سابق فوجی سربراہ قمر جاوید باجوہ کی صحت سے متعلق آئی ایس پی آر کا بیان جاری

جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ سی ایم ایچ میں زیرِعلاج ہیں: آئی ایس پی آر
شائع 12 فروری 2026 12:59pm

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے پاک فوج کے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کے زیرِ علاج ہونے کی تصدیق کردی ہے۔

آئی ایس پی آر نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں کہا کہ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو اپنی رہائش گاہ پر گرنے کی وجہ سے چوٹ آئی ہے اور وہ سی ایم ایچ میں زیر علاج ہیں۔

گزشتہ روز مختلف ملکی اور غیر ملکی نشریاتی اداروں نے خاندانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے گھر میں گر کر زخمی ہوگئے ہیں۔

پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی رپورٹس میں بتایا گیا کہ سابق آرمی چیف بیت الخلا میں پھسلنے کی وجہ سے زخمی ہوئے اور اس وقت راولپنڈی کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

صحافی ارشاد بھٹی نے جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے خاندانی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ منگل کی صبح پیش آیا۔ پھسلنے کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہوئے اور ان کے جسم کے مختلف حصوں پر زخم آئے ہیں۔

ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ سر پر آنے والی چوٹ کی وجہ سے قمر جاوید باجوہ کچھ دیر بے ہوشی کی حالت میں چلے گئے تھے۔ تاہم ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اب وہ مکمل ہوش میں ہیں اور اپنے دونوں بیٹوں سے ملاقات بھی کی ہے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ جنرل ریٹائرڈ باجوہ تاحال انتہائی نگہداشت وارڈ (آئی سی یو) میں داخل ہیں اور مکمل طور پر خطرے کی حالت سے باہر نہیں آئے ہیں۔

صحافی زاہد گشکوری نے بھی سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ سابق آرمی چیف کے دونوں بیٹے پاکستان پہنچ چکے ہیں اور والد کے ساتھ اسپتال میں موجود ہیں۔

واضح رہے کہ قمر جاوید باجوہ کو نومبر 2016 میں اُس وقت کے وزیرِاعظم نواز شریف نے پاک فوج کا 16 واں سربراہ مقرر کیا تھا۔

ان کی تین سالہ مدتِ مکمل ہونے کے قریب پہنچی تو اس سے قبل ہی اگست 2019 میں سابق وزیرِاعظم عمران خان کی حکومت نے ان کی مدتِ ملازمت میں 3 سال کی توسیع کر دی تھی۔

قمر جاوید باجوہ 6 سال تک پاک فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد نومبر 2022 میں ریٹائر ہوگئے تھے۔