کشمیری حریت رہنما آسیہ اندرابی کو دہشت گردی کیس میں عمر قید کی سزا
بھارت کی عدالت نے مقبوضہ کشمیر کی کی خاتون رہنما آسیہ اندرابی کو دہشت گردی سے متعلق کیس میں عمر قید جب کہ ان کی دو ساتھیوں صوفی فہمیدہ اور نہیدہ نسرین کو 30،30 سال قید کی سزا سنا دی۔ تاہم عدالت میں ملزمان نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو بے گناہ قرار دیا۔
بھارتی میڈیا انڈیا ٹوڈے کے مطابق نئی دہلی کی ایک خصوصی عدالت نے یہ فیصلہ سنایا۔ تینوں خواتین کو رواں سال جنوری میں ایک کالعدم تنظیم سے وابستگی کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔
یہ مقدمہ دخترانِ ملت نامی تنظیم سے متعلق ہے، جو کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتی رہی ہے۔ اس تنظیم کو 2004 میں بھارتی حکومت نے کالعدم قرار دیا تھا۔
عدالت نے ملزمان کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) اور تعزیراتِ ہند کی مختلف دفعات کے تحت قصوروار ٹھہرایا، جن میں ریاست کے خلاف سازش اور جنگ جیسے الزامات شامل ہیں۔
استغاثہ کے مطابق خواتین ملزمان علیحدگی پسند نظریات کو فروغ دینے اور خطے میں سرگرمیوں کو منظم کرنے میں ملوث تھیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے مقدمات میں کشمیری قیادت کے خلاف سخت اقدامات سے انصاف اور بنیادی حقوق کے حوالے سے سوالات جنم لیتے ہیں۔
یہ مقدمہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری کشیدگی اور سیاسی صورت حال کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں طویل عرصے سے انسانی حقوق اور آزادی اظہار سے متعلق خدشات سامنے آتے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ آسیہ اندرابی کو 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ تب سے زیر حراست تھیں۔












