میشا شفیع اور علی ظفر کی طویل قانونی جنگ: کب کیا ہوا؟

گلوکارہ علی ظفر نے ہراسانی کے الزامات عائد کرنے پر گلوکارہ میشا شفیع کے خلاف ہتکِ عزت کا کیس دائر کیا تھا
شائع 31 مارچ 2026 07:48pm

پاکستان کی شوبز انڈسٹری، قانونی حلقوں اور سول سوسائٹی میں طویل عرصے سے زیرِ بحث رہنے والے علی ظفر اور میشا شفیع کے درمیان ہتکِ عزت کیس کا بالاخر فیصلہ سنا دیا گیا۔ 2018 میں شروع ہونے والی یہ قانونی جنگ تقریباً 8 سال بعد کسی نتیجے پر پہنچی ہے۔

لاہور کی سیشن کورٹ نے منگل کے روز گلوکار علی ظفر کے ہتکِ عزت کے مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے گلوکارہ میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ مقدمہ 2018 میں دائر کیا گیا تھا اور تقریباً 8 سال تک زیرِ سماعت رہا، جس دوران 283 سماعتیں ہوئیں اور 9 ججز تبدیل ہوئے۔

یہ کیس پاکستان کی شوبز انڈسٹری کی دو نمایاں شخصیات کے درمیان ایک طویل اور پیچیدہ قانونی جنگ کے طور پر سامنے آیا، جس نے ملک بھر میں ہراسانی، ہتکِ عزت اور قانونی نظام سے متعلق بحث کو بھی جنم دیا۔

میشا شفیع نے اپریل 2018 میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک بیان میں علی ظفر پر متعدد بار جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا۔ اپنے الزامات میں انہوں نے کہا کہ ’انہیں ایک ایسے شخص کی جانب سے ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا جسے وہ برسوں سے جانتی تھیں اور جس کے ساتھ اسٹیج بھی شیئر کر چکی تھیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ سب کچھ ساتھ اس وقت ہوا جب میں ایک ماں اور بااختیار خاتون بن چکی تھی، اس کے باوجود میں خاموشی توڑی تاکہ دوسری خواتین کو حوصلہ ملے‘۔

اس معاملے کو عالمی سطح پر جاری ’می ٹو‘ (MeToo#) مہم کے تناظر میں پاکستان میں سامنے آنے والا ایک اہم واقعہ قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد شوبز انڈسٹری میں واضح تقسیم پیدا ہوگئی۔

علی ظفر نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے جون 2018 میں لاہور کی سیشن کورٹ میں ایک ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ان پر لگائے گئے الزامات سے ان کی ساکھ، شہرت اور پیشہ ورانہ زندگی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

یہ الزامات سامنے آنے کے بعد علی ظفر کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید، بائیکاٹ مہم اور کئی پراجیکٹس سے محرومی کا سامنا کرنا پڑا۔

اس معاملے پر حقوقِ نسواں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی علی ظفر کے خلاف کھل کر سامنے آئیں۔ ان کی فلم ’طیفا اِن ٹربل‘ کی ریلیز کے موقع پر سینما گھروں کے باہر احتجاج کیا گیا جبکہ مختلف ایوارڈ تقریبات میں انکی نامزدگی پر ساتھی فن کاروں کی جانب سے تقریب کا بائیکاٹ سامنے آیا۔

میشا شفیع کے ساتھ قانونی تنازع اور ہراسانی کے الزامات کی وجہ سے علی ظفر کو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے آفیشل ترانہ گانے سے بھی دور رکھا گیا۔ ابتدائی تین سیزنز کے مقبول ترانے ترانے گانے کے بعد 2020 میں علی ظفر کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔

جب اس سال کا آفیشل ترانہ ’تیار ہیں ریلیز ہوا تو سوشل میڈیا پر کرکٹ شائقین کی جانب سے علی ظفر کی واپسی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔ جواباً علی ظفر نے ’بھائی حاضر ہے‘ کے نام سے اپنا الگ ترانہ ریلیز کیا جو بے حد مقبول ہوا۔

علی ظفر نے اس معاملے پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) سے بھی رجوع کیا اور سائبر کرائم کے تحت مقدمہ درج کروایا، جس میں سوشل میڈیا مہم کے ذریعے ساکھ کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا۔

دوسری جانب میشا شفیع نے پنجاب کی محتسب برائے انسدادِ ہراسانی سے بھی رجوع کیا، تاہم محتسب اور بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے یہ درخواست اس بنیاد پر خارج کر دی کہ دونوں کے درمیان ’آجر اور ملازم‘ کا تعلق ثابت نہیں ہوتا، لہٰذا یہ کیس ورک پلیس ہراسمنٹ کے زمرے میں نہیں آتا۔

ہتکِ عزت کیس کے دوران میشا شفیع اپنے خاندان کے ہمراہ کینیڈا منتقل ہو گئیں۔ میشا شفیع کی عدم موجودگی میں ان کی والدہ اداکارہ صبا حمید کیس کی پیروی کرتی رہیں اور قانونی ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوتی رہیں۔ ان کی عدم موجودگی کے باعث ویڈیو لنک کے ذریعے بیانات اور جرح کا معاملہ بھی زیرِ بحث رہا۔

عدالت میں طویل سماعت، گواہوں کے بیانات اور تفصیلی جرح کے بعد ایڈیشنل سیشن جج نے فیصلہ سناتے ہوئے علی ظفر کے دعوے کو تسلیم کیا اور میشا شفیع پر 50 لاکھ روپے ہرجانہ عائد کیا ہے۔