عمران خان کی آنکھ کا معاملہ، سپریم کورٹ کا 16 فروری سے قبل معائنے کا حکم

توشہ خانہ ٹرائل کے خلاف کیس کا فیصلہ محفوظ
اپ ڈیٹ 12 فروری 2026 02:08pm

سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی آنکھ کا معائنہ 16 فروری سے پہلے کرانے کا حکم دیتے ہوئے توشہ خانہ فوجداری کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے سپریم کورٹ کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمران خان کی ذندگی کا مسئلہ ہے، ان کی آنکھ کی بینائی 10 سے 15 فیصد رہ گئی ہے، پاکستان کے عوام اب ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتے، تحریک انصاف کے ورکرز کو اب ہم بھی نہیں روک سکتے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اگر صوبے کو بند کرتے ہیں تو صوبائی ادارے اور پولیس انہیں نہیں روکیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو اسپتال لاتے ہوئے بھی فیملی کو نہیں بتایا گیا، جعلی حکومت کی میڈیکل رپورٹ بھی تشویشناک ہے، یہ بانی پی ٹی آئی کی مقبولیت کا مقابلہ نہیں کرپا رہے، یہ اب بانی کے خون پیاسے بن گئے ہیں۔

سماعت کا احوال

سپریم کورٹ میں جمعرات کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی اور دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس معاملے پر مناسب حکم جاری کرے گی۔

سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق بیرسٹر سلمان صفدر کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان نے جیل میں اپنے حفاظتی اقدامات، کھانے پینے کی سہولیات اور سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں رپورٹ کی سفارشات پڑھ کر سنائیں اور استدعا کی کہ عمران خان کا طبی معائنہ ان کے کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں کرایا جائے۔ تاہم عدالت نے فیملی ممبر کی موجودگی میں میڈیکل کروانے کی درخواست مسترد کر دی۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کی آنکھ کے معائنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لیے ڈاکٹرز کی ایک ٹیم تشکیل دی جائے۔ عدالت نے حکم دیا کہ آنکھ کا چیک اپ 16 فروری سے پہلے مکمل کیا جائے۔

اس کے علاوہ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ عمران خان کو کچھ کتابیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ مطالعہ جاری رکھ سکیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو اپنے بچوں سے فون پر بات کروانے کی بھی ہدایت دی اور کہا کہ یہ عمل بھی 16 فروری سے پہلے مکمل کیا جائے۔ ا

ٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ تمام عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔