غیرملکی سازش کا الزام، ہانگ کانگ کے میڈیا ٹائیکون کو 20 سال قید کی سزا

تین ججوں پر مشتمل عدالتی بینچ نے جمی لائی کو سزا سنائی
شائع 09 فروری 2026 10:09am

ہانگ کانگ کے معروف میڈیا ٹائیکون اور بند کیے گئے اخبار ایپل ڈیلی کے بانی جمی لائی کو پیر کے روز قومی سلامتی کے قوانین کے تحت 20 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمی لائی کی سزا میں غیر ملکی قوتوں سے سازباز کی سازش کے دو الزامات اور بغاوت پر مبنی مواد کی اشاعت کا ایک الزام شامل ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہانگ کانگ کا سب سے نمایاں قومی سلامتی کا مقدمہ اور تقریباً پانچ سال پر محیط قانونی عمل اختتام کو پہنچ گیا ہے۔

جمی لائی کو پہلی بار اگست 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ انہیں گزشتہ برس دسمبر میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ 78 سالہ جمی لائی کی سزا قومی سلامتی کے قوانین کے تحت مقررہ سخت ترین سزا کے دائرے میں آتی ہے، جہاں سنگین نوعیت کے جرائم پر 10 سال سے عمر قید تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔ یہ سزا اب تک دی جانے والی سب سے سخت سزا قرار دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تین ججوں پر مشتمل عدالتی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جمی لائی کی سزا اس لیے بڑھائی گئی کیونکہ وہ تینوں سازشوں کے مرکزی منصوبہ ساز اور غیر ملکی قوتوں سے مسلسل سازباز کے محرک تھے۔

عدالت نے استغاثہ کے شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان سازشوں کے تحت امریکا اور دیگر ممالک سے پابندیاں، ناکہ بندیاں اور دیگر اقدامات کروانے کی کوشش کی گئی، جبکہ اس نیٹ ورک میں ایپل ڈیلی کے عملے، کارکنان اور غیر ملکی افراد بھی شامل تھے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس مقدمے میں اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ جمی لائی تینوں عائد کردہ سازشوں کے مرکزی منصوبہ ساز تھے، اسی لیے وہ زیادہ سخت سزا کے مستحق ہیں۔ دیگر ملزمان کے حوالے سے ان کی ذمہ داری میں فرق کرنا مشکل ہے۔

جمی لائی کے علاوہ ایپل ڈیلی کے چھ سابق سینئر عملے کے ارکان، ایک کارکن اور ایک پیرا لیگل کو بھی 6 سے 10 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔

برطانوی شہریت رکھنے والے جمی لائی نے اپنے خلاف عائد تمام الزامات کی تردید کی ہے اور عدالت میں کہا کہ وہ ایک سیاسی قیدی ہیں اور انہیں بیجنگ کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جمی لائی کے خلاف کارروائی پر عالمی رہنماؤں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر بھی شامل ہیں۔