Aaj News

پیر, مئ 20, 2024  
11 Dhul-Qadah 1445  

عمران خان کے سیل کی دیوار تڑوا دی، اب کیا کمرہ بھی تڑوا دوں، جج ابوالحسنات

چیئرمین پی ٹی آئی نےکہا میں جیل میں محفوظ محسوس کر رہا ہوں، وکیل سے مکالمہ
اپ ڈیٹ 25 اکتوبر 2023 02:16pm

خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نعیم پنجوتھا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نےکہا میں جیل میں محفوظ محسوس کر رہا ہوں، جائیں ان سے جا کر پوچھ لیں، آپ میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو کر رہے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نعیم پنجوتھا اسلام آباد کی آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت میں جج ابوالحسنات ذوالقرنین کے روبرو پیش ہوئے، اور مکالمہ کرتے ہوئے شکایت کی کہ آپ کے آرڈرز پرعملدرآمد نہیں ہوتا، جیل میں وکلاء کو چیئرمین پی ٹی آئی سے نہیں ملنے دیا جاتا۔

جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹیو معاملات ہیں، جیل مینوئل کےمطابق جیل میں معاملات چلتے ہیں۔

نعیم پنجوتھا نے درخواست کی آپ سپرٹنڈنٹ اڈیالہ جیل جو کہیں گے، ویسا ہی وہ کریں گے۔ جس پر جج ابوالحسنات نے کہا کہ اگر زیادہ وکلاء کی چیئرمین پی ٹی آئی سے میٹنگز ہوں گی تو معاملات دیکھنے پڑتےہیں۔

نعیم پنجوتھا نے سوال اٹھایا کہ سائفر کیس سیکرٹ طریقہ کار سے چلایا جا رہا ہے۔ جس پر جج ابوالحسنات نے کہا کہ سائفر کیس ہے ہی سیکرٹ ایکٹ کے تحت، ہم نے تو نہیں بنایا، قانون 1923 کا ہے۔

وکیل نعیم پنجوتھا دوبارہ استدعا کی کہ کم سے کم وکلاء کو تو جیل میں سماعت سننے کی اجازت دی جائے۔ جس پر جج ابوالحسنات نے کہا کہ صحافیوں سے سائفرکیس کو دور کرنے پر کوئی مسئلہ نہیں۔

نعیم پنجوتھا نے سوال اٹھایا کہ اڈیالہ جیل میں کمرہ عدالت بہت چھوٹا ہے۔ جس پر جج ابوالحسنات نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے سیل کی دیوار تڑوا دی، اب کیا کمرہ بھی تڑوا دوں۔

وکیل نعیم پنجوتھا نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جوڈیشل کمپلیکس پیش کرنے پر بہانے بنائے جارہے، سپرٹنڈنٹ جیل جان کو خطرے کا بیان دیتاہے۔ جج ابوالحسنات نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اہم شخصیت تو ہیں، اُن کی زندگی کو تحفظ دینا ضروری ہے۔

وکیل نعیم پنجوتھا نے اعتراض اٹھایا کہ اداروں نے چیئرمین پی ٹی آئی کو سیکیورٹی نہیں دی، ہائیکورٹ میں معاملہ پینڈنگ ہے، نوازشریف کو تو انہوں نے پوری سیکیورٹی دی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی اپنی سیکیورٹی خود لاتے تھے، ان پر بوتلیں بھی پھینکی گئیں، چیئرمین پی ٹی آئی کو سیکیورٹی دینا انتظامیہ کا کام ہے۔

جج الوالحسنات نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کی زندگی کو تحفظ دینا ہے، میری اٹک جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی سے گھنٹہ بات ہوئی، چیئرمین پی ٹی آئی نےکہا میں جیل میں محفوظ محسوس کررہاہوں، جائیں پوچھیں چیئرمین پی ٹی آئی سے کہ انہوں نے کیا جیل میں محفوظ ہونے کا نہیں کہا، چیئرمین پی ٹی آئی کے جیل میں محفوظ ہونے کے حوالے بیان کو سپرٹنڈنٹ جیل نے دیکھناہے۔

جج ابوالحسنات نے کہا کہ ابھی تک چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو تحفظ دے کر کیس بہت آسانی سے چل رہا ہے، 20 سال وکالت کی، وکالت کرنا آسان ہے، جج کی کرسی پر بیٹھنا مشکل ہے، کیا اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کے حوالے سے کوئی ڈائریکشن ملی۔

وکیل نعیم پنجوتھا نے کا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہمارے معاملات پینڈنگ رہتے ہیں۔ جس پر جج ابوالحسنات نے کہا کہ مجھے کوئی ایک ایسی ملاقات سے متعلق درخواست بتا دیں جو میں نے مسترد کی ہو۔

نعیم پنجوتھا نے جج کو جواب میں کہا کہ آپ نے درخواستِ ضمانت مسترد کی، فردجرم روکنے کی درخواست مسترد کی۔ جس پر جج ابوالحسنات نے کہا کہ قانونی درخواستوں کی بات نہ کریں، میں ملاقات سے متعلق درخواستوں کا کہہ رہا، سپرٹنڈنٹ جیل کوشٹ اپ کال دی تھی، سائیکل اسی وقت چیئرمین پی ٹی آئی کومہیا کروائی، آپ میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو کر رہےہیں۔

جج ابوالحسنات نے چیئرمین پی ٹی آئی سے وکلاء سےملاقات سے متعلق سپرٹنڈنٹ جیل کو ہدایت جاری کردی۔

imran khan

Judge Abul Hasnat Zulqarnain

IMRAN KHAN IN JAIL