طالبان رجیم کے کامیابی کے دعوے مسترد، 2025 عالمی تنہائی کا سال قرار

اقوام متحدہ میں تعینات افغان نمائندے کا سخت مؤقف، طالبان نے ساکھ اورعالمی جواز کھو دیا
شائع 10 جنوری 2026 10:03am

جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں تعینات افغان نمائندے نے طالبان کے ان خودساختہ دعوؤں کو حقائق کے منافی اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2025 دراصل طالبان رجیم کے لیے عالمی تنہائی، سفارتی ناکامیوں اور پالیسیوں کی ناکامی کا سال ثابت ہوا۔

دی کابل ٹریبیون کے مطابق افغان نمائندہ نصیر احمد اندیشہ نے دی ڈپلومیٹ میں لکھا کہ طالبان رجیم کا سال 2025 کو کامیابی کا سال قرار دینا حقائق کے منافی اور  گمرہ کن ہے۔ نصیراحمد  اندیشہ نے 2025 کوطالبان رجیم کیلئے عالمی تنہائی اورسفارتی وسٹریٹجک ناکامیوں کا سال قرار دے دیا۔

نصیر احمد اندیشہ کے مطابق طالبان رجیم کے بیشتر ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہے، جبکہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں بتدریج اضافہ ہوا، جسے کسی صورت کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال دراصل طالبان کی بدترین پالیسیوں اور ناقص حکمرانی کا نتیجہ ہے۔

افغان نمائندے نے واضح کیا کہ طالبان کی جانب سے سال 2025 کو کامیابی کا سال کہنا نہ صرف حقائق کے برعکس ہے بلکہ عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش بھی ہے۔ ان کے مطابق 2025 طالبان رجیم کے لیے عالمی تنہائی، سفارتی اور اسٹریٹجک ناکامیوں کا سال رہا، جس دوران طالبان نے نہ صرف اپنے اتحادی کھوئے بلکہ اپنی ساکھ اور بین الاقوامی جواز بھی شدید نقصان کا شکار ہوا۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ طالبان رجیم کے دور میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا، جبکہ اندرونی طور پر طالبان کی نااہلی کے باعث افغان قومی ریاست کو سنگین خطرات لاحق ہوئے۔ نصیر احمد اندیشہ کے مطابق خواتین اور عام شہری بنیادی انسانی حقوق سے محروم رہے، جو کسی بھی حکومت کی کامیابی کے دعوؤں کو جھوٹا ثابت کرتا ہے۔

افغان نمائندے نے زور دے کر کہا کہ طالبان رجیم محض بے بنیاد دعوؤں کے ذریعے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے دنیا کو گمراہ نہیں کر سکتی، کیونکہ زمینی حقائق ان دعوؤں کی نفی کرتے ہیں۔

afghanistan

Taliban Government

AfghanTaliban

Taliban Regime

Naseer Ahmed Andisha