Aaj News

جمعہ, جولائ 19, 2024  
13 Muharram 1446  

ورلڈکپ: پاکستان کی مایوس کن کارکردگی، بھارت نے 7 وکٹوں سے دھول چٹادی

بھارتی ٹیم نے 192 رنز کا ہدف 31 ویں اوورز میں 3وکٹوں پر حاصل کرلیا
اپ ڈیٹ 14 اکتوبر 2023 08:39pm
فوٹو۔۔۔ اے ایف پی
فوٹو۔۔۔ اے ایف پی

پاکستان کرکٹ ٹیم آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ میں بھارتی سورماؤں سے شکست کی تاریخ بدلنے میں ایک بار پھر ناکام ہوگئی، میگا ایونٹ کے 12ویں میچ کے سب سے بڑے ٹاکرے میں بھارت نے گرین شرٹس کو باآسانی 7 وکٹوں سے شکست دے دی۔

احمد آباد میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان کی جانب سے دیے گئے 192 رنز کا ہدف بھارت نے 31 ویں اوورز میں صرف 3 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ہائی وولٹیج ٹاکرا جو بھارتی شہر احمد آباد کے نریندرا مودی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، میچ کا ٹاس بھارتی کپتان روہت شرما نے جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا اور پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی۔

پاکستان کی بیٹنگ

پاکستان کی ٹیم بھارتی بولرز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی، پاکستان کا کوئی بھی بلے باز خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکا، قومی ٹیم پورے 50 اوورز بھی نہیں کھیل سکی اور 42.5 اوورز میں 191 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹ گئی جبکہ 6 کھلاڑی ڈبل فگرز میں بھی داخل نہ ہوسکے۔

پاکستان کی جانب سے امام الحق اور عبداللّٰہ شفیق نے اننگ کا آغاز کیا اور اوپنرز ایک بار پھر اچھا آغاز دینے میں ناکام رہے، پاکستان کو پہلا نقصان 41 رنز پر عبداللہ شفیق کی صورت میں اٹھانا پڑا، عبداللہ 20 رنز بناکر محمد سراج کا شکار ہوئے۔

پاکستان کو دوسرا نقصان 12.3 اوورز میں 73 کے مجموعی اسکور پر امام الحق کی صورت میں اٹھانا پڑا، امام الحق 38 گیندوں پر 36 رنز اسکور کرکے ہاردک پانڈیا کی گیند پرآؤٹ ہوگئے۔

اس کے بعد کپتان بابراعظم اور محمد رضوان تیسری وکٹ کے لیے 82 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی اور اور اس دوران دونوں نے گراؤنڈ کے چاروں اطراف خوبصورت شاٹس کھیلے۔

پاکستان کی تیسری وکٹ 29.4 اوورز میں 155 رنز پر گری جب بابر اعظم کو 50 رنز پر محمد سراج نے بولڈ کیا۔

بابر اعظم کے آؤٹ ہوتے ہی پاکستان کی وکٹیں سوکھے پتوں کی طرح جھڑنے لگیں، 32.2 اوورز میں 162 رنز پر پاکستان کو چوتھا نقصان اٹھانا پڑا، سعود شکیل 6 رنز کے مہمان ثابت ہوئے اور وہ کلدیپ یادیو کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوگئے اور پھر اسی اوور میں افتخار احمد بھی 4 رنز بنا کر بولڈ ہوگئے، انہیں بھی کلدیپ یادیو نے آؤٹ کیا۔

اس کے بعد پاکستان کی چھٹی وکٹ 33ویں اوورز میں 168 رنز پر گری، محمد رضوان بھی 69 گیندوں پر 49 رنز بنا کر جسپریت بمراہ کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔

قومی ٹیم کی ساتویں وکٹ 171 رنز پر گری، شاداب خان صرف 2 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے انہیں بھی جسپرت بمراہ نے کلین بولڈ کیا۔

اس کے بعد محمد نواز اور حسن علی نے کچھ مزاحت کی اور ٹیم کا اسکور 187 تک پہنچایا تو قومی ٹیم کی یکے بعد دیگرے 2 وکٹیں گرگئیں۔

محمد نواز 4 اور حسن علی 12 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے، محمد نواز کو ہاردک پانڈیا نے آؤٹ کیا جبکہ حسن علی کو رویندرا جڈیجا نے پویلین بھیجا۔

4 رنز کے اضافے کے بعد حارث رؤف بھی 2 رنز بناکر رویندرا جڈیجا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوگئے اور یوں پوری ٹیم 43 اوویں اوورز میں 191 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔

بھارت کے تمام بولرز نے انتہائی عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا، بھارت کی جانب سے جسپرت بمراہ، محمد سراج، ہرتیک پانڈیا، کلدیپ یادیو، رویندرا جڈیجا نے 2 ، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ شردل ٹھاکر کوئی وکٹ لینے میں کامیاب نہیں ہوئے، انہوں نے محض 2 اوور کرائے۔

بھارت کی بیٹنگ

پاکستان کے 191 رنز کے تعاقب میں بھارتی ٹیم کی جانب سے کپتان روہت شرما اور شبمن گل نے اننگز کا جارحانہ آغاز کیا، پہلی وکٹ 23 کے اسکور پر گری جب شبمن گل 11 گیندوں 16 رنز بناکر شاہین شاہ آفریدی کا شکار بن گئے۔

بھارت کے دوسرے آؤٹ ہونے والے بیٹر ویرات کوہلی تھے، جو 79 کے مجموعی اسکور پر 16 رنز بناکر حسن علی کو وکٹ دے بیٹھے، پہلی وکٹ جلد گرنے کے بعد روہت شرما اور ویرات کوہلی نے دوسری وکٹ پر 56 رنز کی شراکت داری قائم کی۔

اس کے بعد روہت شرما نے شیریس ایر کے ساتھ مل تیسری وکٹ پر 77 رنز جوڑے اور ٹیم کا اسکور 156 تک پہنچایا تو بھارت کو تیسرا نقصان اٹھانا پڑا۔

پاکستان کو تیسری کامیابی بھارتی کپتان روہت شرما کی وکٹ کی صورت میں ملی، جنہوں نے 63 گیندوں پر 86 رنز کی برق رفتار اننگز کھیلی، اس دوران انہوں نے 6 چھکے اور 6 چوکے لگائے، ان کی وکٹ شاہین شاہ آفریدی کے حصے میں آئی۔

اس کے علاوہ شریاس ایر نے کے ایل راہول کے ساتھ مل کر ٹیم کو جتوانے میں اہم کردار ادا کیا، شیریس ایر 53 رن اور کے ایل راہول 19 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے، شریاس ائیر کی اننگ میں 2 چھکے اور 3 چوکے شامل تھے۔

پاکستان کے بولرز بھی بیٹنگ لائن کی طرح خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے جبکہ قومی فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے 2 اور حسن علی نے ایک وکٹ حاصل کی۔

یوں بھارتی سورماؤں نے شاہینوں کو آؤٹ کلاس کرتے ہوئے یہ میچ بآسانی 7 وکٹوں سے جیت لیا جبکہ بھارت سے ہارنے کے بعد بھی پاکستان پوائنٹ ٹیبل پر چوتھی پوزیشن پر ہی براجمان ہے تاہم بھارت پہلی پوزیشن پر چلا گیا ہے ۔

پہلے بولنگ اور فیلڈنگ کے ذریعے پاکستان کو 191 رنز پر آل آوٹ کرنے والی بھارتی ٹیم کی ورلڈ کپ کی تاریخ میں لگاتار 8 ویں فتح ہے۔

بھارت کے جسپریت بمراہ کو پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا، انہوں نے7 اوور میں 19 رن دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔

ورلڈ کپ کے پہلے راؤنڈ میں پاکستان اپنے 3 میچ کھیل چکا ہے، جن میں سے 2 میچ نیدرلینڈز اور سری لنکا سے جیت چکا ہے جبکہ آج بھارت کے خلاف کھیلا جانے والا میچ ہارچکا ہے۔

میچ کا ٹاس

اس سے قبل بھارتی ٹیم کے کپتان روہت شرما نے ٹاس جیت پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔

ٹاس جیتنے کے بعد بھارتی کپتان کا کہنا تھا کہ میچ کے لیے اچھی تیاری کی ہے، کوشش کریں گے کہ اچھا کھیل پیش کریں، رات میں اوس کے امکانات ہیں اس لیے پہلے بالنگ کرنا چاہتے ہیں۔

بھارتی کپتان نے کہا کہ ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی ہے پلئینگ الیون میں ایشان کشن کی جگہ شبمن گِل کی واپسی ہوئی ہے۔

بابراعظم نے کہا کہ گزشتہ 2 میچ جیتنے کے بعد ٹیم کا مومینٹم ہائی ہے، اگر ہم بھی ٹاس جیتتے تو پہلے بیٹنگ کا ہی فیصلہ کرتے۔

بابراعظم نے مزید کہا کہ بھارت کے خلاف میچ کا کوئی پریشر نہیں تاہم فیلڈنگ میں بہتری کی گنجائش ہے، کوشش ہوگی بڑا ہدف دے کر بھارت ہوم گراؤنڈ پر شکست دیں۔

پاکستان کا اسکواڈ

پاکستانی ٹیم میں کپتان بابراعظم، عبداللہ شفیق، امام الحق، محمد رضوان، سعود شکیل، افتخار احمد، شاداب خان، محمد نواز، حسن علی، شاہین آفریدی اور حارث رؤف شامل ہیں۔

بھارت کا اسکواڈ

بھارت ٹیم میں کپتان روہت شرما، شبمن گِل، ویرات کوہلی، شیرس ایر، کے ایل راہول، ہاردیک پانڈیا، رویندرا جڈیجہ، شاردل ٹھاک ر، کلدیپ یادیو، جسپریت بمراہ اور محمد سراج شامل ہیں۔

دلوں کی دھڑکنیں تیزکرتے اس مقابلے میں پاک بھارت ٹیمیں 11 سال بعد بھارتی سرزمین پر ایکشن میں دکھائی دیں گی۔

ایک لاکھ بتیس ہزار تماشائیوں کے سامنے اس میچ سے پہلے نریندر مودی اسٹیڈیم میں رنگا رنگ تقریب کی تیاریاں بھی کی گئی ہیں، اس حوالے سے اسٹیج تیارکرلیا گیا ہے، تقریب میں 2011 کا مشہور ورلڈ کپ سانگ بھی سنایا جائے گا۔

تاہم یہ تقریب صرف اسٹیڈیم میں موجود شائقین کی تفریح طبع کے لیے ہے اور اسے براہ راست نہیں دکھایا جائے گا۔

دونوں ٹیموں کے مضبوط پہلوؤں کی بات کی جائے تو پاکستانی ٹیم کے کپتان بابراعظم اور بیٹسمین محمد رضوان بھارت کے لیے بڑا خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

روہت الیون کے پاس کوہلی، شبمن گل اور کے ایل راہول بیٹنگ کے لیے اہم ہتھیارہیں۔ پاکستان کو امید ہے کہ عبداللہ شفیق، سعود شکیل اور افتخارچھکوں سے بھارتیوں کو تگڑا جواب دیں گے جبکہ شاہین اور حارث رؤف بھارتی بلے بازوں کی وکٹیں اڑائیں گے۔

اس سے قبل اس اہم ترین میچ پر بادل منڈلا رہے تھے جب ۔بھارتی محکمہ موسمیات نے 14 اور 15 اکتوبر کو احمد آباد اور شمالی گجرات میں بارش کی پیش گوئی کی ۔ تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آسمان صاف ہے اور دھوپ نکلی ہوئی ہے۔

حمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں شیڈول ورلڈ کپ کے اس سب سے بڑے میچ کے لیے شائقین کرکٹ بے چین ہیں۔

روایتی حریف کے درمیان میچ دیکھنے کے لئے نہ صرف بھارت کے لاکھوں شائقین احمد آباد پہنچے ہیں، بلکہ بیرون ملک سے بھی مداح میچ دیکھنے بھارت آئے ہیں۔

احمد آباد کے موسم کی رپورٹ

آج صبح موصول اطلاعات کے مطابق انٹرنیشنل پاک بھارت ٹاکرے میں بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔احمد آباد میں دھوپ نکلی ہوئی ہے اور درجہ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آج زیادہ ہوا نہیں چل رہی اس لیے موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔

اس سے قبل بھارتی میڈیا کے مطابق احمد آباد میں محکمہ موسمیات کی ڈائریکٹر منورما موہنتی کا کہنا تھا کہ ماحول ابر آلود رہے گا۔ان کا کہا تھا کہ گجرات میں اگلے 5 روز کے دوران موسم خشک رہنے کی توقع ہے جبکہ احمد آباد ضلع میں 14 اکتوبر کو الگ الگ مقامات پر ہلکی بارش ہوسکتی ہے۔

یاد رہے کہ ورلڈکپ میں قومی ٹیم کا تیسرا میچ بھارت سے شیڈول ہے جبکہ اس سے قبل پاکستان نے نیدرلینڈ اور سری لنکا کو شکست دی ہے۔

مزید پڑھیں

ورلڈ کپ میں بھارتی کپتان روہت شرما نے کون کون سے ریکارڈز بنائے؟

رکشہ ڈرائیور کے بیٹے سے بھارت کا بہترین بولر بننے تک کا سفر

ورلڈکپ میں 8 ویں بار آمنا سامنا، پاکستان بھارت سے کیوں نہیں جیت پاتا؟

قومی ٹیم نے سری لنکا کے خلاف 345 رنز کا ہدف حاصل کرکے ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے زیادہ ہدف کا کامیاب تعاقب کرنے کا ریکارڈ بنایا تھا۔

اس میچ میں وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے ناقابل شکست 131 اور عبداللہ شفیق نے 113 رنز بنائے تھے۔

babar azam

Pakistan Cricket Team

Indian cricket team

world cup 2023