شائع 05 مارچ 2018 06:47am

پابندی کا شکار ہونے والی 8 مشہور پاکستانی فلمیں

پاکستان میں بھارتی فلموں پر تو پابندی لگتی ہی رہتی ہے، لیکن گزشتہ دور میں ایسا بھی ہوا کہ پاکستان میں ہی پاکستانی فلموں پر پابندی عائد کی گئی۔

٭ جاگو ہُوا سویرا (1959)

مشہور شاعر فیض احمد فیض کی تحریر کردہ پابندی کا شکار بننے والی یہ پہلی پاکستانی فلم تھی۔ جس پر تخریبی سوشلسٹ مواد کی وجہ سے ایوب خان کے دور میں پابندی عائد کردی گئی تھی۔ اس فلم کا پلاٹ سابق مشرقی پاکستان کے غریب مچھیرے کی جدوجہد کے گرد گھومتا ہے۔ سال 2016 میں یہ فلم دوبارہ منظر عام پر آئی اور اسے کینز فلم فیسٹیول میں دکھایا گیا۔

٭ کرتار سنگھ (1959)

یہ ایک پنجابی فلم تھی جو 1947 میں تقسیم ہند کے دوران ہندؤں، مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان تصادم پر بنائی گئی تھی۔ حقیقی واقعات پر مبنی اس فلم پر پابندی اس کی چبھنے والی حقیقت اور ہمدردانہ رویہ رکھنے والے سکھ ہیرو  کے باعث عائد کی گئی۔ لیکن اس فلم کو دیکھنے کے بعد سینسر بورڈ نے اس پر عائد پابندی ہٹا دی اور یہ فلم بہت ہِٹ ہوئی۔ یہ پاکستان کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی ریلیز ہوئی اور بھارتی پنجاب میں 3 سال تک چلی۔

٭ جیبوں ٹھِکے نیّا(1970)

یہ بنگالی فلم تھی جس میں مغربی پاکستان کا مشرقی پاکستان پر قبضہ دکھایا گیا تھا، اور بڑی ہی چالاکی سے یحییٰ خان اور ان کے ساتھی ایوب خان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

٭ انسان اور گدھا(1973)

ذُالفقار علی بھٹو کے دور میں ایک سین کے باعث اس فلم پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس فلم میں ذوالفقار علی بھٹو کےتقریر کرنے کے انداز کو مذاق کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم ایک مہینے بعد اس پر عائد پابندی ختم کردی گئی تھی۔

٭ دی بلڈ آف حسین (1980)

یہ فلم جنرل ضیاء الحق کے دور میں پابندی کا نشانہ بنی، کیونکہ اس میں ان کے اقتدار کی نقشہ کشی کرکے اس پر تنقید کی گئی تھی۔ یہ فلم لوگوں کی نظر میں اس وقت آئی جب اس کی کیسِٹس بِکنا شروع ہوئیں۔

٭ میلہ (1981)

اس فلم پر فوری طور پر پابندی عائد کردی گئی تھی کیونکہ اسے جنرل ضیاء کے دور آمریت پر حملہ تصور کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود اسے برطانیہ کے چینل فور پر دکھایا گیا تھا۔

٭ مولا جٹ (1980)

 ضیاء حکومت کا ماننا تھا کہ یہ فلم پنجاب کے دیہی علاقوں میں بغاوت کا باعث بن رہی ہے، جس کی وجہ سے اس پر پابندی عائد کردی گئی۔ لیکن یہ پابندی زیادہ عرصے تک عائد نہ رہ سکی اور اسے اسکریننگ کی اجازت مل گئی۔

٭ مالک (2016)

جمہوریت اور سول حکمرانوں پر کی گئی تنقید کے باعث نواز حکومت نے اس فلم پر پابندی عائد کی تھی، جسے لاہور ہائی کورٹ نے ختم کردیا۔

Read Comments