Aaj News

پیر, مارچ 04, 2024  
22 Shaban 1445  

میں ایک زندہ لاش تھا، دورانِ حراست موت زیادہ آسان آپشن تھا، عمران ریاض

صحافی عمران ریاض خان کا رہائی کے بعد پہلے انٹرویو میں انکشافات
اپ ڈیٹ 10 دسمبر 2023 09:29pm
اسکرین گریب: یوٹیوب/کراس اگزامینیشن ود میاں علی اشفاق
اسکرین گریب: یوٹیوب/کراس اگزامینیشن ود میاں علی اشفاق

پاکستان معروف اور سینئیر صحافی عمران ریاض خان کا کہنا ہے کہ ’تکلیف زیادہ تب ہوتی ہے جب کوئی اپنا مارتا ہے‘۔

اپنی رہائی کے بعد ایک یوٹیوب پوڈکاسٹ کیلئے دیے گئے پہلے انٹرویو میں عمران ریاض نے کہا کہ جب آپ کو پہلے دن میں ملا تو زندہ لاش کی طرح ہی تھا، اس سے بھی گئی گزری حالت میری رہی ہے۔

عمران ریاض کو نو مئی کے فسادات کے دو دن بعد اس وقت سیالکوٹ ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا جب وہ بظاہر ملک چھوڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہیں سیالکوٹ کے تھانہ کینٹ اور سیالکوٹ جیل لے جایا گیا، اور 15 مئی کو پولیس نے عدالت کو بتایا کہ عمران ریاض تحریری حلف نامہ جمع کروا کر جیل سے رہا کردیے گئے ہیں، اور اب وہ پولیس کی تحویل میں نہیں۔

عمران ریاض کے والد نے 16 مئی کو تھانہ سول لائنز سیالکوٹ میں بیٹے کے مبینہ اغوا کی ایف آئی آر درج کرائی، اور لاہور ہائی کورٹ میں بھی بازیابی کی درخواست جمع کرائی، جس پر 22 مئی کو عدالت نے عمران ریاض کی بازیابی کا حکم جاری کیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ نے رواں ماہ 6 ستمبر کو بھی آئی جی پولیس عثمان انور کو عمران ریاض کو بازیاب کرنے کے لیے 13 ستمبر تک مہلت دی تھی، اور 20 ستمبر کو آخری مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ 26 ستمبر تک اینکر عمران ریاض کو بازیاب کرایا جائے۔

سیالکوٹ پولیس کا کہنا تھا کہ عمران ریاض کو 11 مئی 2023 کو پولیس کی حراست سے رہائی مل گئی تھی، جبکہ 25 ستمبر کو پولیس نے بتایا کہ وہ گھر پہنچ گئے ہیں، 11 مئی سے 25 ستمبر کے دوران وہ کہاں غائب رہے اس حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

26 ستمبر کو عمران ریاض کی رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کے وکیل علی اشفاق نے کہا تھا کہ ’پولیس نے عدالت میں صرف یہ بتایا ہے کہ عمران ریاض کو عدالت کے حکم پر بازیاب کروا کے واپس گھر پہنچا دیا گیا ہے، لیکن یہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں کہ عمران کو کس نے اغوا کیا اور اتنا عرصہ تک کہاں رکھا گیا؟ کس مقصد کے لیے اغوا کیا گیا تھا؟‘

اب اپنے حراست کے دنوں کے حوالے سے پہلی بار گفتگو کرتے ہوئے عمران ریاض خان نے بتایا کہ ’(حراست کے دوران) یہ چیز مجھے زیادہ فیل (محسوس) ہو رہی تھی کہ یار میں کوئی اس ملک کا غدار تو نہیں ہوں، میں نے اس ملک کے کوئی راز تو نہیں چرائے ہوئے، میں کوئی دشمن ملک کے ساتھ تو نہیں ملا ہوا، یا میں کوئی ایسی بات تو نہیں کر رہا جو میرے ملک اور اس کے نظریات کے خلاف ہے‘۔

انہوں نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں انتہائی مشکل سے بولتے ہوئے کہا کہ میں جو بات کر رہا تھا وہ اختلافِ رائے میں آسکتی ہے اور وہ بات کوئی بھی کسی سے بھی کر سکتا ہے۔

دورانِ گفتگو ان کی بولنے کے انداز میں کافی زیادہ لکنت محسوس ہوئی۔

کس یاد سب سے زیادہ آئی؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’یاد تو اللہ کی آئی سب سے زیادہ‘۔ لیکن اتنا لمبا عرصہ ہو تو دنیاوی رشتوں میں پھر ’باریاں لگتی ہیں‘۔ کبھی ماں کی یاد آتی ہے کبھی باپ کی یاد آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنے والد کو جانتا ہوں مجھے پتا تھا کہ جب تک وہ مجھے ڈھونڈ نہیں لیتے چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

عمران ریاض خان نے کہا کہ جن لوگوں نے بھی میرے لیے آواز اٹھائی میں ان سب کا شکر گزار رہوں گا۔

ان کا کہنا تھا ’رانا ثناء اللہ جب بہت مشکل وقت میں تھا تو میں نے ان کیلئے آواز اٹھائی تھی‘۔

انہوں نے کہا کہ مجھے امید تھی کہ رانا ثناء اللہ کچھ نہ بھی کرسکے تو کم سے کم کیچڑ نہیں اچھالیں گے، لیکن میری ٹیم نے بتایا کہ ’اُس نے آپ کے بارے میں ناصرف لاعلمی رکھی بلکہ آپ کے خلاف پروپیگنڈے کا حصہ بنا‘۔

عمران ریاض کے مطابق رانا ثناء اللہ نے کچھ دن پہلے ان کی ٹیم سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ سیاسی بیانات تھے تو ان پر برا نہ منایا جائے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ میں کمزور تھا میرے بس میں کچھ نہیں تھا۔

انہوں نے میزبان سے سوال کیا کہ ’مجھے آپ بتائیں آج پاکستان کا میڈیا جو خبر چلاتا ہے وہ کیا میڈیا ہی بناتا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مسنگ پرسنز (لاپتا افراد) کے بارے میں یہ سوچ بنائی گئی ہے کہ ان میں بہت سے دہشتگرد ہوتے ہیں جنہیں قانونی کمیوں کی وجہ سے ’غائب کرنا پڑتا ہے‘۔

عمران ریاض نے کہا کہ ’وہ سوچ جو پھیلائی گئی تھی مجھے اس پر اب افسوس ہے، کہ میں نے کبھی زندگی میں یہ سوچا بھی کہ کوئی اگر کبھی غائب ہوا تو وہ ریاست کے مفاد میں ہوسکتا ہے، میں معافی مانگ لیتا ہوں اس کے اوپر ان سارے لوگوں سے جن کا دل دکھا ہو‘۔

انہوں نے کہا کہ ’کسی کو بھی غائب کرنا کبھی بھی جسٹیفائیڈ (قابل جواز) نہیں ہے‘۔

دورانِ حراست موت کی افواہوں پر عمران ریاض نے کہا کہ ’وہ آپشن آسان تھا، میرے سے پوچھے کہ (اس دوران) کیا آسان تھا تو وہ آسان تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ میری فیملی بتاتی ہے کہ وہ ان کیلئے قیامت کی طرح تھا، ’بندہ نہ رہے اس کی باڈی تو مل جائے نا، باڈی مل جائے تو سکون آجاتا ہے، خبر آپ کو مل گئی اب باڈی نہیں مل رہی تو بہت مشکل ہے‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں اسی ڈر سے باہر نہیں گیا کہ کہیں باہر ہی نہ رہ جاؤں۔

انہوں نے کہا کہ ’میرا تمام چینلز کو مشورہ ہے ابھی مجھے نوکری نہ دیں‘۔

ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں لوئر کورٹس کی انصاف پسندی پر حیران ہوں، میری سوچ کبھی بھی یہ نہیں تھی‘۔

انہوں نے کہا کہ لوئر کورٹ کے ججز سزائے موت کے کیسز میں ایک ایک دو دو دن میں فیصلہ کر رہے ہیں۔ حیران کن طور پر مجھے اس سے بڑا حوصلہ ملا۔

سوشل میڈیا کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ پورا ڈائنامکس ہی تبدیل ہوگیا ہے، اور اس کی کسی کو سمجھ نہیں آرہی، یہ جِن ہے بھوت، یہ نہیں جائے گا، اس کے قوانین بنانے پڑیں گے، آپ اس کو ذمہ دار تو کر سکتے ہیں کنٹرول نہیں کرسکتے، اس کو بس قانون کے دائرے میں لے آؤ۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں کے کہا کہ حوصلہ تو ٹھیک ہے، صحت بھی ٹھیک ہے، بولنے کے معاملات ایک دو دن سے بہتر ہوئے ہیں، اس میں سب سے زیادہ مدد قرآن مجید نے کی ہے، باقی زندگی میں اس کتاب کے فائدے ہی گنتا رہوں تو وہ ختم نہیں ہوسکتے، میں نے پہلی دفعہ محسوس کیا کہ یہ کتاب تو باتیں کرتی ہے’۔

عمران ریاض خان کا یہ انٹرویو ان کے وکیل میاں اشفاق نے ایک پاڈ کاسٹ میں کیا جو میاں اشفاق کے بقول ان کے یوٹیوب چینل کی پہلی پاڈ کاسٹ ہے۔ اس انٹرویو کے حوالے سے خبریں پہلے ہی گرم تھیں اور دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ عمران ریاض خان کوئی نیا کردار ادا کرنے والے ہیں۔

Interview

imran riaz khan

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div