’’آبنائے ہرمز بند نہیں ہے‘‘ ایرانی وزیر خارجہ کا دعویٰ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بند نہیں، تاہم جنگ کے باعث انشورنس کمپنیوں کے خدشات نے بحری آمد و رفت کو سست کر دیا ہے، انہوں نے اس صورتحال کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرایا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہے اور اسے بند نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جہاز رانی میں سستی کی اصل وجہ انشورنس کمپنیوں کا خوف ہے، جو جنگی حالات کے باعث بڑھ گیا ہے، اور اس صورتحال کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔
عباس عراقچی کے مطابق ’جہاز اس لیے ہچکچاہٹ کا شکار ہیں کیونکہ انشورنس کمپنیاں اس جنگ سے خوفزدہ ہیں، جس کا آغاز امریکا نے کیا، نہ کہ ایران نے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’آزادیٔ جہاز رانی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تجارت کی آزادی کا احترام نہ کیا جائے، اگر ان اصولوں کا احترام نہیں کیا گیا تو پھر اس کی توقع بھی نہ رکھی جائے۔‘
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ نہ کوئی انشورنس کمپنی اور نہ ہی ایران مزید دھمکیوں سے مرعوب ہوگا، اور عالمی برادری کو باہمی احترام کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہوگا۔
بیان کے مطابق غیر جارحانہ ممالک کے جہاز ایرانی حکام کے ساتھ رابطے اور مقررہ ضوابط کی پابندی کے ساتھ محفوظ گزرگاہ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ ایران کے خلاف کسی کارروائی میں ملوث نہ ہوں۔
ایران نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں کسی بھی بدامنی یا خطرے کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے، جنہوں نے ایران کے خلاف جنگ مسلط کر کے خطے کے امن اور عالمی جہاز رانی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان میں بحری سلامتی سے متعلق کسی بھی اقدام میں ایران کے مفادات اور خودمختاری کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ خطے میں دیرپا استحکام کے لیے ضروری ہے کہ فوجی جارحیت کا خاتمہ کیا جائے، کشیدگی کم کی جائے اور ایران کے جائز مفادات کو تسلیم کیا جائے۔












