سستے ایرانی ڈرونز نے خطے میں موجود اربوں ڈالر کے امریکی ریڈار سسٹم کیسے تباہ کیے؟

ایران کی ڈرونز نے امریکا کے میزائلوں کا اندھا کردیا۔
شائع 08 مارچ 2026 04:26pm

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے دوران ایرانی ساختہ سستے ترین ڈرونز نے امریکی فوج کے جدید اور مہنگے ریڈار اور نگرانی کے نظام کو نقصان پہنچایا ہے۔ مختلف بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق ایران کے ڈرون حملوں نے قطر، اردن اور بحرین میں موجود اہم امریکی فوجی تنصیبات کو متاثر کیا ہے، جس کے بعد خطے کے میزائل دفاعی نظام میں بڑی کمزوریاں پیدا ہو گئی ہیں۔

امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ اور ٹی وی نیٹ ورک ’سی این این‘ نے سیٹلائٹ تصاویر اور انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے کم قیمت شاہد ڈرونز کی بڑی تعداد استعمال کرتے ہوئے امریکی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا۔

رپورٹ کے مطابق ایک شاہد ڈرون کی قیمت تقریباً بیس ہزار ڈالر ہوتی ہے، جبکہ جن ریڈار سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا ان کی قیمت اربوں ڈالر تک بتائی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ حکمت عملی اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اس میں نسبتاً سستے ہتھیاروں کے ذریعے انتہائی مہنگے دفاعی نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق قطر میں امریکی فضائی اڈے العدید پر موجود فوری خبردار کرنے والے ریڈار سسٹم کو نقصان پہنچا ہے۔

یہ ریڈار امریکی خلائی فورس کے عالمی نگرانی کے نیٹ ورک کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے اور اس کی مالیت تقریباً ایک اعشاریہ ایک ارب ڈالر بتائی جاتی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں اس تنصیب کے متاثر ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

اسی طرح اردن کے موافق السلطی فضائی اڈے پر نصب ایک اہم ریڈار سسٹم کی تباہی کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

یہ ریڈار تھاڈ میزائل دفاعی نظام کا مرکزی حصہ ہوتا ہے اور اس کی قیمت تین سو سے پانچ سو ملین ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔

یہ ریڈار طویل فاصلے سے آنے والے بیلسٹک میزائلوں کی نشاندہی کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر کے قریب بھی ڈرون حملے کی اطلاعات ہیں جہاں سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے دو اہم ٹرمینلز کو نقصان پہنچا۔ یہ نظام فوجی مواصلاتی رابطوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں موجود کچھ ریڈار تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

ان مقامات پر تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام تعینات ہیں جو خطے میں بیلسٹک میزائلوں کے خطرے کے خلاف اہم دفاعی ڈھال سمجھے جاتے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے باوجود مجموعی دفاعی صلاحیت برقرار ہے کیونکہ نگرانی کے لیے دیگر متبادل نظام بھی موجود ہیں، جن میں سیٹلائٹ پر مبنی سینسرز شامل ہیں۔

تاہم فوجی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر زمینی ریڈار نظام متاثر ہوتے ہیں تو آنے والے میزائلوں کی بروقت نشاندہی اور انہیں روکنے کے لیے دستیاب وقت کم ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر تھاڈ نظام کے ساتھ نصب ریڈار غیر فعال ہو جائے تو وہ خود سے اہداف کو ٹریک نہیں کر سکتا۔

ایسی صورت میں دفاعی ذمہ داری کم فاصلے تک مار کرنے والے پیٹریاٹ نظام پر منتقل ہو جاتی ہے، جن کے بارے میں پہلے ہی کہا جا رہا ہے کہ ان کے پاس میزائلوں کی تعداد محدود ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید اور مہنگے دفاعی نظام بھی کم قیمت ہتھیاروں کے سامنے نئے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔