Aaj News

منگل, مئ 28, 2024  
19 Dhul-Qadah 1445  

ن لیگ نے 21 میں سے 12 نشستیں جیت لیں، پرویز اور مونس الہیٰ کو شکست

ضمنی انتخابات کے غیر حتمی غیرسرکاری نتائج، موبائل سروس بند رہی
اپ ڈیٹ 22 اپريل 2024 12:49pm

ملک بھر میں ضمنی الیکشن کا دنگل اتوار کو سجا۔ قومی اور صوبائی اسمبلی کے 21 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ کے بعد بیشتر حلقوں کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آگئے۔ ن لیگ نے قومی کی 2 اور صوبائی اسمبلیوں کی 10 نشستیں جیت لیں۔

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے امیدواروں کو کامیابی ملی لیکن چار میں سے دو نشستیں ایک آزاد امیدوار لے گیا۔ سندھ میں پی پی کے امیدوار نے اکلوتی نشست جیت لی۔ بلوچستان میں ایک نشست بی این پی مینگل نے جیت لی۔ دوسری مسلم لیگ ن کے حصے میں آئی۔

قومی اسمبلی کی 5 اور صوبائی اسمبلیوں کی 16 نشستوں پر پولنگ کا آغاز اتوار کو صبح 8 بجے ہوا، جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہی۔ قومی اسمبلی کے 5 اور صوبائی اسمبلی کے 16 حلقوں میں 239 امیدوار مدمقابل تھے۔

قومی اسمبلی کے جن حلقوں میں ضمنی انتخاب ہوا ان میں پنجاب کے 2، خیبر پختونخوا کے 2 اور سندھ کا ایک حلقہ شامل ہے جبکہ صوبائی اسمبلیوں کی جن نشستوں پر ضمنی الیکشن ہوا جس میں پنجاب اسمبلی کی 12، خیبرپختونخوا اور بلوچستان اسمبلی کی 2، 2 نشستیں شامل تھیں۔

نتائج

پنجاب سے قومی اسمبلی کی 2 اور صوبائی اسمبلی کی 9 نشستیں مسلم لیگ ن نے جیت لیں۔ ن لیگ نے ایک صوبائی نشست بلوچستان سے جیتی۔

این اے 119 لاہور سے علی پرویز اور این اے 132 قصور سے ملک خورشید نے میدان مارلیا۔

پی پی 22 تلہ گنگ سے ملک فلک شیر اعوان جیت گئے۔

پی پی 32 گجرات سے پرویز الہٰی کو شکست ہوئی اور ق لیگ کے موسیٰ الٰہی نے کامیابی سمیٹ لی۔ پی پی 158 پر ن لیگ کے چوہدری نواز نے مونس الہی کو ہرادیا۔۔

پی پی 54 نارووال سے احمد اقبال، پی پی 93 بھکر سے سعید اکبر نوانی، پی پی 139 سے رانا افضال حسین، پی پی 147 سے ملک ریاض، نے میدان مارلیا۔

پی پی 164 لاہور سے راشد منہاس کامیاب رہے۔

پی پی 36 وزیر آباد 2 سے تحریک انصاف کو اپنی ہی چھوڑی ہوئی نشست پر شکست ہوگئی۔ تمام 185 پولنگ اسٹیشن کے نتائج کے مطابق پاکستان مسلم ليگ ن کے عدنان افضل چٹھہ 74ہزار 779 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ 8 فروری کے انتخابات میں یہ نشست تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار محمد احمد چٹھہ نے جیتی تھی جو انہوں نے چھوڑ دی تھی۔

پی پی 290 ڈیرہ غازی خان 5 پر مسلم ليگ ن کے علی احمد خان لغاری کامیاب رہے۔

پی پی 266 رحیم یار خان 12 پر پیپلز پارٹی کے ممتازعلی 47 ہزار 181 ووٹ لیکر کامیاب قرار جبکہ مسلم ليگ ن کے محمد صفدر خان لغاری 34 ہزار 552 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی پی149 پر آئی پی پی کےشعیب صدیقی38537ووٹ لےکرکامیاب، سنی اتحادکےذیشان حیدر24206ووٹ حاصل کرسکے۔ مسلم لیگ ق اور آئی پی پی دونوں ہی مسلم لیگ ن کی اتحادی ہیں۔

ن لیگ نے بلوچستان سے بھی ایک سیٹ جیتی۔ پی بی 22 لسبیلہ سے ن لیگ کے زرین مگسی کامیاب ہوگئے۔

این اے 44 ڈیرہ اسماعیل خان سے وزیراعلی علی امین گنڈاپور کے بھائی فیصل امین گنڈاپور کامیاب ہوگئے۔

این اے 8 باجوڑ سے آزاد امیدوار مبارک زیب کے ہاتھوں سنی اتحاد کونسل کے گل ظفر کو شکست ہوئی۔ باجوڑ میں صوبائی نشست بھی مبارک زیب نے جیت لی۔

پی کے 91 کوہاٹ سے سنی اتحاد کونسل کے داؤد شاہ جیت گئے۔

این اے 156 قمبر شہدادکوٹ سے پیپلز پارٹی کے خورشید جونیجو نے میدان مارلیا۔

پی بی 20 خضدار سے بی این پی کے جہانزیب مینگل فتح یاب قرار پائے۔

میڈیا کو نتائج کی کوریج سے روک دیا گیا

لاہور میں ریٹرننگ افسران نے میڈیا کو نتائج کی کوریج سے روک دیا اور میڈیا نمائندگان کو آر او کے دفاتر سے باہر نکال دیا گیا، میڈیا کو این اے 119، پی پی 147 اور 149 کے آر اوز نے دفتر سے باہر نکلوایا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ آر اوز کی ہدایت پر میڈیا کو داخلے سے روکا گیا ہے، آر اوز کے دفاتر کے قریب کنٹینرز لگا کر سٹرک بند کردی گئی۔

تاہم بعد میں الیکشن کمیشن حکام نے نتائج جاری کردیئے۔

پنجاب اسمبلی

پنجاب اسمبلی کے 12 حلقوں میں ضمنی انتخاب ہوا جن میں پی پی 22 چکوال کم تلہ گنگ، پی پی 32 گجرات، پی پی 36 وزیرآباد، پی پی 54 نارروال، پی پی 93 بھکر، پی پی 139 شیخوپورہ، لاہور میں پی پی 147، پی پی 149، پی پی 158، پی پی 164، پی پی 266 رحیم یار خان اور پی پی 290 ڈی جی خان شامل تھے۔

پنجاب کے 14حلقوں کے لیے41 لاکھ 74 ہزار 900 بیلٹ پیئرز پرنٹ کیے گئے، 7 ہزار 822 پوسٹر اور 1 لاکھ 4 ہزار 500 فارم 45 پرنٹ کیے گئے جبکہ پولنگ اسٹیشنز کے اردگرد ہوائی فائرنگ کی روک تھام کے لیے پولیس نے اقدامات کئے۔

لاہور اور قصور کے 2 قومی اور 12صوبائی حلقوں کے لیے 240 امیدواروں نے اپنے کاغذات جمع کروائے جبکہ 174امیدواروں کے کاغذات منظور کیے گئے۔

پنجاب کے 14حلقوں کے ضمنی الیکشن میں 40 لاکھ 44 ہزار 552 ووٹرز کو اپنا رائے حق دہی استعمال کرنا تھا، جن میں 21 لاکھ 77 ہزار 187 مرد اور 18 لاکھ 67 ہزار 365 خواتین شامل ہیں۔

این اے 132 قصور

حلقہ این اے 132 قصور میں تمام پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے ملک رشید احمد خان 142835 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ سنی اتحاد کونسل کے سردار محمد حسین ڈوگر 89589 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

این اے 119 لاہور

لاہور کے ایک قومی اور 4 صوبائی حلقوں میں بھی ضمنی انتخابات کا دنگل سجا۔

لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 119 کے تمام 338 پولنگ سٹیشنز کا غیر سرکاری و غیر حتمی نتیجہ سامنے آ گیا ہے ، جس کے مطابق مسلم لیگ ن کے علی پرویز ملک 60 ہزار 918 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے جبکہ سنی اتحاد کونسل کے میاں شہزاد فاروق 34 ہزار 94 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ۔

پی پی 147

لاہور کے حلقہ پی پی 147 کے تمام پولنگ اسٹیشنز کے غیرسرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ کے ملک ریاض 31860 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ سنی اتحاد کونسل امیدوار محمد خان مدنی 16636 ووٹ حاصل کرسکے۔

پی پی 149

پی پی 149 کے پولنگ اسٹیشنوں کے غیرحتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار شعیب صدیقی 39137 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ سنی اتحاد کونسل کے ذیشان رشید 23665 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی پی 158

لاہور کے حلقہ پی پی 158 کے تمام پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق سنی اتحاد کے مونس الہیٰ 27891 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے جبکہ ن لیگ کے چوہدری نواز لدھڑ 39741 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔

پی پی 164

لاہور کے حلقہ پی پی 164 کے تمام پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ کے راشد منہاس 31499 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ سنی اتحاد کے یوسف مئیو 25781 ووٹ حاصل کرسکے۔

لاہور کے حلقہ پی پی 164 سے بھی شہباز شریف کی خالی کردہ نشست پر کل 20 امیدواروں نے الیکشن میں حصہ لیا۔ پی پی 164 میں کل ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 43 ہزار 395 ہے جبکہ مرد ووٹرز کی تعداد 80 ہزار 338 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 63 ہزار 057 ہے۔

پی پی 266 صادق آباد

صادق آباد کے حلقہ پی پی 266 کے 15 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے ممتاز چانگ 5561 ووٹ لے کر آگے جبکہ ن لیگ کے صفدر لغاری 3330 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی پی 36 وزیرآباد

وزیرآباد کے حلقہ پی پی 36 میں 15 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی نتیجے کے مطابق مسلم لیگ ن کے عدنان افضل چٹھہ 5ہزار123 ووٹ لیکر آگے جبکہ سنی اتحاد کونسل کے محمد فیاض چٹھہ 4 ہزار801 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی پی 32 گجرات

گجرات کے صوبائی حلقہ پی پی 32 سے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ق کے امیدوار موسیٰ الٰہی نے میدان مار لیا۔

موسیٰ الٰہی نے 63 ہزار 536 ووٹ لے کر کامیابی سمیٹی جبکہ سنی اتحاد کونسل کے پرویزالٰہی 18 ہزار 237 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

پی پی 290 ڈیرہ غازی خان

مسلم لیگ ن نے ڈیرہ غازی خان کے صوبائی حلقہ پی پی 290 سے بھی میدان مار لیا ہے۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی پی 290 سے مسلم لیگ ن کے علی احمد خان نے محی الدین کھوسہ کے خلاف کامیابی سمیٹ لی۔

سردار علی احمد خان 74560 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ آزاد امیدوار محی الدین کھوسہ 26310 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی پی 22 تلہ گنگ

تلہ گنگ کے حلقہ پی پی 22 کے تمام پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ کے ملک فلک شیر اعوان 55583 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ سنی اتحاد کونسل کے حکیم نثار 47928 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ریے۔

پی پی 139 شیخوپورہ

شیخوپورہ کے حلقہ پی پی 139 کے تمام پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے رانا افضال حسین 46585 ووٹ لے کر جیت چکے گئے جبکہ سنی اتحاد کے اعجاز حسین بھٹی 29833 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی پی 54 نارووال

نارووال کے حلقہ پی پی 54 کے تمام پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق ن لیگ کے احمد اقبال 60351 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ سنی اتحاد کونسل کے اویس قاسم 46686 ووٹ حاصل کرسکے۔

پی پی 93 بھکر

بھکر کے حلقہ پی پی 93 کے تمام پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے سعید اکبر نوانی 60021 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ آزاد امیدوار ڈاکٹر افضل خان 56124 ووٹ حاصل کرسکے۔

خیبرپختونخوا

این اے 8 باجوڑ

حلقہ این اے 8 باجوڑ کے 15 پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار مبارک زیب خان3268 ووٹ لے کر آگے تھے جو بعد میں جیت گئے۔ جب کہ سنی اتحاد کونسل کے گل ظفر 1693 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

این اے 8 پر سنی اتحاد کونسل کے گل ظفر، پی پی پی کے اخون زادہ چٹان، ن لیگ کے شہاب الدین، جماعت اسلامی کے ہارون رشید، اے این پی کے خان زیب اور آزاد امیدوار شوکت اللہ میں کانٹے کا مقابلہ ہوا۔

این اے 44 ڈی آئی خان

حلقہ این اے 44 ڈی آئی خان کے تمام پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق سنی اتحاد کونسل کے امیدوار فیصل امین 56995 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، جبکہ پیپلز پارٹی کے رشید کنڈی 9533 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پررہے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ حلقہ این اے 44 ڈی آئی خان کو وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے خالی کیا ہے جہاں سنی اتحاد کونسل کے ٹکٹ پر علی امین کے بھائی فیصل امین میدان میں تھے جن کے ساتھ پی پی پی کے عبدالرشید خان، تحریک لبیک کے اختر سعید اور ن لیگ کے ضمیر حسین کا مقابلہ ہوا۔

پی کے 91 کوہاٹ

پی کے 91 کوہاٹ کے تمام پولنگ اسٹیشنز کےغیرحتمی وغیرسرکاری نتائج آج نیوز کو موصول ہوگئے۔ جن کے مطابق سنی اتحاد کونسل کے امیدوار داؤد شاہ 21852 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ آزاد امیدوار عبدالصمود 12581 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

پی کے 91 کوہاٹ پر اے این پی کے امیدوار کے انتقال کے باعث انتخابات نہیں ہوئے تھے۔

بلوچستان

بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 20 خضدار اور پی بی 22 لسبیلہ میں ضمنی الیکشن ہوا جبکہ پی بی پچاس قلعہ عبداللہ کے چند پولنگ اسٹیشنز میں ری پولنگ ہوئی۔

پی بی 20 خضدار

خضدار کے حلقہ پی بی 20 کے تمام پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق بی این پی کے جہانزیب مینگل 30455 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ آزاد امیدوار شفیق الرحمان مینگل 12581 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ۔

خضدار میں بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 20 پر ضمنی الیکشن کا انعقاد ہوا، الیکشن سے قبل کشیدہ صورتحال کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا تھا تاہم الیکشن پرامن طریقے سے جاری رہا اور صوبائی حکومت و الیکشن کمیشن کی جانب سے سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات کیے گئے۔

پی بی 22 لسبیلہ

لسبیلہ جے حلقہ پی بی 22 کے تمام پولنگ اسٹیشنز کےغیرسرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ کے امیدوار زرین مگسی 49777 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، جبکہ آزاد امیدوار شاہنواز جاموٹ 3869 ووٹ حاصل کرسکے۔

پی بی 50 قلعہ عبداللہ

پی بی50 قلعہ عبداللہ میں مجک پولنگ اسٹیشن پر مسلح افراد نے فائرنگ کرتے ہوئے دھاوا بول دیا، نامعلوم افراد جدید اسلحے کے ساتھ اندر داخل ہوئے اور فائرنگ کے بعد پولنگ کا عمل رک گیا۔ تاہم بعد میں عمل دوبارہ شروع ہوا اور پولنگ کا وقت بڑھا دیا گیا۔

حلقہ پی بی 50 قلعہ عبداللہ میں 47 پولنگ اسٹیشنز احساس اور 78 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا، حلقے میں ٹوٹل رجسرٹرڈ ووٹر کی تعداد ایک لاکھ 63 ہزار 753 ہے جن میں سے ایک لاکھ 04 ہزار 161 مرد ووٹرز ہیں اور 59 ہزار 592 خواتین ووٹرز ہیں۔

انتخابات میں سیکیورٹی کے لیے پولیس اور لیویز کی خدمات حاصل کی گئیں۔

سندھ

سندھ میں قومی اسبلی کے حلقہ این اے 196 قمبر شہدادکوٹ ون پر ضمنی انتخاب آج ہوا۔

این اے 196 قمبر شہداد کوٹ ون کے تمام پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی وغیرسرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار خورشید جونیجو 88850 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ ٹی ایل پی کے امیدوار محمد علی 2696 ووٹ حاصل کرکے دوسرے نمبر پر ہے۔

وفاقی حکومت کی سول آرمڈ فورسزاور فوج تعینات کرنے کی منظوری

ضمنی انتخابات کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات بھی کیے گئے اور الیکشن کمیشن کی درخواست پر وفاقی حکومت نے سول آرمڈ فورسزاور فوج تعینات کرنے کی منظوری دی۔

پولیس سکیورٹی کے پہلے، سول آرمڈ فورسز دوسرے جبکہ پاک فوج کے اہل کاروں نے تیسرے حصار میں فرائض انجام دئے۔

لاہور سمیت 10 شہروں میں دفعہ 144 نافذ

حکومت پنجاب کی جانب سے لاہور سمیت 10 شہروں میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ، جن شہروں میں الیکشن ہو رہے تھے وہاں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی۔

لاہور کے علاقوں نسبت روڈ، موچی دروازہ، گوالمنڈی، مصری شاہ، داتا نگر، ڈیوس روڈ، شاہ عالم مارکیٹ کے علاقوں میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہوئی۔

اس کے علاوہ ریلوے روڈ فیض پارک، ویلنشیا ٹاؤن، واپڈا ٹاؤن، کاہنہ اور فیروز پور روڈ کے چند علاقوں میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر معطل رہی۔

ECP

اسلام آباد

by election

Pakistan Law and order situation

Election Commission of Pakistan (ECP)

Election 2024