Aaj News

اتوار, مئ 26, 2024  
17 Dhul-Qadah 1445  

حادثے کا شکار جہاز کے پائلٹس کے آخری الفاظ نے رونگٹے کھڑے کردیے

دونوں پائلٹس کے درمیان کی گفتگو میں پریشانی واضح طور پر تھی
شائع 21 اپريل 2024 07:00pm
تصویر بذریعہ: فائل فوٹو، نیوز کروپ آسٹریلیا/ پیسیفک ساؤتھ ویسٹ ائیرلائن فلائٹ 182 سیزینا لائٹ ائیر کرافٹ سے ٹکرانے کے بعد آتشزدگی کا شکار ہے
تصویر بذریعہ: فائل فوٹو، نیوز کروپ آسٹریلیا/ پیسیفک ساؤتھ ویسٹ ائیرلائن فلائٹ 182 سیزینا لائٹ ائیر کرافٹ سے ٹکرانے کے بعد آتشزدگی کا شکار ہے

مسافر طیارے کے حادثات جہاں مسافروں کی زندگیاں چھین لیتے ہیں، تاہم حادثات کا شکار ہونے والے ہوائی جہازوں کا بلیک باکس بھی سب کو خوف میں مبتلا کر رہا ہوتا ہے۔

2009 میں حاددثے کا شکار ہونے والے ائیر فرانس فلائٹ 447 کے بلیک باکس سے معلوم ہونے والی صورتحال بھی سب کو خوف میں مبتلا کر رہی ہے۔

کیونکہ آخری وقت میں جہاز میں کیا ماحول تھا، کیا صورتحال تھی اور کیا بات چیت ہو رہی تھی، وہ اب منظر عام پر ہے۔

یکم جون 2009 کو ریو دی جینیریو سے پیرس کی طرف پرواز کرنے والا طیارہ بحرہ اوقیانوس میں کریش کر گیا تھا۔ اس حادثے میں عملے سمیت 228 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

تاہم ٹائمز ناؤ کے مطابق اب آخری وقت میں ہوائی جہاز میں ہونے والی گفتگو منظر عام پر آ گئی ہے۔

تصویر بذریعہ: برازیلین نیوی

جبکہ ڈیلی اسٹار کی رپورٹ کے مطابق فلائٹ 447 کے ساتھی پائلٹ کی گفتگو بھی سامنے آئی ہے۔ جس میں پیری کیڈرک بونین کہہ رہیں کہ میں جہاز کا کنٹرول کھو چکا ہوں، جہاز میرے کنٹرول میں بالکل بھی نہیں ہے۔

جبکہ ریلیف فرسٹ آفیسر اور کو پایلٹ ڈیوڈ رابرٹ ساتھی پائلٹ کو کہتے ہوئے سنائی دیے کہ’ کنٹرول دی لیفٹ’ اسی دوران رابرٹ نے کہا ہم نے ائیرو پلین کا کنٹرول کھو دیاہے، ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے، ہم نے ہر طرح سے کوشش کر لی ہے۔

جبکہ پائلٹ بونین نے کہا ’ہم کریش ہونے جا رہے ہیں، یہ سچ نہیں ہو سکتا ہے، مگر کیا ہو رہا ہے؟‘

واضح رہے فلائٹ 447 ٹیکنیکل فیلئیر کی بنا پر حادثے کا شکار ہو گئی تھی۔

France

crash

Rio de Janeiro

AIRCRAFTS

flight 447