لبنان میں شدید اسرائیلی حملے: 83 بچوں سمیت 400 افراد جاں بحق
لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری لڑائی نے شدت اختیار کر لی ہے جس کے نتیجے میں عام شہریوں خصوصاً بچوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف کے مطابق گزشتہ سات دنوں کے دوران لبنان میں کم از کم 83 بچے جاں بحق جبکہ 254 زخمی ہوئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ادارے ’یونیسیف‘ کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا کہ دو مارچ کے بعد سے لبنان بھر میں روزانہ اوسطاً 10 سے زائد بچوں کی جان جا رہی ہے جبکہ تقریباً 36 بچے ہر روز زخمی ہو رہے ہیں۔
ادارے کے مطابق گزشتہ 28 مہینوں کے دوران لبنان میں مجموعی طور پر 329 بچوں کی ہلاکت اور 1632 کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔
یونیسیف نے ان اعداد و شمار کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعداد اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ جاری تنازع بچوں کے لیے کس قدر تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔
ادارے کے مطابق جنگ کے باعث لبنان بھر میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی بھی ہو رہی ہے۔ اب تک تقریباً سات لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں جن میں دو لاکھ کے قریب بچے شامل ہیں۔
اس سے قبل بھی مختلف جھڑپوں کے باعث ہزاروں افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکے تھے۔
دوسری جانب لبنان میں جاری حملوں کے بعد عالمی سطح پر بھی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بیرو نے اعلان کیا ہے کہ فرانس نے لبنان کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کر دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسرائیلی بمباری میں مقامی صحت حکام کے مطابق تقریباً 400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
فرانسیسی وزیر خارجہ نے بتایا کہ فرانس نے لبنان میں کام کرنے والی انسانی امدادی تنظیموں کے لیے تقریباً 6.9 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد بھی فراہم کی ہے۔ اس کے علاوہ 20 ٹن مزید انسانی امداد بھی لبنان بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے جو جلد وہاں پہنچ جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ فرانس لبنانی اور اسرائیلی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ملک کو مزید افراتفری کی صورتحال میں جانے سے روکا جا سکے، جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے اور حزب اللہ کے اسلحہ کے مسئلے پر بھی پیش رفت ہو سکے۔
ادھر لبنان کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں دو طبی امدادی کارکن ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے ہیں۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ حملے جنوبی قصبے طیر دبا اور گاؤں جوئیہ میں کیے گئے۔
وزارت صحت نے الزام عائد کیا کہ ایمبولینس ٹیموں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا جو طبی امداد فراہم کر رہی تھیں۔
لبنان کے اندرونی سیاسی حالات بھی اس جنگ کے باعث متاثر ہو رہے ہیں۔
لبنانی پارلیمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کو دو سال کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔
یہ انتخابات پہلے مئی میں ہونے تھے لیکن اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ کے درمیان جاری جنگ کے باعث انہیں ملتوی کر دیا گیا ہے۔
پارلیمنٹ کا اجلاس پیر کو اس وقت منعقد ہوا جب اسرائیلی جنگی طیارے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے اوپر پرواز کر رہے تھے۔
اجلاس میں حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک کے سربراہ محمد رعد سمیت دیگر ارکان پارلیمنٹ نے شرکت کی۔














