پاناما لیکس کی دوسری قسط میں 400 پاکستانیوں کے نام منظرعام پر
پاناما لیکس کے آتش فشاں نے ایک بار پھر انکشافات کا لاوا اگل دیا - فائل فوٹواسلام آباد:پاناما لیکس کی دوسری قسط میں 400پاکستانیوں کے نام سامنے آگئے۔
سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے کزن طارق اسلام، عمران خان کے فائنینسر ذلفی بخاری کی بھی آف شور کمپنیز سامنے آگئیں۔
آصف زرداری اور الطاف حسین کے قریبی ساتھی عرفان پوری بھی آف شور کمپنیوں کے مالک نکلے۔
این آر او سے استفادہ کرنے والے سابق ایم ڈی پورٹ قاسم عبدالستار ڈیرو کی بھی 2 آف شور کمپنیاں ہیں۔
پاناما لیکس کے دھماکے کی پہلی بازگشت ابھی تھمی نہ تھی کہ پیپرز کے آتش فشاں نے ایک بار پھر انکشافات کا لاوا اگل دیا۔
آئی سی آئی جے کے رکن صحافی عمر چیمہ نے اپنی رپورٹ میں دعوٰی کیا ہے کہ آف شور کمپنیز کے حوالے سے جاری کردہ نئی فہرست میں سیاستدان ، سابق سرکاری عہدیدار، سابق وزراء، بزنس مین اور شوبز سے وابستہ افراد سمیت 400پاکستانیوں کے نام شامل ہیں۔
ان بڑے ناموں میں عرفان اقبال پوری بھی شامل ہے، جن کے بارے رپورٹ میں دعوٰی کیا گیا ہے 2004 میں نیب نےعرفان پوری کیخلاف پی ایس او میں کرپشن کیخلاف ریفرنس بھی فائل کیا تھا تاہم انہوں نے پلی بارگین کرلی لیکن بارگین کی رقم ادا نہیں کی۔
آف شور کمپنیز کے مالکان کی فہرست میں زلفی بخاری بھی شامل ہیں،رپورٹ کے مطابق زلفی بخاری نے اپنی 2 بہنوں کے ساتھ مل کر آف شور کمپنیز بنائئیں۔
ان کے خاندان کی 6 آف شور کمپنیز ہیں۔زلفی بخاری کے والد واجد بخاری 2008 کے الیکشن کے عبوری سیٹ اپ میں نگراں وزیر تھے۔
جبکہ ان کے ایک چچا پی ٹی آئی کے اٹک سے ایم پی اے ہیں۔
پی ٹی آئی کے علیم خان کا نام بھی فہرست میں شامل ہیں۔پی ٹی آئی کے عبدالعلیم خان سختی سے اپنی آف شور کمپنی کے حوالے سے خبروں کو مسترد کرچکے ہیں۔
لیکن رپورٹ کا دعوٰی ہے کہ علیم خان کا نام بھی فہرست میں شامل ہے۔
طارق اسلام کی بھی لنک انویسٹمنٹ کے نام سے آف شور کمپنی ہے۔شوکت عزیز کے دور حکومت میں وزیرصحت نصیر خان کے بھائی اور بیٹے کی بھی ایٹ ووڈ انویسٹمنٹ کے نام سے کمپنی ہے۔














اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔