Aaj News

جمعرات, مئ 23, 2024  
14 Dhul-Qadah 1445  

روزے میں پیاس بڑھانے اور پیاس بجھانے والے کھانے کون کون سے ہیں ؟

سحر و افطار کے وقت ان غذاؤں کا استعمال آپکو روزہ میں چست و توانا رکھ سکتا ہے
شائع 13 مارچ 2024 06:12pm

روزہ ہو اور گرمی کی شدت بھی ہو تو ایسے میں اکثر و بیشتر افراد کو پیاس محسوس ہوتی ہے، پیاس کی شدت اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل سے سے گھبرا کر اکثر افراد روزہ رکھنے سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔

روزہ کی حالت میں اگر مندرجہ زیل بتائے گئے کھانوں کو اپنے ڈائیٹ پلان میں شامل اور کچھ کھانوں کو نکال دیا جائے تو نا صر ف آپکا روزہ اچھا گزرے گا بلکہ آپ خود کو چست و توانا محسوس کریں گے

روزہ میں پیاس بڑھانے والے کھانے

سحری میں اگر روغنی کھانوں کا استعمال کیا جائے تو یہ بدس ہضمی کے ساتھ ساتھ سارا دن پیاس کا احساس بھی دلاتے ہیں آئیں ان کھانوں کا ذکر کرتے ہیں کہ جن سے روزے کی حالت میں شدید پیاس لگتی ہے۔

زیادہ مصالحہ والے کھانوں کا استعمال

جن غذاؤں میں زیادہ مصالحوں کا استعمال کیا جاتا ہے، ایسے کھانے روزے کی حالت میں پیاس کی شدت میں اضافہ کرتے ہیں۔ اس وجہ سے سحر و افطار کے اوقات میں کوشش کریں کہ ایسے کھانے نہ کھائيں جس میں زیادہ مرچیں یا گرم مصالحے موجود ہوں۔

میٹھے کھانے

ایسی غذائيں جن میں زیادہ کاربوہائيڈریٹ موجود ہوتے ہیں ۔ جیسے کہ سفید آٹے کی روٹی ، بیکری کا سامان ڈبل روٹی اور چاول ان تمام اشیا میں کاروبوہائيڈریٹ موجود ہوتا ہے اور ان کو کھانے کے بعد بار بار منہ سوکھتا ہے اور پیاس محسوس ہوتی ہے۔

ان کھانوں کے بجائے اگر تازہ پھلوں کا استعمال کیا جائے تو وہ مفید اور فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ اس میں موجود کاربوہائيڈریٹ قدرتی ہوتی ہے اور فوری طور پر جسم کا حصہ بن جاتی ہے۔

زیادہ چکنائی والے کھانے بھی پیاس بڑھاتے ہیں

بہت زيادہ تلی ہوئی اشیا یعنی سحری کے وقت میں پراٹھے کا استعمال بھی پیاس بڑھانے کی وجہ بنتا ہے، سحری کے وقت گھی میں تلئ جانے والے انڈے بھی پیاس کی شدت کو بڑھا سکتے ہیں اس وجہ سے ماہر غذائیت مشورہ دیتے ہیں کہ کھانوں سے پرہیز ہی بہتر ہوتا ہے پراٹھوں کے بچائے روٹی اوت ابلا ہوا انٖڈا صحت کے لئے مفید ہو سکتے ہیں۔

روزے میں پیاس سے بچانے والے کھانے

ماہرین غذائیت اس بات کا مشورہ دیتے ہیں کہ سحری کے وقت ان غذاؤں کا استعمال کرنا چاہیئے، جن سے روزے کی حالت میں پیاس کم محسوس ہوتی ہے۔

جو کا دلیہ

سحری کے وقت جو کا دلیہ دودھ میں پکا کر کھانے سے دن بھر پیاس نہیں لگتی ہے کیونکہ جو کا دلیہ پکنے کے دوران اپنے اندر پانی کی بڑی مقدار جذب کرلیتا ہے، اس وجہ سے اس کی تاثیر ٹھنڈی ہوتی ہے۔ اور یہ دلیہ زیادہ دیر تک پیاس کو محسوس نہیں ہونے دیتا۔

اس دلیۓ کی افادیت کو مزید بڑھانے کے لیۓ اسے رات بھر پانی میں بھگو کر رکھ دیں تو زیادہ مفیس ثابت ہو سکتا ہے۔

دودھ اور دہی کا استعمال

ماہرین غذائيت کی تحقیق کے مطاب‍ق شدید پیاس کو بجھانے میں سادہ پانی کے مقابلے میں دودھ یا دہی زیادہ مفید ثابت ہوتے ہیں۔ ان میں موجود کیلشیم ، کاربوہائیڈریٹ اور الیکٹرولائٹس جسم میں پانی کی کمی کو روکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اکثر افراد افطار کے وقت دودھ والے شربت سے افطار کرتے ہیں۔ جس سے پانی کی کمی دور ہوجاتی ہے۔اسی طرح سحری میں پراٹھے تلی ہوئی اشیاء اور مصالحے دار کھانے وغیرہ کھانے کے بجاۓ اگر لسی یا دہی کھا لی جائے تو اس سے بھی دن بھر پیاس کی شدت کم محسوس ہوگی۔

تازہ اور موسمی پھلوں یا ملک شیک کا استعمال

جہاں پھلوں کا استعمال انسانی جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے بہت مفید ہوتا ہے، وہیں اگر ان پھلوں کا رس نکال لیا جائے یا پھر ان کو پانی کے ساتھ ملا کر ان کا جوس بنا لیا جائے تو اس کے اثرات بھی جسم پر بہت اچھے پڑتے ہیں۔

تازہ سبزیوں کا استعمال

اگر رمضان میں ہم اپنی غذا میں تازہ سبزیوں کا استعمال کچی حالت میں کریں تو اس سے ایک جانب تو جسم میں پہلے سے موجود پانی دیر تک محفوظ رہے گا اس کے ساتھ ساتھ یہ زیادہ دیر تک پیاس لگنے سے بھی بچائیں گے۔ یہی سبب ہے کہ رمضان میں سحر و افطار میں سلاد کا استعمال نہ صرف صحت کے لیۓ مفید ہوتا ہے بلکہ پیاس سے بھی بچاتا ہے۔

رمضان

Ramadan

Junk Food

RAMAZAN PACKAGE

ramadan 2024

Sehri Foods