نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سیلپ نے ایک تحقیق سے یہ بات واضح کی ہے کہ انسان کو اپنی عمر کے حساب سے نیند پوری کرنی چاہیئے۔انھوں نے اس حوالے سے ایک چارٹ جاری کیا ہے ،جس میں عمر کے حساب سے نیند کا حصول بیان کیا گیا ہے۔
٭ نومولود تا تین مہینے کے بچوں کو دن میں چودہ سے سترہ گھنٹوں کی نیند پوری کرنی چاہیئے ۔
¿٭ چار سے گیارہ مہینے کے بچوں کو بارہ تا پندرہ گھنٹے سونا چاہیئے۔
٭تین تا پانچ سال کے بچے عموماً اسکول جانا شروع ہو جاتے ہیں، لہذا ان کو دس سے تیرہ گھنٹے کی بھرپور نیند لینی چاہیئے۔
٭ چھ تا بارہ سال کے بچے باقاعدہ اسکول جانے لگتے ہیں، ان کا روٹین بھی مصروف ہوجاتا ہے، اس کے علاوہ وہ ٹیوشن اور مدرسے وغیرہ بھی جاتے ہیں۔ اس عمر کے بچوں کو آٹھ سے گیارہ گھنٹے لازمی سونا چاہیئے۔
¿٭تیرہ تا سترہ سال کے بچے تھوڑے بڑے ہونا شروع ہوتے ہیں اور ان کا کام کاج اور پڑھائی سے دل بالکل اکتا جاتا ہے ایسے میں وہ سب سونا چاہتے ہیں۔لیکن اس عمر کے بچوں کو بھی آٹھ سے گیارہ گھنٹے ہی سونا چاہیئے اور دوسری سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لینا چاہیئے۔
٭ اٹھارہ یا پچیس عمر کے لوگوں کو بس سات سے نو گھنٹے سونے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
٭ چھبیس تا چونسٹھ عمر کے افراد بھی سات تا نو گھنٹے سوئیں۔
٭ اس کے علاوہ اس سے بڑی عمر کے افراد سات سے آٹھ گھنٹے تک سوئیں ۔
نیند پوری نہ ہونے کی کیا وجوہات ہوتی ہیں؟
بعض اوقات لوگوں کو سارا دن نیند آتی رہتی ہے اور جب رات کو وہ باقاعدہ سونے لیٹتے ہیں تو ان کی نیند با لکل غائب ہوجاتی ہے۔اس کی بھی چند وجوہات ہیں جوکہ درج ذیل ہیں۔۔
٭ ہوسکتا ہے آپ نے دن بھر کوئی مشقت والا کام نہ کیا ہو۔
٭ ہوسکتا ہے آپ نے دن بھر میں بہت زیادہ کیفین استعمال کیا ہو۔
٭ہوسکتا ہے آپ اپنی غذا پر توجہ نہیں دے رہے ہوں۔
اگر آپ ان تمام چیزوں سے پرہیز کریں تو یقینا آپ اچھی اور بھرپور نیند حاصل کرسکتے ہیں۔ لہذا اچھی نیند کے لیے اپنے روٹین اور اپنی غذا پر خاص توجہ دیں ۔