برطانیہ میں پولیس کے ساتھ بحث کو ہندو مسلم تنازعہ بنانے کی کوشش
برطانیہ کے لیسٹرشائر میں ہندوؤں کے تہوار گنیش چترتھی کی مناسبت سے بنا اجازت جلوس نکالنے پر پولیس کے ساتھ ہوئی ہاتھا پائی مذہبی منافرت کی شکل اختیار کرگئی ہے۔
لیسٹرشائر پولیس نے بدھ کو واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایک شخص کو پیر کی شام حراست میں لیا گیا اور اسے تفتیش کے بعد رہا کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کو ایک ”غیر منصوبہ بند جلوس“ کے دوران پیر کو ایک ”مجاز مذہبی تہوار کی تقریب“ کے بعد پیش آیا۔
پولیس کا یہ بیان انسائٹ یو کے کی سوشل میڈیا پوسٹ کے جواب میں آیا ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ گنیش چترتھی کے جلوس کے دوران ایک ہندو پجاری کو مبینہ طور پر ایک پولیس افسر دھکیل رہا ہے۔
حالانکہ اس موقع پر اور بھی پولیس والے موجود تھے، لیکن پوسٹ میں مسلمان پولیس اہلکار کا نام خاص طور پر واضح کیا گیا۔
پوسٹ میں کہا گیا، ’گزشتہ رات لیسٹرشائر پولیس کے آفیسر آدم احمد نے گنیش چتورتھی منانے والے پرامن ہندو عقیدت مندوں کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا‘۔
اس حوالے سے بھارت کے معروف اسکالر اشوک سوین نے کہا کہ ’واقعے میں کئی پولیس افسران شامل تھے، لیکن انہوں نے ایک مسلم افسر کو نشانہ بنایا تاکہ اسے ہندو مسلم تنازعے میں بدل دیا جائے‘۔
ہندوستانی نژاد برطانوی شہری کپل ڈڈوکیا نے اس واقعے پر برطانیہ کی ہوم سکریٹری سویلا بریورمین کو ایک خط لکھا، جس میں کہا گیا کہ ’آدم احمد نامی ایک پولیس آفیسر نے ٹیم کے ہمراہ گنیش چترتھی پوجا اور جلوس کو روکنے کی کوشش کی‘۔
پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے دھرمیش لاکھانی نامی شخص نے دعویٰ کیا کہ اتوار کو جلوس کے دوران ایک ”بے قابو پولیس افسر“ سامنے آیا اور اس نے شیولیا مندر کے 70 سالہ بڑے پجاری کو ہراساں کرنا شروع کر دیا، جو مورتیوں کو کوسنگٹن پارک میں پانی میں ڈبونے کے لیے لے جا رہے تھے۔
لاکھانی نے کہا کہ ’وہ پولیس افسر پجاری کے ساتھ بدتمیزی کرتا رہا اور اسے جلوس سے دور کھینچتا رہا، جس سے پوجا ٹوٹ گئی۔ پولیس افسر نے پجاری سے بات کرنے کے لیے اسے ایک طرف گلی میں کھینچنے کی کوشش کی لیکن پجاری خوفزدہ تھا‘۔
اس کے بعد لاکھانی نے مداخلت کی اور افسر سے کہا کہ وہ پجاری کو چھونا بند کرے۔
انہوں نے کہا کہ جب وہ مندر پہنچے تو اسی پولیس افسر نے دوبارہ گروپ کو ہراساں کیا۔
لاکھانی نے ٹائم آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ’میں نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھایا تو اس نے کہا کہ میں نے اس پر حملہ کیا اور مجھے پرتشدد طریقے سے کھینچنا اور دھکا دینا شروع کر دیا۔ پھر مجھے گرفتار کر لیا گیا‘۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے افسران نے جلوس کے شرکاء سے معلومات اکٹھی کرنے اور تقریب کی تفصیلات طلب کرنے کی کوشش کی۔ اور اس دوران مزاحمت پر 55 سالہ شخص کی گرفتاری عمل میں آئی۔
لیسٹرشائر پولیس کے ترجمان نے کہا، ’ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ 55 سال کی عمر کے ایک شخص کو 18 ستمبر کو لیسٹر کے بیلگریو روڈ پر ایک ہنگامی کارکن پر حملہ کرنے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔‘
پولیس کے مطابق ’اس شخص کو حراست میں لے لیا گیا تھا اور پوچھ گچھ کے بعد اسے رہا کر دیا گیا تھا‘۔
ترجمان نے بتایا کہ ایک مجاز مذہبی تہوار کا جشن شام کے اوائل میں کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا تھا، لیکن اس کے بعد سڑک پر ایک اضافی جلوس برآمد ہواجس کی اجازت نہیں لی گئی تھی۔
لیسٹرشائر پولیس کا دعویٰ ہے کہ جلوس کے حوالے سے قانونی تقاضے پورے نہیں ہوئے۔
لیسٹرشائر پولیس نے اس بات پر زور دیا کہ جلوسوں کے حوالے سے کچھ قانونی تقاضے ہیں، اور افسران کو ان کی تعمیل یقینی بنانے کا کام سونپا گیا ہے۔ گرفتاری کا باعث بننے والا واقعہ اس وقت پیش آیا جب افسران نے تقریب کے منتظم کا تعین کرنے کے لیے ہجوم سے بات کرنے کی کوشش کی۔
لیسٹر ایک متنوع کمیونٹی والا شہر ہے، جسے ستمبر 2022 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہوئے کرکٹ میچ کے بعد فرقہ وارانہ جھڑپوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بدامنی کے نتیجے میں متعدد گرفتاریاں ہوئیں۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔