Aaj News

فارم45: الیکشن کے بعد پی ٹی آئی اور ن لیگ کا نیا بیانیہ کیا ہے

دھاندلی کے الزامات اسی فارم کے گرد گھومتے ہیں، ن لیگ جوابی بیانیہ لے ائی
اپ ڈیٹ 12 فروری 2024 12:34pm

پاکستان میں 8 فروری کی انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون کی جانب سے نئے سیاسی بیانیہ سامنے ائے ہیں جو فارم 45 کے گرد گھومتے ہیں۔

فارم 45 پولنگ اور گنتی کا عمل مکمل ہونے کے بعد پریزائڈنگ افیسرز کی جانب سے امیدواروں کے نمائندوں کو جاری کیا جاتا ہے۔ یہ فارم ہر پولنگ سٹیشن کے لیے الگ ہوتا ہے اور ان فارمز پر درج ووٹوں کو جمع کر کے ہی ریٹرننگ افسر انتخابی حلقے کا نتیجہ جاری کرتے ہیں۔

فارم 45 پر درج ووٹوں کوجمع کر کے ایک نیا فارم 47 بنایا جاتا ہے جو پورے حلقے کے انتخابی نتیجے کا اعلان ہوتا ہے۔

پی ٹی ائی کا موقف ہے کہ فارم 45 کے حساب سے اس کے امیدوار الیکشن میں جیت رہے تھے لیکن بعد میں جب ریٹرننگ افسران نے فارم 47 جاری کیا تو پی ٹی ائی کے امیدواروں کو ہرا دیا گیا۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کا سوشل میڈیا کہہ رہا ہے کہ پی ٹی ائی نے بڑی تعداد میں جعلی فارم 45 تیار کیے اور اس کی بنا پر الیکشن میں دھاندلی کا پروپیگنڈا شروع کیا۔

پی ٹی آئی سوشل میڈیا کی جانب سے بعض امیدواروں کی ویڈیو سامنے لائی گئی ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ ان کا مخالف پی ٹی آئی امیدوار جیت رہا تھا جسے ہرایا گیا۔

اس بیانیے کو بہت بڑی تقویت اس وقت ملی جب جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمان نے سندھ اسمبلی میں اپنی جیتی ہوئی نشست یہ کہہ کر چھوڑنے کا اعلان کیا کہ اس نشست پر پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد امیدوار کامیاب ہوا تھا۔

ن لیگ کا سوشل میڈیا کہہ رہا ہے کہ یہ ہارنے والے امیدواروں کی ویڈیوز ہیں جو شکوک پھیلانے کے لیے بنائی گئیں۔

ن لیگ کے سوشل میڈیا نے ایک مبینہ آڈیو کلپ جاری کیا ہے جس میں مبینہ طورپر پی ٹی ائی کے ایک رہنما اپنے کارکن کو فارم 45 تیار کرنے کے حوالے سے ہدایات دیتے ہوئے تاکید کررہے ہیں کہ کہ ہر فارم 45 پر پریزائڈنگ افسر کے جعلی دستخط ضرور کیے جائیں کیونکہ دستخط کے بغیر اس فارم کی کوئی حیثیت نہیں۔

اس معاملے میں ڈپٹی کمشنر لیہ کے حوالے سے کچھ سینیئر صحافیوں نے دعوی کیا کہ ان پر نتائج میں ردو بدل کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا۔ لیکن اب ڈپٹی کمشنر لیہ کا ایک ویڈیو بیان سامنے آیا ہے جس میں وہ ان دعووں کی تردید کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر خان نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی پارٹی جیتی ہوئی 22 سیٹوں پر دھاندلی ہوئی ہے جن میں سے 3 اسلام آباد، 4 سندھ اور بقیہ صوبہ پنجاب میں ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ریٹرنگ افسران کو اسلام آباد کے تینوں حلقوں این اے 47،46 اور 48 کے نتائج کا نوٹیفکیشن جاری کرنے سے روک دیا ہے، دوسری جانب این اے 15 مانسہرہ میں نتائج میں مبینہ تبدیلی سے متعلق سابق وزیر اعظم نواز شریف کی درخواست پر بھی این اے 15 کا نتیجہ جاری کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

اسی طرح بلوچستان میں صوبائی اسمبلی کے حلقے پی بی 21 کے 39 پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ گنتی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

pti

PMLN

PPP

انتخابات 2024

GENERAL ELECTION 2024

FORM 45

election 2024 results

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div