چیچن لیڈر قادریوف کے کوما میں جانے کی افواہیں پھیل گئیں
روس نے چیچن رہنما اور سابق صدر رمضان قادریوف کے کوما میں جانے سے متعلق افواہوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پاس رمضان قادروف کی صحت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے پیر18 ستمبرکو میڈیا کو بتایا کہ ، ’ہمارے پاس اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ کسی بھی صورت میں، صدارتی انتظامیہ شاید ہی صحت کا سرٹیفکیٹ دے سکتی ہے، اس لیے ہمارے پاس آپ کو بتانے کے لیے کچھ نہیں ہے‘۔
پیسکوف نے یہ بیان سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اطلاعات کے بعد دیا جس میں کہا گیا تھا کہ قادریوف کوما میں جا چکے ہیں۔
افواہیں پھیلنے کے بعد اتوار کے روز نامعلوم مقام سے قادریوف کی دو ویڈیوز جاری کی گئیں۔
پہلی تصویر میں وہ چہل قدمی کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ دوسرے میں، وہ لوگوں کو کھیلوں میں حصہ لینے کیلئے کہہ رہے ہیں۔
انہیں چیچن اور روسی زبانیں بولتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔
ویڈیو کے کیپشن میں کہا گیا ہے کہ ’میں ہراس شخص کو جو انٹرنیٹ پرسچ اور جھوٹ میں فرق نہیں کر سکتا ، پُرزور تجویز کرتا ہوں کہ وہ چہل قدمی کرے، تازہ ہوا لے اور اپنے خیالات ترتیب میں رکھے۔ بارش حیرت انگیز طور پرحوصلہ افزا ہو سکتی ہے‘۔
فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ ویڈیوز کب ریکارڈ کی گئیں۔
رمضان قادریوف کی صحت کے بارے میں قیاس آرائیاں اس وقت بڑھ گئیں جب یوکرین کے خبر رساں ادارے اوبوزریوٹیل کی ایک رپورٹ میں سیکیورٹی سروس کے ترجمان کے حوالے سے کہا گیا کہ قادروف کی حالت تشویشناک ہے۔ ان کی موجودہ بیماریاں بڑھ گئی ہیں۔
اس سے قبل پیر کے روز اوبوزرویٹل نے خبر دی تھی کہ قادروف کا مبینہ طور پر گردے کا ناکام ٹرانس پلانٹ ہوا ہے۔
قادریوف یوکرین پر ماسکو کے حملے کے پرجوش حامی رہے ہیں اور ان کے فوجی وہاں باقاعدہ روسی افواج کے شانہ بشانہ لڑتے رہے ہیں۔
قادریوف یوکرین پر ماسکو کے حملے کے پرجوش حامی رہے ہیں اور ان کے فوجی وہاں باقاعدہ روسی افواج کے شانہ بشانہ لڑتے رہے ہیں۔ سابق باغی جنگجو اور کریملن کے اتحادی بننے والے قادروف طویل عرصے سے خود کو صدر ولادیمیر پیوٹن کا ’پیدل سپاہی‘ کہتے رہے ہیں۔
قادریوف 2007 میں چیچنیا کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے اکثریتی مسلم چیچنیا پر حکومت کی ہے جبکہ ان پر اپنے مخالفین کے ماورائے عدالت قتل اور تشدد کا حکم دینے کا الزام ہے۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔