Aaj News

لاہور: جھگڑے کے بعد جان بوجھ کر کم عمر ڈرائیور کی گاڑی کو ٹکر، 302 کی دفعہ عدالت میں چیلنج

افنان متاثرہ خاندان کا پیچھا کر رہا تھا، مقدمے میں دفعہ 302 لگا دی گئی، پولیس ذرائع
اپ ڈیٹ 16 نومبر 2023 06:14pm
تصویر — فائل
تصویر — فائل

لاہور کے ڈیفنس فیز سیون میں ٹریفک حادثے میں 6 افراد کے جاں بحق ہونے کے واقعے کی تحقیقات کے دوران نئے انکشافات سامنے آ گئے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق کم عمر ڈرائیورافنان کی جاں بحق افراد سے جھڑپ ہوئی تھی، افنان گاڑی میں بیٹھی خواتین کا پیچھا کرتا رہا، جس پر متاثرہ گاڑی کے ڈرائیورنے گاڑی روک کر افنان کو ڈانٹا تھا۔

ذرائع نگراں پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ دوسری گاڑی سے حسنین کے والد نے بھی ملزم کو سمجھایا کہ خواتین کو ہراساں نہ کرو لیکن ملزم افنان دھمکیاں اور گالیاں دیتا رہا۔

ذرائع نے کہا کہ حسنین اپنی بہن اور بیوی کو لے کر آگے نکلا، تو ملزم نے دوبارہ پیچھا شروع کر دیا، ملزم افنان نے 160 کی اسپیڈ سے گاڑی دوسری گاڑی سے ٹکرا دی۔

ذرائع نے مزید کہا کہ حادثے کے بعد حسنین کی گاڑی 70 فٹ روڈ سے دور جاگری، حادثے کے بعد چار افراد ملزم کو چھڑانے پہنچے لیکن لوگوں کا غصہ دیکھ کر بھاگ گئے۔

نگراں وزیراعلیٰ محسن نقوی نے آئی جی پولیس کو مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات لگانے کی ہدایت کی ہے۔ متاثرہ فیملی نے الزام عائد کیا کہ پولیس تحقیقات میں ہمارے ساتھ اچھا تعاون نہیں کر رہی ہے۔

متاثرہ فیملی کا کہنا ہے کہ یہ روڈ ایکسڈینٹ نہیں، ٹارگٹ کلنگ تھی اور اسی واقعے پرمحسن نقوی کو گزشتہ شب اعلیٰ حکومتی عہدے داروں اور پولیس نے بریفنگ دی گئی۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ چھ افراد کی ہلاکت کے مقدمے میں دفعہ 302 لگا دی گئی ہے، واقعہ کی تفتیش ڈی ایس پی کاہنہ کو دے دی گئی، جبکہ ملزم افنان مقدمہ درج ہونے کے بعد جیل جا چکا ہے۔

ملزم نے 302 کی دفعات شامل کرنے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے، درخواست میں نگراں وزیراعلیٰ، سی سی پی او لاہور اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ ملزم کی 18 برس سے کم ہے، جیوینائل کورٹ میں ملزم کا ٹرائل ہو سکتا ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ آئین پاکستان ہر شہری کو فئیر ٹرائل کا حق دیتا ہے، موجودہ کیس میں غیر ضروری طور پر 302 کی دفعات لگا دی گئی ہیں، دالت نگران وزیر اعلی پنجاب،سی سی پی اولاہورسمیت دیگرکو ذاتی حیثیت میں طلب کرے، اور درخواست گزار کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

punjab

lahore police

Punjab police

Road Accident

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div