بیت المقدس: اسرائیلی پولیس نے کیتھولک رہنماؤں کو چرچ میں داخلے سے روک دیا
اسرائیلی پولیس نے مذہبی تہوار ’پام سنڈے‘ کے موقع پر کیتھولک رہنماؤں کو ’چرچ آف ہولی سیپلکر‘ میں داخلے اور عبادت سے روک دیا۔ پام سنڈے پر اس چرچ میں عبادت سے روکنے کو غیر معمولی واقعہ قرار دیا جارہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ صدیوں میں پہلا موقع ہے کہ جب عیسائی برادری کو اس تہوار پر عبادت سے روکا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی پولیس نے کیتھولکس کے مذہبی پیشواؤں کو ’چرچ آف ہولی سیپلکر‘ کی جانب جاتے ہوئے روک دیا گیا۔
بیت المقدس میں کیتھولک چرچ کے مذہبی مرکز ’لاطینی پٹریارکیٹ آف یروشلم‘ نے بیان میں کہا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں صدیوں میں پہلی بار چرچ کے سربراہان پام سنڈے کی عبادت اس چرچ میں ادا نہ کر سکے۔
بیت القدس کے علاقے ’اولڈ سٹی‘ میں واقع یہ چرچ کیتھولک عیسائیوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ جب کہ پام سنڈے عیسائیوں کے مقدس ہفتے کا آغاز ہوتا ہے جو ایسٹر تک جاری رہتا ہے۔
اسرائیل کے اس اقدام پر عالمی رہنماؤں نے بھی سخت ردعمل دیا ہے۔ اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے اس پابندی کو تشویش ناک قرار دیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کے پیچھے کوئی بدنیتی نہیں بلکہ صرف عیسائیوں کے مذہبی رہنما اور ان کے ساتھیوں کی حفاظت مقصود تھی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں عبادت کی اجازت دینے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے پام سنڈے کے لیے خصوصی اجازت کی درخواست بھی مسترد کر دی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ’اولڈ سٹی‘ ہنگامی صورت حال میں امدادی کارروائیوں کے لیے پیچیدہ علاقہ ہے اور بڑے حادثے کی صورت میں انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔














