دوبارہ حملہ ہوا تو یورینیم کی 90 فیصد تک افزودگی پر بھی غور کریں گے: ایران
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملہ کیا گیا تو تہران یورینیم کی 90 فیصد افزودگی جیسے سخت اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نیوی کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا مضبوط کنٹرول قائم ہے اور خطے میں بدلتے حالات کے تناظر میں نئی پالیسیاں نافذ کی جا رہی ہیں، جن کے اثرات دنیا جلد دیکھے گی۔
ایرانی پارلیمان کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کی گئی تو ایران ممکنہ طور پر یورینیم کی 90 فیصد تک افزودگی پر غور کرے گا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ اس معاملے کا پارلیمنٹ میں جائزہ لیا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس کے ریئر ایڈمرل محمد اکبرزادہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے محافظوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ پر ایران کا مؤثر اور طاقتور کنٹرول موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو صرف ایک محدود جغرافیائی مقام کے طور پر نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے، جو دیگر ممالک کی سوچ سے مختلف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں آبنائے ہرمز کو صرف ہرمز اور جزائر کے اطراف موجود ایک محدود علاقہ تصور کیا جاتا تھا، تاہم اب صورت حال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق ماضی میں اس آبی گزرگاہ کی چوڑائی 20 سے 30 میل سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہ 200 سے 300 میل یعنی تقریباً 500 کلومیٹر تک پھیل چکی ہے، جو جاسک اور سیریک سے جزیرہ قشم اور تنبِ بزرگ سے آگے تک محیط ’چاند‘ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
محمد اکبرزادہ نے انٹرویو میں کہا کہ ایران کی خطے کے دیگر ملکوں کے عوام سے کوئی دشمنی نہیں، تاہم بعض حکومتیں ہمیشہ ایران مخالف رویہ اپناتی رہی ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض ممالک ایران کے ہر اقدام کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں جیسے ایران انہیں فتح کرنا چاہتا ہو، حالانکہ یہ تصور مکمل طور پر غلط ہے اور ایران کے بارے میں یہ ایک منفی اور جھوٹی تصویر بنائی گئی ہے۔
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ایران نے توانائی، تجارتی سامان کی ترسیل اور ٹرانزٹ کے شعبوں میں کبھی رکاوٹ پیدا نہیں کی بلکہ عالمی برادری کو وسیع خدمات فراہم کیں۔ ان کے مطابق بعض مواقع پر ایران نے اپنے علاقائی پانیوں سے گزرنے والے جہازوں، حتیٰ کہ مخالف ممالک کے بحری جہازوں کو بھی سیکیورٹی فراہم کی اور یہ خدمات مفت مہیا کی گئیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایران خطے میں ہونے والی تمام نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے سمندری حدود اور قومی مفادات پر کسی قسم کی جارحیت کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے ایرانی عوام کو یقین دہانی کرائی کہ ایران کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کے دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔














