پاکستان کی جوابی کارروائی میں افغان طالبان کا کتنا نقصان ہوا؟
پاک افواج کی جانب سے افغان طالبان کی پوسٹوں پر قبضے اور نقصان کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج کا آپریشن ’غضب للحق‘ جاری ہے۔
پاکستانی فوج نے افغان طالبان کی جارحیت کے جواب میں بھرپور اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 27 افغان چوکیاں مکمل تباہ جبکہ 9 افغان پوسٹوں پر قبضہ کرلیا ہے۔
پاک فضائیہ نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے کابل اور پکتیا میں اہم ملٹری تنصیبات تباہ کر دی ہیں۔ فضائی کارروائیوں کے دوران کابل میں 2 بریگیڈ ہیڈ کوارٹر تباہ ہو گئے۔
پاکستان نے افغانستان کے پکتیا کے علاقے میں 5 افغان پوسٹوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا جھنڈا لگا دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دو افغان پوسٹیں شوال کے مقابل ہیں، دو پوسٹیں انگوراڈہ کے مقابل جبکہ ایک زرملان کے مقابل واقع ہے۔ اس کے علاوہ انگوراڈہ کا افغان ٹرمینل بھی تباہ کردیا ہے۔
پاک فوج نے کارروائی کے دوران افغانستان میں دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز اور دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز کو بھی مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے۔ مؤثر جوابی کارروائی کے دوران 80 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور بکتر بند گاڑیاں (اے پی سیز) بھی تباہ کی گئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان کے صوبے قندھار میں پاک فوج نے افغان طالبان کے کور ہیڈ کوارٹرز اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز کو کامیابی سے تباہ کر دیا ہے، اس کے علاوہ قندھار میں افغان طالبان کے ایمونیشن ڈپو اور لاجسٹکس بیس بھی تباہ کر دیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ پاک فوج کی جانب سے جاری آپریشن غضب للحق کے دوران افغان طالبان کی 133 اہلکار ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ جبکہ وطن کا دفاع کرتے ہوئے پاک فوج کے 2 جوان شہید اور 3 زخمی ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ جمعے کی رات افغان طالبان کی جانب سے پاکستانی علاقوں میں دراندازی کی کوشش اور بلااشتعال فائرنگ کے خلاف پاکستانی فوج نے بھرپور جواب دیا۔












