Aaj News

بدھ, مئ 29, 2024  
20 Dhul-Qadah 1445  

فیض آباد دھرنا کمیشن سابق آرمی چیف، وزیراعظم اور چیف جسٹس کو بھی بلا سکے گا، دو ماہ میں تحقیقات مکمل کرنی ہوں گی

طلبی پرپیش نہ ہونیوالوں کو گرفتار کرنے کا بھی اختیار کمیشن کے پاس ہوگا، عدالت
اپ ڈیٹ 15 نومبر 2023 05:23pm
فوٹو — فائل
فوٹو — فائل

وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں انکوائری کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن سپریم کورٹ کو پیش کردیا۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کمیشن کو سابق آرمی چیف، وزیراعظم اور چیف جسٹس کو بلانے کا بھی اختیار ہوگا، اور طلبی پر پیش نہ ہونے والوں کو گرفتار کرنے کا بھی اختیار کمیشن کے پاس ہوگا۔

سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ بینچ میں شامل ہیں۔

سماعت سے کچھ دیر قبل ہی وفاقی حکومت نے تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا، سابق آئی جی اختر علی شاہ کمیشن کے سربراہ ہوں گے، اور دیگر میں ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ اور سابق آئی جی طاہرعالم خان شامل ہیں۔ کابینہ نے انکوائری کمیشن کے تفصیلی ٹی اوآرز کی بھی منظوری دے دی، منظور شدہ نوٹیفکیشن سپریم کورٹ میں پیش کردیا گیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کے ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے تین رکنی کمیشن تشکیل دے دیا ہے جو دو ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گا۔

وفاقی حکومت کی طرف سے قائم کیا گیا یہ کمیشن پبلک آفس ہولڈرز، خفیہ اداروں، سرکاری ملازمین یا دیگر افراد کے اس دھرنے میں ملوث ہونے کے حوالے سے حقائق کا تعین کرے گا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ یہ کمیشن اس دھرنے کے وقت ملک کے وزیر اعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس کے عہدوں پر فائز افراد کو بھی طلب کرسکتا ہے۔

یہ کمیشن، کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت تشکیل دیا گیا ہے اور دو ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گا اور مستقبل میں ایسے ممکنہ دھرنوں سے نمٹنے سے متعلق تجاویز بھی وفاقی حکومت کو دے گا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق تحقیقاتی کمیشن اس بات کا تعین کرے گا کہ کوئی پبلک آفس ہولڈر قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب تو نہیں ہوا اور یہ کہ کیا خفیہ اداروں کے اہلکار، سرکاری ملازم یا دیگر اشخاص دھرنے میں ملوث تھے۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ انکوائری کمیشن میں وزارت دفاع کے کسی نمائندے کوکیوں شامل نہیں کیا گیا؟ حکومتی کمیشن یا تو آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ہے یا پھر نئی تاریخ لکھے گا، اور نیا ٹرینڈ بھی بنا سکتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت میں بیان دیا کہ کمیشن کو مزید وقت درکار ہوا تو حکومت مزید وقت دے گی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا یہ کمیشن اس معاملے سے ڈیل کرنے کے قابل ہے۔ ہم وفاقی حکومت کو کوئی ڈائریکشن نہیں دیں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم صرف اپنے تحفظات بتا رہے ہیں۔

سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے کمیشن پر تحفظات کا اظہار کر دیا اور کہا کہ دو ریٹائرڈ افسران سابق ڈی جی آئی ایس آئی، چیف جسٹس یا وزیر اعظم کو بلا سکیں گے، اس پر شک ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کے شک کی بنیاد کیا ہے، آپ دو مہینے بعد کمیشن کا کام دیکھ کر جوکہنا ہوا کہہ سکتے ہیں، ہم امید کرتے ہیں آپ کے خدشات غلط ثابت ہوں۔

ابصار عالم نے کہا کہ میں اسی امید پر انتظار کروں گا۔

شیخ رشید کے وکیل نے دھرنا کیس کے فیصلے پر اپنی نظرثانی درخواست واپس لے لی، عدالت نے درخواست واپس لینے پرخارج کردی۔

شیخ رشید کے وکیل نے عدالت میں مؤقف پیش کیا کہ شیخ رشید خود عدالت میں بیٹھے ہیں۔

چیف جسٹس نے شیخ رشید کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ نے نظرثانی دائرکیوں کی تھی۔ جس پر وکیل نے بتایا کہ کچھ غلط فہمیاں ہوئیں جس پر نظرثانی دائر کی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پاکستان مذاق تونہیں ہے، اس ملک کو مذاق نہ بنایا جائے کہ جو دل چاہے کریں، پورے ملک کو نچوایا پھر حکم آیا تو نظرثانی واپس لے لیا، نظرثانی 4 سال بعد واپس لینا عجیب فیصلہ ہے، ججز سمیت سب لوگ قابل احتساب ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جب دل چاہے جلاؤ، گھیراؤ اور سڑکیں بند کرا دو، جب کھڑے ہونے کی باری آتی ہے تو سب بھاگ جاتے ہیں، ہم خود کے ہی دشمن بن چکے ہیں، آپ اپنے ملک سے مخلص نہیں، مزید خدمت کا موقع ملے گا تو ایسی خدمت کریں گے۔

چیف جسٹس نے شیخ رشید کو روسٹرم پر بات کرنے سے روک دیا۔

چیف جسٹس نے آج کی سماعت کا حکمنامہ لکھوانا شروع کر دیا اور کیس کی سماعت 22 جنوری تک ملتوی کردی۔

آج کی سماعت کا حکمنامہ

چیف جسٹس نے حکمنامے میں کہا کہ کسی کو استثنی نہیں انکوائری کمیشن سب کو بلا سکتا ہے، کمیشن سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم کے لیے گئے ناموں والے افراد کو بھی بلانے کا اختیار رکھتا ہے، اور اسے سابق آرمی چیف، وزیراعظم اور چیف جسٹس کو بلانے کا بھی اختیارہوگا، طلبی پرپیش نہ ہونیوالوں کو گرفتار کرنے کا بھی اختیار کمیشن کے پاس ہوگا۔

چیف جسٹس نے حکمنامے میں کہا کہ سچ اگلوانا ہو تو ایک تفتیشی بھی اگلوا لیتا ہے، اور نہ اگلوانا ہو تو آئی جی بھی نہیں اگلوا سکتا، کیا چار جنرلز پر مشتمل کمیشن ہوتا تو ٹھیک ہوتا، ریٹائرڈ افسران سے انکوائری کرانے کا مقصد آزادانہ انکوائری ہوسکتا ہے، انکوائری کمیشن کارکردگی دکھا دے تو پھر اس کا احتساب کریں گے، توقع ہے کمیشن قوم اور ابصارعالم کی توقعات پر پورا اترے گا۔

حکمنامے کی تحریر کے دوران ابصار عالم نے کہا کہ عدالت نے کچھ ریمارکس دیے تھے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ریمارکس کو چھوڑیں ہمارا آرڈر پڑھا کریں وہی اصل بات ہوتی ہے، بہت سے سوال اور باتیں عدالت معاملہ سمجھنے کیلئے کرتی ہے۔

سابق چیئرمین پیمرا نے کہا کہ ایجنسیوں، جوڈیشل سسٹم اورمیڈیا مالکان کا گٹھ جوڑہے۔ جس پر جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم آفس سے نکالے جانے والے کہتے ہیں ہم بے اختیار تھے۔

ابصارعالم نے کہا کہ سپریم کورٹ نے میری برطرفی کیخلاف اپیل عدم پیروی پرخارج کی تھی۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ چاہتے ہیں برطرفی کے حکم کیخلاف اپیل سنیں تومقدمہ بحال کرائیں، مقدمہ بحال ہوگا تو ہی عدالت اپیل سن سکتی ہے، امید ہے آپ سمجھ گئے ہوں گے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ حکومت نے جوکمیشن بنا دیا ہے اسے پہلے کام مکمل کرنے دیں۔

ابصار عالم نے کہا کہ میں بحال نہیں ہونا چاہتا، صرف عدالتی نظام کی بہتری چاہتا ہوں۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی جو مرضی ہے وہ کریں لیکن تقریر نہیں کر سکتے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ابصار عالم اپنی برطرفی کیخلاف اپیل بحال کرانا چاہتے تھے، موجودہ عدالتی کارروئی میں اپیل بحال نہیں کر سکتے۔

ابصارعالم نے اپنی متفرق درخواست واپس لے لی۔

حکومت کا انکوائری کمیشن کی تشکیل پر آمادگی کا اظہار

اس سے قبل وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں انکوائری کمیشن کی تشکیل پر آمادگی کا اظہار کیا تھا، اٹارنی جنرل آف پاکستان منصور اعوان کے مطابق آج انکوائری کمیشن کا نوٹیفیکیشن سپریم کورٹ میں جمع کروا دیں گے۔

واضح رہے کہ فیض آباد دھرنا کیس میں گزشتہ سماعت پر وزارت دفاع ، انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کی نظرثانی درخواست واپس لینے کی استدعا منظور ہوئی تھی۔

سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی، ایم کیو ایم اور اعجاز الحق کی درخواست کو بھی واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دیا تھا۔

عدالت نے فیض آباد دھرنا کیس میں شیخ رشید کو نظرثانی درخواست پر نوٹس جاری کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے حکومت کی بنائی گئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی مسترد کردی تھی جب کہ وفاق کو انکوائری کمیشن تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ٹی ایل پی کے فارن فنڈنگ کی تفصیلات مسترد کرتے ہوئے دربارہ جائزہ لینے کی ہدایت کی۔

نظرثانی درخواستیں واپس لینے کا تحریری حکم نامہ

گزشتہ روز سپریم کورٹ نے اپنے تحریری حکمنامے میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں تحریک لبیک بارے اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ پیش کی، کمیٹی میں ڈی جی لاء کی سربراہی میں ڈی جی پولیٹیکل فنانس اور ڈپٹی کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس شریک تھے، اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ تحریک لبیک پاکستان نے مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کیں۔

یہ بھی پڑھیں:

فیض آباد دھرنا کیس: ’پردہ نشین کو سیاست کا شوق تھا، اب نتائج بھگتے‘

فیض آباد دھرنے کے ماسٹر مائنڈ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید تھے، خواجہ آصف

عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ ٹی ایل پی سے متعلق رپورٹ میں نقائص، تضادات اور خامیاں پائی گئیں، ٹی ایل پی کو اپنے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کرنے کا بھی کہا گیا، رپورٹ کے مطابق ٹی ایل پی نے 15 لاکھ 86 ہزار 324 روپے کی فنڈنگ کے ذرائع نہیں بتائے۔

سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس میں نظرثانی درخواستیں واپس لینے کا تحریری حکم نامہ جاری کیا تھا۔

تحریری حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کا یہ کہنا ٹی ایل پی نے فنڈز میں بے قاعدگی نہیں کی یہ بذات خود تضاد ہے، الیکشن کمیشن نے اس رقم جو ٹی ایل پی ٹی کے مجموعی فنڈز کا 30 فیصد بنتا ہے کے بارے میں کہا یہ مونگ پھلی کے دانے کے برابر ہے، الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا ٹی ایل پی کو ایک اور موقع فراہم کیا جائے۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ عدالت نے ٹی ایل پی کے اکاؤنٹس بارے درخواست نمٹا دی، اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ فیض آباد دھرنا کے محرکات جاننے کے لیے کمیشن تشکیل دیں گے، اٹارنی جنرل نے کہا وفاقی حکومت نے فیض آباد فیصلہ قبول کیا ہے۔

SUPREME COURT OF PAKISTAN (SCP)

faizabad dharna case