Aaj News

منگل, مئ 28, 2024  
19 Dhul-Qadah 1445  

خواتین کو چھیڑنے والے اوباشوں کو نشان عبرت بنانے کیلئے سعودیہ میں انوکھی سزا متعارف

مقررہ سزا تو ملے گی، اس کے علاوہ یہ ذلت آمیز سزا بھی بھگتنی پڑے گی
اپ ڈیٹ 22 اپريل 2024 06:00pm

خواتین کے ساتھ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے تمام ہی معاشروں میں انتہائی غیر مہذب اور معیوب عمل سمجھا جاتا ہے، اور اس کیلئے قید و بند اور جرمانوں کی سزائیں بھی موجود ہیں۔

لیکن اگر ایسا کوئی واقعہ سعودی عرب میں پیش آئے تو ظاہر ہے مجرم کو عبرت ناک سزا کی توقع ہی کرنی چاہئیے۔

سعودی عرب نے خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے والے اوباشوں سزا دینے اور انہیں نشانں عبرت بنانے کیلئے انوکھی سزا متعارف کرائی ہے۔

زنا کے جرم میں رونالڈو کو ’99 کوڑوں‘ کی سزا پر ایرانی سفارتخانے کی وضاحت

سعودی ویب سائٹ کے مطابق سعودی وزارت داخلہ نے حال ہی میں خواتین کو چھیڑنے کے جرم میں گرفتار افراد کو مقررہ سزا دینے کے علاوہ ان کے ناموں کو مقامی میڈیا پر بھی نشر کرنے کا علان کیا ہے۔

اور اس پر عمل کرتے ہوئے چند روز قبل مکہ مکرمہ پولیس نے مصری تارک وطن ولید عبدالحمید کے نام کی تشہیر بھی کی جسے ایک خاتون کو چھیڑنے پر گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ جدہ پولیس نے ہادی حمد آل صلاح نامی سعودی شہری کو بھی ایک خاتون کو چھیڑنے پر گرفتار کیا جس کا نام میڈیا پر نشر کیا گیا۔

سعودی عرب میں اسرائیلی وفد کی عبادت، تورات پڑھی گئی

سعودی شہریوں نے ایسی مذموم حرکت کرنے والے افراد کے ناموں کی میڈیا میں تشہیر کے اقدام کو سراہا ہے۔

اس حوالے سے فیملی پروٹیکٹ پروگرام کے رکن عبد الرحمٰن القراش نے اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سعودی عرب میں معاشرتی اقدار کا بڑا خیال رکھا جاتا ہے جہاں نام کی تشہیر بہت بڑی سزا تصور کی جاتی ہے‘۔

Saudia Arabia

Harassing Women