لنڈا بازار میں چیزیں سستی نہیں
لپ سٹک کے مختلف رنگوں سے سجی ٹوکریاں اور ان میں اپنی پسند کے شیڈز ڈھونڈتی خواتین، یہ کسی شاپنگ مال کی کاسمیٹک دکان کا منظر نہیں بلکہ اسلام آباد کا سب سے بڑا لنڈا بازار ہے۔خریداری ضرورتاً کی جارہی ہو یا شوق کے تحت، سستی اور معیاری اشیا کسے ناپسند ہوں گی اور پھر اگر وہ برانڈڈ بھی ہوں۔ لنڈا بازار ایسی ہی جگہ ہے جہاں امپورٹڈ لیکن استعمال شدہ سامان سستے داموں مل جاتا ہے۔ اسلام آباد میں ہفتے میں تین روز یہ بازار لگتا ہے جہاں خریداری کے لیے لوگ ارد گرد کے علاقوں سے بھی آتے ہیں۔ عام طور پہ لنڈا بازار کا نام سن کے استعمال شدہ سامان خاص طور پر گرم کپڑوں اور جوتوں کا خیال آتا ہے لیکن وقت کے ساتھ ان بازاروں میں جہاں خریداروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے وہیں انتہائی ضروری اشیا کے ساتھ گھر کی آرائش، سجاوٹ، کھلونے، کاسمیٹکس، الیکٹرانکس، حتیٰ کے فوٹوگرافی کا سامان اور گالف کلبز نے بھی اپنی جگہ بنا لی ہے۔ اس بازار میں ٹیبل لیمپس، گلدانوں اور کچن کے سامان کے ساتھ استعمال شدہ کریموں اور لوشن کا بھی ڈھیر ہے۔ ایک دکان میں کام کرنے والے وقاص بتاتے ہیں کہ لوگ اچھی خوشبو اور برانڈڈ ہونے سے متاثر ہو کر یہ خریدتے ہیں۔ ان بازاروں کو 'عوامی' بازار بھی کہا جاتا ہے لیکن نت نئی اقسام کی اشیا اور ان کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عام آدمی کی دسترس سے دور ہوتی جارہی ہیں۔ بچوں کے پنگھوڑوں سے لے کے پرامز بھی یہاں دستیاب ہیں جن کی قیمتیں دو ہزار سے شروع ہوکے پندرہ ہزار تک ہیں۔ اسلام آباد کے اس بازار میں اپنے بچوں کے ساتھ خریداری کے لیے آنے والی ایک خاتون کا کہنا تھا کہ وہ خاص طور پر کھلونوں کی خریداری کے لیے آئی ہیں لیکن قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔