملزمان کے خلاف ٹو ڈی ٹو کےتحت کاررواٸی کی جا رہی ہے، ٹو ڈی ون کے تحت ان ملزمان کا ٹراٸل ہوتا ہے جن کا فوج کے ساتھ تعلق ہو۔

چیف جسٹس نے کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے آفیشل سیکرٹ ایکٹ ہمارے پاس دستیاب نہیں، ایکٹ کی عدم دستیابی کے باعث ہوا میں باتیں ہورہی ہیں۔

وکیل عزی بھنڈاری نے کہا کہ کوئی جرم آرمی ایکٹ کے اندرآسکتا ہے یا نہیں یہ الگ سوال ہے، دیکھنا ہوگا کہ افواج سے متعلق جرائم پرملٹری کورٹس میں ٹرائل ہوسکتا ہے یا نہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ ججز کی تقرری کا آرٹیکل 175(3) 1986 میں آیا، جن عدالتی نظائر کی بات آپ کر رہے ہیں اب حالات و واقعات یکسر مختلف ہیں۔

فوجی جوانوں اور افسران پر آئین میں درج بنیادی حقوق لاگو نہیں ہوتے

اس موقع پر جسٹس منیب اختر نے سوال کیا کہ ایسا کیا ہے جس کا تحفظ آئین فوجی افسران کو نہیں دیتا لیکن باقی شہریوں کو حاصل ہے؟۔ عزیر بھنڈاری نے کہا کہ فوجی جوانوں اور افسران پر آئین میں درج بنیادی حقوق لاگو نہیں ہوتے۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ایف بی علی کیس کہتا ہے کسی سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہوسکتا ہے، یہ کیس سویلین کے اندر تعلق کی بات کرتا ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے مطابق یہ کون سا تعلق ہوگا جس پرٹرائل ہوگا۔

جس پر وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ جوکچھ بھی ہوگا وہ آئینی ترمیم سے ہی ہوسکتا ہے۔ آئین ، ہمارے بنیادی حقوق، قوانین سب ارتقائی مراحل سے گزرکرمختلف ہوچکے ہیں۔ اب آئین میں آرٹیکل 10-A شامل ہے جسے دیکھنا ضروری ہے۔یہ ارٹیکل فئیر ٹرائبل سے متعلق ہے۔

آرٹیکل 175 تھری جوڈیشل اسٹرکچرکی بات کرتا ہے اورآرٹیکل 9 اور 10 بنیادی حقوق کی بات کرتے ہیں۔ یہ تمام آرٹیکل الگ الگ سہی مگر آپس میں تعلق بنتا ہے۔ بنیادی حقوق کا تقاضا ہے کہ آرٹیکل 175 تھری کے تحت تعینات جج ہی ٹرائل کنڈکٹ کرے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے مزید کہا کہ سویلین کا کورٹ مارشل ٹرائل عدالتی نظام سے متعلق اچھا تاثرنہیں چھوڑتا اورکسی نے بھی خوشی سے اس کی اجازت نہیں دی۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ میں کہا کہ ہم ہوا میں بات کررہے ہیں، ٹو ڈی ٹو کے تحت کون سے جرائم آتے ہیں معاونت کرنی ہے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایمرجنسی اور جنگ کی صورتحال میں تو ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہوسکتا ہے۔

عزیر بھنڈاری نے عدالت میں سیکشن ٹو ڈی پڑھ کرسنایا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب آپ آرمی والے کی بات کرتے ہیں تو سب سے اہم چیزمورال ہوتی ہے۔ اگرمورال متاثرہوتا ہے تو اسکا فائدہ دشمن کو ہوگا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے اس پر ریمارکس دیے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق تب ہوتا ہے جب کوئی ایسی چیز ہوجس سے دشمن کو فائدہ پہنچے۔

اس کے بعد سماعت میں کچھ دیر کے لیے وقفہ کردیا گیا۔

شواہد کے بغیرکیسے الزامات کو عائد کیا جاتاہے؟ سقم قانون میں ہے

وقفے کے بعد سماعت کے دوبارہ آغاز پر جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیے کہ کیا آفیشل سیکرٹ کی سزامیں ضمانت ہوسکتی ہے؟جس کا عمران خان کے وکیل نے اثبات میں جواب دیتےہوئے کہا کہ ایف آئی آرمیں توآفیشل سیکرٹ ایکٹ کاذکرہی نہیں، ایکٹ میں ترمیم کر کے انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ شواہد کے بغیرکیسے الزامات کو عائد کیا جاتاہے؟ یہ معاملہ سمجھ سے بالاتر ہے، سقم قانون میں ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ریکارڈ ظاہرکرتاہے کہ کیا الزام لگایا گیا، یہ تفصیل موجودہی نہیں۔

وکیل نے افسران کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری کوغیرقانونی قراردیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کسی شخص پرشواہد کے بغیرالزام لگانا بےکار ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ ان مقدمات میں توملزمان پرالزام ہی نہیں تھا ملزمان پرپاکستان پینل کوڈ کے الزامات ہیں۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ پہلے گرفتار کرتے ہیں اور پھرتحقیقات کرتے ہیں۔

102 افراد کی فہرست کو خفیہ کیوں رکھاجارہاہے

عمران خان کے وکیل عزیز بھنڈاری نے اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں بہت سے حقائق تسلیم شدہ ہیں جن سے بدنیتی اخذ کی جاسکتی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملزم کی تعریف نہیں کی گئی۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ اگراٹارنی جنرل حقائق سےاتفاق نہیں کرتے تو بتائیں۔ جسٹس عائشہ نے بھی اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ آپ نےڈیٹابھی فراہم کرناہے۔ جواب میں اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ میں تمام ریکارڈ تحریری طورپرجمع کرا دوں گا۔

جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا ملزمان پر چارج فریم ہو گیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے انہیں بتایا کہ چارج فریم نہیں ہوا،الزامات کی بنیادپرکارروائی ہوئی۔

اٹارنی جنرل نےزیرحراست102افراد کی تفصیلات پیش کیں اور بتایا کہ اس وقت 102ملزمان ادارے کی تحویل میں ہیں، ملزمان کوگھروالوں سےفون پربات کرنے کی اجازت دی گٸی ہے۔ ملزمان کواہلخانہ سےہفتےمیں ایک بارملاقات کی اجازت ہوگی۔

چیف جسٹس نے سربمہر لفافہ کھول کر تفصیلات دیکھتے ہوئے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا گرفتار لوگوں کوخوراک فراہم کی جا رہی ہے؟میں نےکچھ جیلوں کا دورہ کیا ،وہاں بھی ملزمان کوفون پر بات کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ملزمان کوجو کھانا دیا جاتا ہےوہ عام حالات سےکافی بہتر ہے۔ کھانا محفوظ ہے یا نہیں،اس کا ٹیسٹ تونہیں ہوتا مگروہ کھانا کھانے سے کسی کو کچھ ہوا تو ذمہ داری بھی منتقل ہوجائےگی۔

جسٹس عائشہ ملک نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیوں خفیہ رکھا جا رہا کہ 102ملزمان کون ہیں، کیا ان افراد کی فہرست کو پبلک کرسکتے ہیں؟ جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی نہیں،ابھی وہ زیرتفتیش ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے ٹرائل کےخلاف فوری حکم امتناع جاری نہیں کیا ، امیدہےکہ ملزمان کا فوری ٹراٸل شروع نہیں ہوگا۔

ان ریمارکس کے ساتھ ہی چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت جولائی کےتیسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔

9 رُکنی لارجر بینچ سے 6 رکنی بینچ تک

یاد رہے کہ فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے چیف جسٹس پاکستان نے 9 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔

تاہم پہلی سماعت میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود نے اعتراضات اٹھاتے ہوئے خود 9 رکنی لارجر بینچ سے علیحدہ کیا جس کے بعد چیف جسٹس نے 7 رکنی نیا بینچ تشکیل دیا تھا۔

گزشتہ روز ہونے والی سماعت میں حکومتی اعتراض پرجسٹس منصور علی شاہ نے بھی خود کو بینچ سے علیحدہ کرلیا جس کے بعد اب 6 رُکنی بینچ سماعت کررہا ہے۔

درخواست گزارکون ہیں

سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ، سینیئر وکیل اعتزاز احسن، کرامت علی اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے دائرکردہ درخواستوں میں سپریم کورٹ سے فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کر رکھی ہے۔

واضح رہے کہ حکومت نے9 مئی کے واقعات کے بعد فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف مقدمات ملٹری کورٹ میں چلانے کا فیصلہ کیا تھا اور متعدد افراد کے مقدمات فوجی عدالت میں بھجوائے جاچکے ہیں۔

اس سے قبل آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی سربراہی میں ہونے والی فارمیشن کمانڈرز کانفرنس کے دوران اس عزم کا اظہارکیا گیا تھا کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد اوران کے سہولت کاروں اورماسٹرمائنڈز کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔

اس کیس میں اعتزاز احسن کے وکیل لطیف کھوسہ، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل، سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی، شہری جنید رزاق کے وکیل سلمان اکرم راجہ اپنے دلائل مکمل کرچکے ہیں۔

Supreme Court of Pakistan

Military Court

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div